حضرت علی ترک رفع الیدین
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 8 Average: 4]

حضرت علی سے ترک رفع الیدین  کے اثر حدیث کے ناقابل رد دلائل اور اعتراضات کا علمی جائزہ

حضرت علی سے ترک رفع الیدین  کے اثر حدیث کی تحقیق  اور حضرت علی  سے ترک رفع الیدین پر مروی اثر پر وارد تمام اعتراجات کا علمی جائزہ۔

حضرت علی سے مروی ترک رفع الیدین کے اثر پر ہم ان شاءاللہ ہر طرح کے اعتراضات کا جواب تفصیلی دینگے اور اپنے اضافی دلائل بھی پیش کرینگے حضرت مولا علی ؓ کے اثر ترک رفع الیدین پر۔

حضرت مولا علیؓ سے ترک رفع الیدین کی سند درج ذیل ہے :

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قِطَافٍ النَّهْشَلِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ،’’أَنَّ عَلِيًّا، كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَا يَعُودُ۔

امام ابوبکر بن ابی شیبہؒ روایت کرتے ہیں کہ ان سے وکیع بن الجراح نے اور ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قطاف النہشلی نے اور ان سے عاصم بن کلیب نے اور ان سے ان کے والد (کلیب بن شہاب)  روایت کرتے ہیں کہ  حضرت علی کرم اللہ وجہہ نماز کی پہلی تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا کرتے تھے اس کے بعد (پھر) رفع یدین نہیں کرتے تھے۔

[مصنف ابن  ابی شیبہ ] [شرح معانی الاثار]

مصنف ابن ابی شیبہ (حضرت علیؓ)

اس روایت کی سند صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور یہ بات بھی متفق علیہ ہے کہ اس سند میں غیر مقلدین کے نزدیک بھی کوئی ایسا راوی نہیں ہے کہ جو ضعیف یا احتجاج کے درجہ سے گرا ہوا ہو ۔ بلکہ سارے راوی ثقہ درجہ کے راویان ہیں۔


اس پر سند کے حوالے سے جو اعتراض وارد کیے جاتے ہیں ہم سب سے پہلے انکا جائزہ لیتے ہیں :

پہلا اعتراض جسکو آسمان  و آسمان کے کلابے ملا کر ایسے بنا کر پیش کیا جاتا ہے جیسے امام احمد نے ا س روایت کو موضوع ، باطل یا لا اصل قرار دے دیا ہو جبکہ امام احمد نے ااس روایت کی نفی پر کوئی بھی کلام کیا ہی نہیں سرے سے  فقط انہوں نےاپنے علم کے مطابق یہ اظہار کیا ہے کہ اس روایت کو بیان کرنے میں ابو بکر نھشلی کا تفرد ہے۔

لیکن کیا ابو بکر نھشلی کا تفرد بھی اگر وارد ہوتا تو کیا اسکا تفرد اس بات کا متقاضی ہے ؟

کیا یہ روایت پھر ضعیف ہو جائے گی ؟ بالکل  بھی نہیں بس اس روایت میں انکا تفرد بیان کرنا امام احمد کے اپنے علم کے مطابق تھا اور کچھ بھی نہیں۔

جیسا کہ انکا بیٹا روایت کرتا ہے :

حدثني أبي قال حدثنا وكيع قال حدثنا أبو بكر بن عبد الله النهشلي عن عاصم بن كليب عن أبيه عن علي أنه كان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة ثم لا يعود قال وكان قد شهد معه صفين قال أبي لم يروه عن عاصم غير أبي بكر النهشلي أعلمه

 میرے والد کہتے ہیں مجھے روایت کیا امام وکیع نے وہ کہتے ہیں مجھے بیان کیا امام ابو بکر عبداللہ نہشلی نے نے عاصم کے حوالے سے انکے والد کلیب سے کہ حضرت علی جب نماز شروع کرتے تو رفع الیدین کرتے اور پھر نہ کرتے (رفع الیدین)۔

اور پھر کہا میرے والد نے کہ یہ (کلیب) حضرت علیؓ کے ساتھ تھے صفین کی جنگ میں اور پھر میرے والد نے کہا یہ روایت حضرت عاصم سے میرے علم کے مطابق ابو بکر نھشلی کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا

[العلل برقم: 717]

 معلوم ہوا اس روایت میں امام احمد نے کوئی ایسی علت بیان نہیں کی جسکے سبب انہوں نے اس روایت کا انکار کیا بس راوی کا تفرد بیان کیا اور ثقہ راوی کے تفرد میں کیا چیز مانع ہے ؟

نہ ہی انکے نزدیک اس روایت کے متصل ہونے میں کوئی اشکال تھا ۔جیسا کہ خود وہ کہتے ہیں امام کلیب حضرت علیؓ کے ساتھ تھے جنگ صفین کے موقع پر اور نہ ہی انہوں نے ابو بکر نھشلی کے تفرد کے بعد ابو بکر نھشلی کے حفظ پر کلام کیا بلکہ انکے نزدیک تو یہ راوی ثقہ راوی ہے  امام احمد نے ابو بکر نھشلی متعدد بار اسکو ثقہ قرار دیا ہے۔

 جیسا کہ انکا بیٹا اسی کتاب میں دو مقام پر اس راوی کے بارے کلام نقل کرتے ہوئے روایت کرتےہیں : 

سألته (يعني أباه) عن أبي بكر النهشلي. فقال: هذا أبو بكر بن عبد الله بن قطاف النهشلي، كوفي، ثقة.

میں نے اپنے والد احمد سے سوال کیا ابو بکر نھشلی کے بارے تو انہوں نے کہا یہ ابو بکر بن عبداللہ بن قطاف نہشلی ہے یہ کوفی ہے اور ثقہ ہے

 [العلل: 4371]

اسی طرح امام احمد کے دوسرے تلمیذ صاحب سنن امام ابی داود روایت کرتےہیں :

قلت لأحمد: أبو بكر النهشلي؟ قال: ثقة.

میں نے امام احمد بن حنبل سے ابو بکر نھشلی کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا یہ ثقہ ہے

[سؤالاته ابی داود للاحمد:415]

تو حضرت علی سے مروی ترک رفع الیدین کی حدیث میں جب امام احمد کے نزدیک ابو بکر نھشیلی ثقہ راوی ہے اور انہوں نے اگر فقط اپنے علم کے مطابق ابو بکر کا تفرد بیان بھی کر دیا تو اس میں کونسی بڑی بات ہے ؟


 کیا واقعی اس مذکورہ اثر  حضرت علی سے ترک رفع الیدین کی روایت میں ابو بکر نھشیلی کا تفرد ہے امام عاصم سے روایت کرنے میں ؟

 اس پر امام دارقطنی علیہ رحمہ کا کلام بالکل واضح موجود ہے جیسا کہ وہ مذکورہ روایت کے تحت کہتے ہیں :

  وسئل عن حديث كليب بن شهاب، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم؛ أنه كان يرفع يديه في أول الصلاة ثم لا يعود.فقال: هو حديث يرويه أبو بكر النهشلي، ومحمد بن أبان ”وغيرهما”، عن عاصم بن كليب.

 امام دارقطنی سے سوال ہوا حضرت کلیب بن شہاب کی حضرت علیؓ کے حوالے نبی اکرمﷺ سے منسوب مرفوع روایت کے بارے جس میں ہے کہ وہ نماز کے شروع میں رفع الیدین کرتے اور پھر ایسا فعل نہ کرتے۔

تو امام دارقطنی کہتےہیں :

یہ حدیث روایت کی ہے ابو بکر نھشلی اور (انکے متابع) محمد بن ابان اور (ان دونوں کے متابع) دوسرے افراد نے عاصم بن کلیب سے۔

(نوٹ: یہاں امام دارقطنی نے امام احمدکے احتمال کا رد کر دیا جو انہوں نے کہا تھا کہ میرے علم کے مطابق ابو بکر کے علاوہ کوئی روایت نہیں کرتا لیکن امام دارقطنی نے ابو بکر کا ایک متابع  محمد بن ابان اور پھر ان دونوں کے متابع دوسرے افراد کا بھی ذکر کیا ہے )

 اسکے بعد امام دارقطنی کہتےہیں:

واختلف عن أبي بكر النهشلي، واسمه لا يصح، فرواه عبد الرحيم بن سليمان عنه، عن عاصم بن كليب، عن أبي، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم.

ووهم في رفعه.

 اور امام ابی بکر نھشلی سے روایت کرنے والوں میں اختلاف ہوا ہے انکا نام صحیح نہیں ہے  اور پھر روایت کیا ہے ۔عبدالرحیم نے ان(ابو بکر) سے عاصم کے طریق سے انکے والد سے حضرت علی عن نبی کریمﷺ کا ذکر کر دیا۔اور یہ انکا وھم (خطاء) ہے۔

 پھر امام دارقطنی کہتےہیں:

وخالفه جماعة من الثقات، منهم: عبد الرحمن بن مهدي، وموسى بن داود، وأحمد بن يونس، وغيرهم، عن عاصم،

فرووه عن أبي بكر النهشلي موقوفا على علي، وهو الصواب.

وكذلك رواه محمد بن أبان، عن عاصم موقوف.

 اور جبکہ اس (عبد الرحیم) کی مخالفت کی ہے ثقات کی ایک جماعت نے جن میں

  • امام ابن مھدی
  • امام موسی بن داود
  • امام احمدبن یونس

اور انکے علاوہ رواتہ جو یہ روایت عاصم کے طریق سے بیان کرتےہیں

اور پھر ابی بکر نھشیلی نے بھی اسکو حضرت علیؓ سے ہی (موقوف) روایت کیا ہے اور یہی بات ٹھیک ہے (کہ یہ روایت موقوف  یعنی حضرت علی کا اپنا عمل ہے)

اور

ایسے ہی ہی محمد بن ابان بھی عاصم سے (حضرت علیؓ سے) موقوف ہی روایت کرتا ہے

 [العلل للدارقطنی: 457]

نوٹ: یہاں امام دارقطنی نے  ابو بکر نھشلی کے ایک شاگرد کا وھم ثابت کیا کہ اس نے حضرت علیؓ سے مذکورہ روایت جو کہ انکا اپنا عمل تھا اسکو نبی پاکؓ کی طرف منسوب کر دیا ۔جبکہ اس راوی کے مخالف ثقات کی جماعت جو ابو بکر نھشلی سے اسکو عاصم سے روایت کرتی ہے جن میں ابن مھدی ، احمد بن یونس وغیرہ ہیں وہ موقوف روایت کرتےہیں۔

اور پھر ابو بکر نھشلی (کی بھی غلطی نہیں ) وہ بھی اسکو موقوف ہی روایت کرتےہیں

اور ابو بکر کی طرف ایک اور راوی محمد بن ابان بھی اسکوموقوف روایت کرتےہیں)

تو اس میں تو ابو بکر نھشلیی کا ایک متابع ابن عبان اور دگیر رواتہ کا تذکرہ ”وغیرہم” سے کیا یعنی ان دو کے علاوہ بھی عاصم سے روایت کرنے والے رجال تھے۔تو تفرد کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا اور نہ ہی ابن ابان جو کہ ضعیف ہے اسکا ابو بکر نھشلی کے متابع ہونے میں کوئی تفرد ہے بلکہ ان دونون کے متابع وہ رواتہ ہیں جنکا تذذکرہ امام دارقطنی نے ”وغیرہم” کہہ کر کیا ہے ۔  

 امام دارقطنی نے جو آخری نام محمد بن ابان کا لیا ہےاسکاطریق امام محمدنے الحجہ علی اہل مدینہ میں ذکر کیا ہےجیسا کہ امام محمد روایت کرتےہیں :

اخبرنا أبو بكر بن عبد الله النهشلي عن عاصم بن كليب الجرمي عن ابيه وكان من أصحاب علي بن أبي طالب رضي الله عنه (أن علي بن أبي طالب كرم الله وجهه) كان يرفع يديه في التكبيرة الأولى التي يفتتح بها الصلاة ثم لا يرفعهما في شئ من الصلاة

 اور ابو بکر نھشلی کا متابع محمد بن ابان کو بھی اسی روایت کے ساتھ ذکر کیا امام محمد نے :

اخبرنا محمد بن ابان بن صالح عن عاصم بن كليب الجرمي عن ابيه قال رايت علي بن ابي طالب رضي الله عنه رفع يديه في التكبيرة الاولى من الصلاة المكتوبة ولم يرفعهما فيما سوى ذلك

[الحجة على أهل المدينة: 96 97]

 تو امام احمد کا جو احتمال تھا وہ تو بالکل اڑ گیا مضبوط دلائل کے مقابل کہ ابو بکر نھشلی کا تفرد ہے انکے لحاظ سے وہ احتمال غلط ثابت ہوگیا!!!!!

اور حضرت مولا علیؓ کا یہ عمل بالکل ثابت اور صحیح ہے !

نوٹ: کسی راوی کا تفرد ختم ہونے کے لیے شرط ہے کہ اسکے علاوہ کوئی اور راوی چاہے وہ

مجہول ہو

صدوق ہو

یا

ضعیف ہو اسکے متابع ہو جانے سے راوی کاتفرد ختم ہو جاتا ہے


 لیکن ہم نے ایک حنبلی مجہول کی تحریر دیکھی جو اجہل  لکھتا ہے :

 أبو بكر النهشلي کی محمد بن أبان نے متابعت کی ہے۔ یہ دارقطنیؒ نے لکھ دیا۔

ہمارا جواب :

محمد بن ابان کون؟

محمد بن حسن شیبانی (صاحب ابی حنیفہ) فرماتے ہیں:

أخبرنا محمد بن أبان بن صالح، عن عاصم بن كليب الجرمي، عن أبيه، قال: "رأيت علي بن أبي طالب رفع يديه في التكبيرة الأولى من الصلاة المكتوبة، ولم يرفعهما فيما سوى ذلك”.

(الحجة على أهل المدينة ٩٥/١)

"محمد بن ابان بن صالح الجعفی الکوفی” کا حال ملاحظہ فرمائیں۔

اسکے بعد یہ محمدبن ابان کی تضعیف کے اقوال شروع کر دیتا ہے جبکہ اس کو اصول حدیث کا یہ بنیادی اصول بھی معلوم نہیں کہ راوی کے تفرد ختم کرنے کے لیے اسکے علاوہ اسکے جیسا ، یا اس سے بہتر یا اس سے بھی ضعیف کا تفرد آجائے تو تفرد کی شرط ٹوٹ جاتی ہے !۔اور محمد بن ابان کوئی ایسا راوی نہیں جو متابعت مین قبول نہ ہو بلکہ اس پر ائمہ کی تصریح ہے کہ اسکی روایات لکھی جائیں گی اور محدثین کا ضعیف راوی کی روایات لکھنے کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ ایسا راوی کسی ثقہ یا صدوق راوی کے متابع بن کر اسکی روایت کو مذید تقویت بخشتا ہے

 جیسا کہ ائمہ کا کلام اس راوی کے بارے درج ذیل ہے :

متشدد امام  ابی حاتم فرماتے ہیں :

نا عبد الرحمن قال سألت ابى عن محمد بن أبان بن صالح فقال ليس هو بقوى الحديث يكتب حديثه على المجاز ولا يحتج به بابة حماد بن شعيب الحمانى

 امام ابن ابی حاتم فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے محمد بن ابان بن صالح کے بارے پوچھا تو فرمایا کہ یہ قوی ضبط والا نہ تھا لیکن اسکی روایت لکھی جائے (متابعت و شواہد میں ) لیکن اس سے (منفرد ہونے میں ) احتجاج نہیں کیا جائے گا

[الجرح والتعدیل]

امام ابن عدی  الکامل میں اسکے بارے فرماتے ہیں کہ :

محمد بن أبان بن صالح كوفي

قال الشيخ: ومحمد بن أبان له غير ما ذكرت من الحديث وفي بعض ما يرويه نكره، لا يتابع عليه ومع ضعفه يكتب حديثه.

محمد بن صالح کی میں نے روایت ذکر کی ہے اور بعض روایات میں اسکی نکارت ہے اسکے علاوہ کوئی اسکی متابعت نہیں کرتا  لیکن یہ ضعیف ہے اسکی روایت لکھی جائے گی (شواہد و متابعت میں )

[الکامل ابن عدی :1631]

 تو اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ امام محمد بن الحسن کا شیخ  محمد بن صالح کی روایت شواہد و متابعت میں قبول ہوتی ہے اور مذکورہ روایت میں یہ ثقہ راوی ابو بکر نھشلی کا متابع ہے تو جو اشکال وارد ہو سکتا تھا کہ ابو بکر سے شاید خطاء ہوئی ہو تو وہ بھی رفع ہو گیا !!!!

 اور امام دارقطنی نے ابو بکر نھشلی و ابان کے علاوہ دیگر رواتہ کو بھی متابع کہہ کر بیان کیا ہے۔

 نوٹ: امام دارقطنی نے محمد بن ابان کو متابع بیان کرکے اسکے ضعف کا ذکر نہیں کیا کیونکہ یہاں وہ ابو بکر کی متابعت کر رہا تھا۔اور پھر محمد بن ابان کو اکیلا متابع قرار نہیں دیا ابو بکر کا بلکہ پھر دیگر رواتہ کا بھی ذکر کیا ”وغیرہم” کے ساتھ  تو اس پر حنبلی کا محمد بن ابان کی تضعیف کو ایک ٹانگ پر ناچ ناچ کر بیان کرنا فضول ہے۔


 پھر لکھتا ہے :

رہا امام دارقطنی رحمہ اللہ کا علل میں صواب کہنا تو وہ مرفوع اور موقوف کی بحث تھی ناکہ روایت کے اثبات کی۔ یہ متقدمین کے منہج سے ناواقفیت کی بین علامت ہے۔


 اب یہ حدیث کے علل کا قتل عام ہے اور کچھ نہیں ہے یعنی جو ثقات کی جماعت بقول امام دارقطنی حضرت علی سے موقوف انکا اپنا عمل بیان کر رہی ہے وہ روایت ٹھیک ہے۔

تو اس سے مراد امام دارقطنی کا اس روایت کا اثبات نہ تھا تو پھر وہ کیا تھا ؟ یعنی جب موقوف علت متعین ہو گئی پھر اس روایت میں دوسری ایسی کیا علت خفی تھی جسکو امام دارقطنی بیان نہ کیا اور وہ وہابیہ  کو ملی تھی وہ بھی تو لکھنا تھا !!!

 اب اسکا رد امام دارقطنی سے فقط ایک مثال دیکر سمجھاتے ہیں اور یہ مثال بھی عاصم بن کلیب  کی حدیث کے تعلق سے ہے!

کہ جو انکے اندھے مقلد بھکت ہیں جنہوں نے خود تو کبھی علل کی کتب کا منہ نہیں دیکھا انکو بھی سمجھ لگ جائے کہ انکے شیخ اکبر علل سے کتنے سو کلومیٹر ابھی دور ہیں

 امام دارقطنی سے مثال!

ایک روایت کے تحت ان سے سوال ہوا

 وسئل عن حديث أبي بردة بن أبي موسى، عن علي: نهاني النبي صلى الله عليه وسلم أن أتختم في الوسطى والتي تليها، وقال لي: قل: اللهم إني أسألك السداد والهدى … الحديث.

فقال: هو حديث يرويه عاصم بن كليب، عن أبي بردة.

حدث به عنه شعبة، وسفيان الثوري، وابن إدريس، وأبو الأحوص، وأبو عوانة، وبشر بن مفضل، وعلي بن عاصم.

ان سے سوال ہوا حضرت بریدہ بن ابی موسی کی حدیث کے بارے جو وہ حضرت علی سے روایت کرتےہیں :

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا: منع کیا مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انگلی میں یا اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے اور اشارہ کیا بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کی طرف ۔۔۔۔الخ

تو امام دارقطنی نے کہا اس حدیث کو عاصم بن کلیب روایت کرتے ہیں ابی بریدہ سے

اور اسکو ان سے روایت کرنے والوں میں

امام شعبہ                                            

امام سفیان ثوری

امام ابن ادریس

امام ابو الاحوص(نوٹ امام ابو احواص سے مذکورہ روایت امام مسلم نے تخریج کی ہے)

ابو عوانہ

اور علی بن عاصم وغیرہ ہیں

پھر امام دارقطنی کہتےہیں :

 وقال سفيان بن عيينة: عن عاصم بن كليب، عن أبي بكر بن أبي موسى.

وقال خالد الواسطي، ومحمد بن فضيل، عن عاصم بن كليب، عن أبي بردة، عن أبي موسى، عن علي.

ووهما في قولهما: أبي موسى، لأن أبا بردة سمع هذا الحديث من علي، وأبو موسى حاضر، ذلك بين أبو عوانة، ذلك في روايته عن عاصم بن كليب.

 اور پھر  سفیان نے اسکو عاصم بن کلیب سے ابو بکر بن ابی موسی کے زریعہ روایت کیا

اور خالد واسطی ،

محمد بن فضیل  نے اسکو عاصم بن کلیب سے ابی بردہ کے طریق سے ابی موسی پھر عن علی سے روایت کیا ہے۔

جبکہ انکو اس طریق میں وھم ہوا ہے ابو موسی کہنے  میں  جبکہ یہ ابو بردہ نے یہ حدیث حضرت علی سے سننے والون میں سے تھے ۔ اور ابو موسیٰ فقط حاضر تھے اس مجلس میں

اور ایسے ہی ابو عوانہ نے عاصم سے روایت کیا ہے۔

 اسکے بعد امام دارقطنی اس روایت کا ایک اور غلط طریق بیان کرتےہیں :

 وقال الوليد بن أبي محمد، عن عاصم بن كليب، عن أبي بردة، عن أبيه، عن علي.

ووهم، والصواب عن أبي بردة، عن علي.

 اور ولید نے عاصم سے اس طریق کو ابی بردہ سے (اضافہ کرتےہوئے انکے والد ) کے زریعہ حضرت علی سے روایت کیا ہے

اور یہ بھی انکا وھم ہے جبکہ ”صواب” یعنی ٹھیک سند یوں ہے ابی بردہ عن علی ۔۔۔

 پھر امام دارقطنی اسی مذکورہ روایت کا تیسرا غلط طریق سند نقل کرتےہیں :

ورواه نصر بن علي، عن شيخ له عبيد الله بن أبي المغيرة، عن عاصم بن كليب، عن أبيه، عن علي.

ووهم فيه أيضا، والصواب قول من قال: عن عاصم بن كليب، عن أبي بردة، عن علي.

 اور روایت کیا ہے نصر نے اپنے شیخ عبیداللہ بن ابی مغیرہ سے وہ عاصم سے (وہ ابی بریدہ کی بجائے عاصم ) کے والد کے طریق سے علی سے بیان کیا ہے۔

اور ان سے بھی وھم ہوا ہے اور ”صواب” ٹھیک قول جو ہے سند کا وہ ہے عاصم بن کلیب و ابی بردہ سے وہ حضرت علی سے روایت کرتےہیں۔

 اسکے بعد صحیح طریق جو ہے یعنی ”ابی بردہ عن علی” اس صحیح طریق سند کو بیان کرنے والے مزید راویان کا تذکرہ کرتےہیں جن میں متروک و صدوق رواتہ بھی ہیں

جیسا کہ کہتےہیں :

وكذلك رواه محمد بن جحادة، وجابر الجعفي، عن أبي بردة، عن علي.

اور ایسے ہی محمد بن حجادہ اور جابر جعفی (متروک) بھی ابی بردہ عن علی (کے صحیح سند طریق) سے روایت کرتا ہے

[العلل للدارقطنی 492]

معلوم ہوا کہ علل کے ناقدین کے نزدیک بھی یہ بات قابل غور نہیں رہتی کہ جو ثقات صحیح طریق سند بیان کریں۔ اور انکے ساتھ ثقات کی جماعت کے ساتھ اگر متروک روای بھی آجائے تو اسکو بھی شامل کرتےہیں۔ کیونکہ جمہور کا موافق ہونا اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ متروک نے بھی اسکو بالکل ٹھیک بیان کیا ہے!!یسے ہی ابو بکر نھشلی جو کہ ثقہ اور صحیح مسلم کا احتجاج بہ راوی ہے اسکا متابع ضعیف محمد بن ابان کا آنا اس بات کا متقاضی ہے کہ یہ ابو بکرنشھلی کو کوئی غلطی ہوئی ہی نہیں اگرچہ امام احمد نے اسکے تفرد پر احتمال کیا !


 اب جبکہ جو روایت امام دارقطنی نے صواب کہہ کر فیصلہ دے دیا جبکہ یہ روایت صحیح مسلم کی تھی تو کیا امام دارقطنی نے صواب سے مرواد اثبات حدیث نہیں مراد لیا تھا ؟

یہ ہے ان اجہل لوگوں کا حال!!!

اور کیا کلیب بن شھاب حضرت علی سے انکا عمل ترک رفع الیدین بیان کرنے والا اکیلا راوی ہے ؟

بالکل نہیں بلکہ ان کے ساتھ

  • امام ابو اسحاق
  • امام شعبی

 جو حضرت مولا علی کے شاگردوں میں سے ہیں اور حضرت علی کے خطبہ میں شامل ہونے اور انکے پیچھے نماز پڑھنے والوں میں سے تھے انکا بھی یہی عمل تھا۔

امام ابو اسحاق کا حضرت علی کو دیکھنے اور انکے خطبہ سننے کی تصریحات!

 جیسا کہ امام ابن ابی لدنیا روایت کرتےہیں امام ابو اسحاق سے :

 حدثنا أبو موسى، نا عبد الرحمن بن مهدي، نا سفيان، عن أبي إسحاق، قال: «رأيت عليا رضي الله عنه، أبيض الرأس واللحية» . قال سفيان: أو ذكر أحدهما

 امام ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے حضرت علی کو سفید سر اور سفید داڑھی والا دیکھا

[الآحاد والمثاني: 153،وسندہ صحیح]

 پھر دوسری روایت لاتے ہیں :

 حدثنا محمد بن المثنى، نا يحيى بن سعيد، نا إسماعيل، عن الشعبي، قال: «رأيت عليا رضي الله عنه، أبيض الرأس واللحية قد أخذت ما بين منكبيه أصلع على رأسه زغيبات»

امام شعبی کہتےہیں میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کا سر اور داڑھی سفید تھی جو ان کے کندھوں کے درمیان تھی، (سر درمیان سے)گنجا اور(سر کے اطراف سے) بال تھے۔

[ایضا برقم: 154، وسندہ صحیح]

اس سے یہ معلوم ہوا کہ امام ابو اسحاق و امام شعبی حضرت علی کے خطبہ و نمازون میں موجود تھے اور اس وقت سمجھ بوجھ والے تھے جیسا کہ اس خطبے کے دوران امام ابو اسحاق نے اپنے والد کے الفاظ بھی بیان کیے۔

جیسے ایک جگہ امام ابو اسحاق سے تصریح بھی ملتی ہے :

 حدثنا علي بن عبد العزيز، ثنا أبو نعيم، ثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي إسحاق، قال: رأيت عليا رضي الله عنه، قال: قال لي أبي: يا عمرو فانظر إلى أمير المؤمنين «فلم أره خضب لحيته، ضخم الرأس»

امام ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے حضرت علیؓ کو دیکھا اور مجھ سے میرے والد نے کہا اے عمرو! دیکھو یہ امیر المومنین ہیں اور میں نے انکی داڑھی کو خضاب میں نہ دیکھا اور انکا سر بڑا تھا

[المعجم الكبير: 152 وسندہ حسن]

 حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا يوسف بن يعقوب الصفار، ثنا حمد بن خالد الخياط، عن ابن أبي ذئب، عن سفيان الثوري، عن أبي إسحاق، قال: «رأيت عليا رضي الله عنه على المنبر أبيض الرأس واللحية»

امام ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے حضرت علیؓ کو منبر (پر خطاب کرتےہوئے ) دیکھا اور آگے راویت ویسے ہے

[المعجم الكبير، برقم: 154]

اب چونکہ امام ابو اسحاق نے حضرت مولا علی کا خطبہ سنا یعنی پھر انکے پیچھے نماز بھی ادا کی اور اس وقت انکی عمر 7 سال کے قریب تھی  !

جیسا کہ امام ذھبی علیہ رحمہ امام ابو اسحاق کے ترجمہ  میں لکھتےہیں :

قَالَ: وُلِدْتُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلاَفَةِ عُثْمَانَ، وَرَأَيْتُ عَلِيَّ بنَ أَبِي طَالِبٍ يَخطُبُ.

ابو اسحاق نے کہا میں حضرت عثمان کی خلافت کے ختم ہونے سے دو سال پہلے پیدا ہوا اور میں نے حضرت علی کو خطبہ دیتے دیکھا

[سیر اعلام النبلاء] 

اور اسی طرح امام شعبی بھی حضرت علی کے تلامذہ میں سے ہیں انکا خطبہ سننے اور انکے پیچھے نماز پڑھنے والوں میں سے ہیں

حدثنا محمد بن المثنى، نا يحيى بن سعيد، نا إسماعيل، عن الشعبي، قال: «رأيت عليا رضي الله عنه، أبيض الرأس واللحية قد أخذت ما بين منكبيه أصلع على رأسه زغيبات»

امام شعبی کہتےہیں میں نے حضرت علیؓ کو دیکھا انکی داڑھی گھنی تھی جو دو کندھوں کے درمیان تھی اور انکے سر پر بال تھے

[الآحاد والمثاني: 154، وسندہ صحیح]

اور انکے بارے امام ذھبی لکھتےہیں:

قال لي أبو إسحاق: الشعبي أكبر مني بسنة أو سنتين

قلت: وإنما ولد أبو إسحاق بعد سنة اثنتين وثلاثين.

وقال محمد بن سعد : هو من حمير، وعداده في همدان.

قلت: رأى عليا -رضي الله عنه- وصلى خلفه.

ابو اسحاق سے منسوب ہے کہ وہ کہتے ہیں شعبی مجھ سے ایک یا دو سال بڑا ہے

امام ذھبی کہتے ہیں بلکہ میں کہتا ہوں امام ابو اسحاق ان سے 32 سال چھوٹے ہیں

اور میں کہتا ہوں کہ انہوں نے حضرت علیؓ کو دیکھا اور انکے پیچھے نمازیں بھی پڑھی

[سیر اعلام النبلاء]

اب چونکہ امام ابو اسحاق حضرت علی سے خطبہ سننے اور نماز پڑھنے والوں میں سے تھے تو انکا ہی فرمان ہے کہ :

 حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابُ عَلِيٍّ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، قَالَ وَكِيعٌ،، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ»

امام وکیع اور امام ابو سامہ امام شعبہ وہ ابی اسحاق السبیعی وہ فرماتے ہیں :

کہ حضرت عبداللہ بن مسعوؓ اور حضرت مولا علی علیہ السلام کے اصحاب  نماز کے شروع کے علاوہ رفع الیدین نہ کرتے تھے ، اور وکیع نے ان الفاظ سے کہا کہ پھر رفع الیدین نہ کرتے تھے

[مصنف ابن ابی شیبہ2446، وسندہ جید ]

چونکہ یہ حضرت علیؓ کے پیچھے بھی نمازیں ادا کرنے والے تھے اور اصحاب حضرت علیؓ کے پیچھے بھی تو اسی لیے ابو اسحاق نے عمومی طور پر اصحاب علیؓ کو ترک رفع الیدین کا قائل بتایا ہے جن میں کلیب بن شھاب بھی آتے ہین

اور جس سے ابو بکر نھشلی کی روایت کو بطور متن بھی تقویت ملتی ہے

اوریہی وجہ ہے کہ

حضرت ابو اسحاق و شعبی ترک کے قائل تھے۔

جیسا کہ مروی ہے :

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: «وَرَأَيْتُ الشَّعْبِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَأَبَا إِسْحَاقَ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ»

کہ میں نے امام الشعبیٰ ، امام ابراہیم النخعی اور امام ابو اسحاق السبیعی کو دیکھا  کہ وہ کہیں بھی رفع الیدین نہ کرتے نماز میں سوائے افتتاح کے

[مصنف ابن ابی شیبہ وسندہ صحیح]


خلاصہ تحقیق!

پس ابو بکر نشھلی جنکی متابعت محمد بن ابان اور امام دارقطنی کے  اور رواتہ نے بھی کی ہے ۔اور یہی عمل حضرت علی کے پیچھے نمازیں پڑھنے والے امام شعبی اور حضرت علی کا خطبہ سننے والے امام ابو اسحاق کا تھا اور انکے بقول تمام اصحاب مولا علیؓ کاتھا۔جو کہ اس یقین کو کامل کرنے کے لیے کافی ہے کہ مولا علیؓ ترک رفع الیدین کے ہی قائل تھے اور یہی انکے اصحاب کا عمل تھا۔

تحقیق:اسد الطحاوی

نوٹ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ترک رفع الیدین کے عمل کی تحقیق کے لیے مذکورہ مقالہ پڑھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے