حضرت علی علیہ السلام کی سبقتیں ایک منکر روایت کی تحقیق

حضرت علی منکر و ضعیف روایت
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حضرت علی علیہ السلام کی سبقتیں ایک منکر روایت کی تحقیق

حضرت علیؓ کے فضائل میں بہت سے منکرات و موضوع اور ضعیف مروایات جو عقائد اہلسنت کے خلاف ہیں گردش کرتی ہوئی اکثر نظر آتی رہتی ہیں جن میں سے ایک درج ذیل ہے۔

کوئی مصوف لکھتا ہے:

مولا علی المرتضی علیہ السلام کی افضلیت کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام باقیوں سے سبقت لے جانے والوں میں سے ہیں، بلکہ آپ تو اول مسلمان اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اول نماز ادا کرنے والے ہیں، آپکی افضلیت کی وجوہات میں سبقت کی وجہ یہ بھی شامل ہے۔

امام محمد بن عمرو البختری الرزازؒ (المتوفی 339ھ) فرماتے ہیں:

حدثنا محمد بن عمرو، قال: حدثنا محمد بن عبد الملك الدقيقي، قال: حدثنا يزيد بن هارون، قال: أخبرنا فطر، قال: سمعت أبا الطفيل يقول: قال بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم: لقد كان لعلي بن أبي طالب من السوابق ما لو أن سابقة منها بين الخلائق لوسعتهم خيرا

سیدنا ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ کرام کہتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالبؑ کے پاس ایسی سبقتیں ہیں جن میں سے ایک سبقت بھی مخلوق کے درمیان تقسیم کی جائے تو وہ ان سب کی خیر کیلیے وسیع ہوجائے۔

(مجموع فيه مصنفات أبي جعفر ابن البختري: صفحہ 197 رقم 166،)


الجواب ( اسد الطحاوی)

حضرت علیؓ کے فضائل میں یہ روایت متن کے اعتبار سے منکر و باطل ہے کیونکہ اس میں باقی انبیاء کی بے ادبی ثابت ہوتی ہے ۔کیونکہ روایت کا متن کہ انکی ایسی سبقتوں میں سے ایک سبقت مخلوق میں تقسیم کی جائے

اور قرآن و سنت کے مطابق انبیاء بھی اللہ کی مخلوقات میں سے آتے ہیں تو فقط حضرت علیؓ کی ایک سبقت ساری مخلوق میں بانٹی جائے تو وہ مخلوق کے لیے خیر ہو جائے گی!!

یہ روایت صاف صاف بتا رہی ہے کہ یہ ایک رافضی کی تیار شدہ کہانی ہے!

سند پر تحقیق:

حضرت علیؓ کی فضیلت پر مبنی مذکورہ روایت کی سند میں ایک رافضی راوی فطر بن خلیفہ ہے۔اسکی توثیق امام ابن معین، امام احمد ، امام نسائی ، امام یحیی وغیرہ نے کی ہے ۔لیکن اس پر جرح مفسرثابت ہے کیونکہ جنہوں نے توثیق کی ہے انہوں نے اسکو فقط شیعہ بتایا ہے ۔

مثلا:

سَأَلْتُ أَبِي عَنْ فِطْرٍ، فَقَالَ: ثِقَةٌ، صَالِحُ الحَدِيْثِ، حَدِيْثُه حَدِيْثُ رَجُلٍ كَيِّسٍ، إِلاَ أَنَّهُ يَتَشَيَّعُ.

امام احمد کہتے ہیں کہ یہ ثقہ و صالح الحدیث ہے ۔ اور اسکی حدیث ایک سمجھدار راوی کی حدیث ہے لیکن اس میں شیعت تھی

[موسوعہ اقوال احمد]

وَقَالَ أَحْمَدُ العِجْلِيُّ: ثِقَةٌ، حَسَنُ الحَدِيْثِ، فِيْهِ تَشَيُّعٌ يَسِيْرٌ.

امام عجلی کہتے

ہیں یہ ثقہ و حسن الحدیث ہے اس میں قلیل شیعت کا عنصر تھا

[الثقات للعجلی]

لیکن جن ناقدین کو اس راوی کے رفض پر دلائل ملے انہوں نے اس پر جرح کی اور اسکی روایات کو ترک کیا ہے ۔

اس راوی کا مسلہ یہ ہے کہ یہ صحابہ کی توہین پر مبنی روایات بیان کرتا تھا خاص کر حضرت عثمانؓ کے تعلق سے۔

جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی نقل کرتے ہیں:

وقال بن أبي خيثمة عن قطبة بن العلاء تركت حديثه لأنه روى أحاديث فيها إزراء على عثمان

ابن خیثمہ کہتے ہیں قطبہ بن علاء کے حوالے کہ میں نے اسکی بیان کردہ روایات کو ترک کر دیا یہ ایسی روایات بیان کرتا تھا جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی توہین ہوتی تھی۔

[ھدی الساری ص ۴۳۵]

امام عقیلی روایت کرتے ہیں:

حدثنا أحمد بن علي، حدثنا عمرو بن هشام الحراني قال: سمعت أبا بكر بن عياش يقول: ما تركت الرواية عن فطر، إلا لسوء مذهبه

امام ابو بکر بن عیاش کہتے ہیں کہ میں نے اسکی روایات کو ترک کر دیا اسکے برے مذہب (یعنی رافضیت) کی وجہ سے

[الضعفاء الکبیر برقم: ۱۵۲۱وسندہ صحیح ]

حدثنا عبد الله قال: سمعت أبي يقول: كان فطر عند يحيى ثقة، ولكنه كان خشبيا مفرطا

عبداللہ اپنے والد احمد سے روایت کرتا ہے کہ یہ فطر راوی ثقہ ہے امام یحییٰ کے نزدیک لیکن یہ انہتاء پسند   فرقہ سے تھا۔

[الضعفاء الکبیر برقم: ۱۵۲۱وسندہ صحیح ]

حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا العباس بن محمد قال: سمعت أحمد بن يونس ، فأمر وأدعه مثل الكلب

امام احمد بن یونس کہتے ہیں میں  اسکے قریب سے گزرا تو اسکو کتے کی طرح نظر انداز کیا

[الضعفاء الکبیر برقم: ۱۵۲۱وسندہ صحیح ]

قلتُ للدارقطني فطر بن خليفة؟ قال زائغ، لم يحتج به

امام حاکم کہتے ہیں میں نے دارقطنی نے فطر کے بارےپوچھا تو انہوں نے کہا  اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا

 [وسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني، برقم: ۲۷۷۵]

سمعتُ ابن حماد يقول: قَالَ السعدي فطر بن خليفة زائغ غير ثقة.

امام سعدی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے ۔

[الکامل فی ضعفاء]

معلوم ہوا کہ یہ راوی  رافضی تھا تقیہ کرتا تھا جسکے سبب دیگر ناقدین دھوکہ کھا گئے اور بقیہ ناقدین اسکی رافضیت پر مطلع ہو چکے تھے ۔

امام ذھبی اسکے بارے عمومی حکم لگاتے ہوئے کہتے ہیں:

لَكِنَّهُ لَيْسَ بِذَاكَ المُتقِنِ، مَعَ مَا فِيْهِ مِنْ بِدعَةٍ، وَمِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَرَنَهُ البُخَارِيُّ بِآخَرَ، وَحَدِيْثُه مِنْ قَبِيْلِ الحَسَنِ.

یہ متقن رواتہ میں سے نہیں تھا ۔ اس کے بدعتی ہونے کے سبب امام بخاری نے اس (احتجاج نہ کیا) متابعت میں اسکی روایت لی ہے ۔ اور اسکی روایت حسن  روایات کے درجہ میں ہے

[سیر اعلام النبلاء ، برقم:۱۴]

یعنی ایسی روایت جو شیعت و رافضیت کے مذہب پر نہ ہو ں تو اس میں اس راوی پر اعتبار  ہے۔ لیکن ثقات کے موافق اور منکر متن سے پاک اسکی روایات قبول کی جائیں گی۔

جیسا کہ امام ابن عدی تصریح کرتے ہیں:

فطر بن خليفة له أحاديث صالحة عند الكوفيين يروونها عنه فِي فضائل علي وغيره، وَهو متماسك وأرجو أنه لا بأس به، وَهو ممن يكتب حديثه

فطر بن خلیفہ اسکی احادیث صالح ہیں کوفہ والوں سے جو ان سے روایت کرتے ہیں حضرت علیؓ کے فضائل   وٖغیرہ میں ۔ یہ    مضبوط  راوی ہے اور اسکی روایات کو  لینے میں کوئی حرج نہیں ۔یہ ان راویان میں سے ہے جنکی روایات لکھی جاتی ہیں ( متابعت میں )

[الکامل فی ضعفاء]

یعنی امام ابن عدی نے اسکو اہل کوفہ کے لوگوں میں سے جو ان سے روایت کرتے ہیں فضائل حضرت علیؓ کے باب سے اور دیگر باب سے ان میں تو اسکی روایات محفوظ  و مضبوط ہیں ۔ لیکن  کوفہ کے علاوہ ان سے جو روایت کرنے والے ہیں اس میں اسکی روایات   متابعت و شواہد میں لکھی جائیں گی احتجا ج میں نہیں لیا جائےگا۔اور مذکورہ روایت اس سے بیان کرنے والے امام یزید  بن ہارون ہیں جو کوفہ میں سے نہیں ہے بلکہ بخارہ کے ہیں۔ یعنی ابن عدی کی بات ٹھیک تھی کہ اہل کوفہ کے علاوہ اس سے روایت کرنے والوں سے اسکی روایات میں مناکیر تھیں۔

جیسا کہ مذکورہ روایت ہے ۔

اور ایسےشیعہ و  روافض راوی جب فضائل حضرت علیؓ کے باب میں منفرد ہوں تو ان سے کنارہ کیا جائے گا کیونکہ یہ متن میں تدلیس کرکے ایسا غلو پیدا کرتے تھے کہ جس میں باقی انبیاء کے مقام تک کا بھی خیال نہ رکھا جاتا تھا ۔اور یہ راویت بھی اسی باب سے ہے!

تحقیق: اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے