حضرت علی کا قول دو طرح کے لوگ ہلاک ہیں مع سند تحقیق

حضرت علی کا قول
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 3.5]

حضرت علی کا قول  دو طرح کے لوگ  ہلاک ہیں مذکورہ قول کے سند کی تحقیق:

حضرت علی کے قول کی تخریج اور اور سند کے رجال کا حال پیش کرتے ہیں اس تحریر میں۔ 

امام عبداللہ ایک روایت بیان کرتے ہیں اپنے والد امام احمد بن حنبل سے:
حدثنا عبد الله قال: حدثني أبي، نا وكيع، عن نعيم بن حكيم، عن أبي مريم قال: سمعت عليا يقول: يهلك في رجلان: مفرط غال، ومبغض قال.
امام ابی مریم فرماتے ہیں : حضرت  علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ میرے بارے میں دو (قسم کے) شخص ہلاک ہو جائیں گے:  غالی ( محبت میں ناجائز ) افراط کرنے والے، اور بغض رکھنے والے۔
[فضائل الصحابۃ للامام احمد ۵۷۱/۲ ح۹۶۴ إسنادہ حسن الحدیث: ۴ص۱۵]

حضرت علی کا  قول کی سند کے رجال کا مختصر تعارف!

  • 1۔ امام عبداللہ بن احمد متفقہ علیہ ثقہ
  • ۲۔ امام احمد بن حنبل متفقہ علیہ ثقہ
  • ۳۔ امام وکیع بن جراح متفقہ علیہ ثقہ
  • ۴۔ نعيم بن حكيم،
امام ابن معین نے  نعیم بن حکیم کو ثقہ ثبت قرار دیا ہے
قَالَ أَبُو زكريا:
نعيم بن حكيم، وعبد الملك بن حكيم أخوين جميعا حدث عنهما شبابة، وكان نعيم أثبتهما وأكبرهما.
وسئل يحيى بن معين عن نعيم بن حكيم الذي يروي عنه عبيد الله بْن مُوسَى فَقَالَ: ثقة.
[تاریخ بغداد]
۵۔ أبي مريم ربعي بن حراش بن جحش بن عمرو الغطفاني
امام ذھبی انکے بارے فرماتے ہیں :
الإمام، القدوة، الولي، الحافظ، الحجة، أبو مريم الغطفاني، ثم العبسي، الكوفي، المعمر، أخو العبد الصالح مسعود؛ الذي تكلم بعد الموت. سمع من: عمر بن الخطاب يوم الجابية ، وعلي بن أبي طالب، وأبي موسى الأشعري، وأبي مسعود البدري، وحذيفة بن اليمان، وأبي بكرة الثقفي، وعدة.
امام قدہ حافظ اور حجہ ابو مریم الغلطفانی۔
[سیر اعلام النبلاء برقم]

حضرت علی کا قول اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ سند صحیح سے ثابت ہے۔ 


حضرت علی کاقول کی تفصل و حکمت

غلو کیا ہے؟
غلو یہ ہے کہ مولا علیؓ سے افضل کسی کو نہ سمجھنا اور مولا علیؓ کے بارے یہ معیار بنا لینا کہ جو بھی ان سے اختلاف کرے گا علمی ، فقہی یا جزوی تو وہ صحابی ؓ مرتبہ صحابیت سے ہی نکل جائے گا جیسا کہ روافض کا طریقہ ہے۔
اور بغض یہ ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مولا علیؓ کو انکے مقام و مرتبہ و اکرام نہ دیں جو کہ انکا حق ہے اور تمام جنگوں اور اختلافی اجتہاد ومسائل میں مولا علیؓ کو حق پر نہ جانیں ۔اہلسنت ائمہ کا منہج ہی یہی ہے کہ کوئی بھی صحابی رسولﷺ کسی دوسرے صحابی رسولﷺ سے جنگ کرے ، یا ایک دوسرے کو شہید کریں اس سے انکے مرتبہ صحابیت کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک انکا ایمان سلامت ہے کیونکہ دونوں کی صحابیت دیدار رسولﷺ سے منسلک ہے نہ کہ ایک دوسرے کی عزت و تکریم کے ساتھ مشروط!
اسی لیے اہلسنت ائمہ کا موقف ہی اصح اور حق ہے کہ مشاجرات صحابہ میں سکوت واجب ہے کہ کہیں ان چیزون میں پڑ کر اپنے ایمان کا خاتمہ نہ ہو جائے اور جو صحابہ کرامؓ ہیں انکے مرتبہ و مقام میں تو کوئی کمی نہیں آئے گی! آپکی اپنی حلاکت ضرور ہے۔

جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمر سے اصحاب رسولﷺ کے بارے قول ملتا ہے : 

امام محمد بن يزيد المعروف ابن ماجہ علیہ رحمہ اپنی سنن میں روایت کرتےہیں :
حدثنا علي بن محمد، وعمرو بن عبد الله، قالا: حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن نسير بن ذعلوق، قال:كان ابن عمر يقول: لا تسبوا أصحاب محمد – صلى الله عليه وسلم -، فلمقام أحدهم ساعة، خير من عمل أحدكم عمره
حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں : حضرت محمدﷺ کے اصحابؓ کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ ان کی ایک گھڑی کا (نبی اکرمﷺ کی ذات کے ساتھ )قیام تمھارے ساری زندگی کےعمل سے بہتر ہے
[سنن ابن ماجہ ، برقم: 162]

 حضرت عمر کے قول کے سند کے رجال کا مختصر تعارف!

▪︎۱۔پہلے راوی : الطنافسي أبو الحسن علي بن محمد بن إسحاق
امام ذھبی علیہ رحمہ فرماتےہیں :
الإمام، الحافظ، المتقن، محدث قزوين
[سير أعلام النبلاء: 114]
نوٹ: انکے متابع امام عمرو بن عبد الله بن حنش ہیں اور وہ بھی ثقہ ہیں
▪︎۲۔دوسرے راوی:امام وکیع بن جراح ہیں جو متفقہ علیہ ثقہ ہیں
▪︎۳۔تیسرے روای: امام سفیان الثوری ہیں جو متفقہ علیہ ثقہ ہیں
▪︎۴۔چوتھے راوی : نسير بن ذعلوق انکی توثیق درج ذیل ائمہ نے کی ہیں!  :
يحيى بن معين أنه قال: نسير بن ذعلوق ثقة.
امام یحییٰ بن معین نے انکو ثقہ قرار دیا ہے
سمعت ابى يقول: نسير بن ذعلوق صالح.
نیز امام ابو حاتم صالح کہتے ہیں :
[الجرح والتعدیل برقم: 2332]
▪︎امام عجلی نے انکو ثقات میں درج کیا ہے :
نسير بن ذُعلوق أبو طعمة: "كوفي”، تابعي, ثقة مولى الربيع بن خيثم.
[الثقات للعجلی برقم: 168]
▪︎امام ابن حبان نے انکو ثقات میں درج کیا ہے :
نسير بن ذعلوق من بني ثور كنيته أبو طعمة يروى عن بن عمر عداده في أهل الكوفة روى عنه الثوري وإسرائيل
[الثقات برقم: 5855]
▪︎اور امام دارقطنی نے بھی :
قال البرقاني: سمعت الدارقطني يقول نسير بن ذعلوق، من أهل الكوفة، ثقة.
[موسوعة أقوال أبي الحسن الدارقطني برقم: 3671]
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ روایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے بالکل صحیح سند سے مروی ہے
اور باقی کوئی یہ اعتراض کرے کہ سند میں سفیان ثوری نے اسکو معنن روایت کیا ہے اور وہ مدلس ہیں
تو اسکا جواب ہے کہ وہ طبقہ ثانیہ کے مدلس ہیں جنکی تدلیس مضر ہی نہیں ہوتی ہے
مزید یہ ہے کہ امام سفیان ثوری نے مذکورہ روایت میں سماع کی تصریح بھی دی ہوئی ہے جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی نے اس روایت کی سند کو امام مسدد کی کتاب سے نقل کیا ہے:
قال مسدد: حدثنا يحيى، عن سفيان، "حدثني” نسير بن ذعلوق، قال: سمعت ابن عمر رضي الله عنهما يقول: لا تسبوا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم فلمقام أحدهم أفضل من عمل أحدكم عمره.
[المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية، برقم: 4157]
معلوم ہوا کہ جو بھی صحابہ کرامؓ کے آپسی مشاجرات اور اختلاف کی بنیاد پر ترازو لیے پھر رہے ہیں انکا یہ میدان ہی نہیں ہے اور نہ ہی انکو شریعت سے اجازت ہے کہ وہ صحابی ؓ جو ایمان کی حالت میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک گھڑی ساتھ رہا کسی غیر صحابی کی ساری زندگی کی عبادت ، تقوی، سب کچھ لیس بشئ ہے مقام صحابیؓ کے سامنے !!!
کیونکہ صحابیت کا مرتبہ عمل سے حاصل ہوہی نہیں سختا اس لیے صحابہ کے اعمال کی بنیاد پر ان پر طعن رفض و خارجیت ہے۔
کیونکہ نبی اکرمﷺ کا دیدار اتنی بڑی نعمت ہے کہ یہ جن جن اصحابؓ کو حالت ایمان میں نصیب ہوئی جنکے ایمان کی گواہی نبی پاکﷺ نے فرمائی اور قرآن نے !
شرم آنی چاہیے ان لوگوں کو جو اپنی اوقات سے نکل کر اصحاب رسولﷺ پر طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اس طرح محبت اہلبیت ثابت کر رہے ہیں یقنن ایسے لوگ مولا علیؓ کے بقول گمراہ اور جہنمی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے