مولا علیؓ کا چہرا د دیکھنا عبادت ہے اس روایت کی اسنادی حیثیت
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

مولا علیؓ کا چہرا د دیکھنا عبادت ہے اس روایت کی اسنادی حیثیت

تحقیق اسد الطحاوی

کیا مذکورہ روایت ”حضرت علیؓ کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے” کیا یہ روایت اصول حدیث کے مطابق ثابت ہے یا غیر ثابت ہے اس پر ہم اس روایت کے متعدد طریق کو سامنے رکھ کر جائزہ لیتے ہیں۔

حدثنا دعلج بن أحمد السجزي، ثنا علي بن عبد العزيز بن معاوية، ثنا إبراهيم بن إسحاق الجعفي، ثنا عبد الله بن عبد ربه العجلي، ثنا شعبة، عن قتادة، عن حميد بن عبد الرحمن، عن أبي سعيد الخدري، عن عمران بن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «النظر إلى علي عبادة» هذا حديث صحيح الإسناد ” وشواهده عن عبد الله بن مسعود صحيحة

[التعليق – من تلخيص الذهبي برقم:4681 – ذا موضوع]

اس سند کا ایک راوی  علی بن عبد العزیز مجہول العین ہے اور عبداللہ بن عبد  عجلی مجہول ہے سوائے ابن حبان کے کوئی اسکی توثیق نہیں کرتا۔

چونکہ اس روایت کا متن پر مام ذھبی نے اس روایت پر مطلقا  موضوع کا حکم لگایا ہے  اور امام حاکم کا تعاقب کیا ہے۔امام حاکم  کہتے ہیں ا کہ ابن مسعود سے صحیح سند سے یہ مروی ہے جس سے تقویت دینا چاہ رہے تھے۔

اسکی سند درج ذیل ہے

 حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ، ثنا صالح بن مقاتل بن صالح، ثنا محمد بن عبد بن عتبة، ثنا عبد الله بن محمد بن سالم، ثنا يحيى بن عيسى الرملي، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «النظر إلى وجه علي عبادة» تابعه عمرو بن مرة، عن إبراهيم النخعي

[التعليق – من تلخيص الذهبي برقم:4682 – وذا موضوع]

اس روایت میں ایک راوی صالح بن مقاتل ضعیف راوی ہے  اس پر دارقطنی ، و بیھقی کی جروحات ہیں کوئی توثیق نہیں ہے۔ اوراسکا شیخ  محمد بن عبد  بن عتبہ بھی مجہول ہے،اور اسکا شیخ شیعہ ہے لیکن صدوق ہے۔اور الاعمش مدلس ہے اور روایت عنعنہ بیان کر رہا ہے

تو متعدد مجہولین کے سبب اس روایت پر بھی امام ذھبی نے موضوع کا ہی حکم لاگو کیا ہے  کیونکہ اس مین بھی ضعث کثیر ہے اور تتقویت دینے کی حیثیت نہیں رکھتا۔ لہذا انکی تحقیق میں مذکورہ روایت حضرت علیؓ کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے روایت موضوع ہے۔


ایک سند سے امام ابو نعیم الاصبھانی بھی روایت کرتے ہیں جو درج ذیل  سند سے ہے :

حدثنا أبو نصر أحمد بن الحسين المرواني النيسابوري قال: ثنا الحسن بن موسى السمسار، قال: ثنا محمد بن عبدك القزويني، قال: ثنا عباد بن صهيب، قال: ثنا هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة، رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «النظر إلى علي عبادة» غريب من حديث هشام بن عروة ولم نكتبه إلا من حديث عبادة

[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء]

اس کی سند میں پہلے چار راوی ہی مجہول ہیں۔اور عباد بن صھیب متروک راوی ہے  امام بن مدینی ، بخاری و نسائی نے متروک قرار دیا ہے اور امام ذھبی نے بھی۔

عباد بن صهيب البصري.

أحد المتروكين.

عن هشام بن عروة والأعمش.

قال ابن المديني: ذهب حديثه.

وَقال البخاري والنسائي، وَغيرهما: متروك.

[لسان المیزان برقم : 4078]


امام طبرانی اپنی سند سے اسکو بیان کرتے ہیں :

حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، ثنا أحمد بن بديل اليامي، ثنا يحيى بن عيسى، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «النظر إلى وجه علي عبادة»

[المعجم الكبير برقم:۱۰۰۰۶]

اس میں امام طبرانی کا شیخ محمد بن عثمان بن ابی شیبہ جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے ۔اس پر جمہور کی جرح کے ساتھ ایک دو کی توثیق بھی ہے لیکن امام عبداللہ بن احمد اسکو کذاب کہتے تھے۔

امام ذھبی اسکے بارے کہتے ہیں :

وأضعف منه ما روى محمد بن عثمان بن أبي شيبة، وهو ضعيف

اور اس حدیث سے زیادہ ضعیف روایت جسکو محمد بن عثمان بیان کرتا ہے اور وہ ضعیف ہے پھر اسکی روایت نقل کر کے کہتے ہیں :

وهذا حديث ساقط كما ترى.

یہ حدیث گری ہوئی ہے

[تاریخ الاسلام الذھبی]

سند میں ایک اور راوی یحییٰ بن عیسی موجود ہے،اسکے بارے ابن حجر کہتے ہیں  سچا  تھا غلطیاں کرتا تھا اور اسکو شیعت سے منسوب کیا گیا ہے۔

صدوق يخطىء و رمى بالتشيع

[تقریب التہذیب ]

امام ذھبی  میزان میں اسکے بارے لکھتے ہیں :

كان أحمد يثنى عليه.

وقال النسائي: ليس بالقوي.

وقال ابن معين: ضعيف.

أحمد بن أبي مريم، سألت ابن معين عن يحيى بن عيسى، فقال: لا تكتب حديثه.

وروى عباس عن يحيى: ليس بشئ.

آگے لکھتے ہیں :

هارون بن حاتم، حدثنا يحيى بن عيسى، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن علقمة،

عن عبد الله – مرفوعاً: النظر إلى وجه على عباد قلت: لعله من وضع هارون.

وقال ابن عدي في ترجمة يحيى: عامة ما يرويه مما لا يتابع عليه.

ھارون یحییٰ بن عیسی سے الاعمش کے طریق سے ابن مسعود سے بیان کرتا ہے کہ علی کا چہرا دیکھنا عبادت ہے

میں (الذھبی) کہتا ہوں کہ ہوسکتا ہے اسکو ھارون سے گھڑا ہو کیونکہ اسکے ترجمہ میں ابن عدی کہتے ہیں کہ اسکی عمومی روایات کی کوئی متابعت نہیں کرتا

[میزان الاعتدال]

اور اس سے یہ بھی ممکن ہوا کہ طبرانی کے ضعیف جدا شیخ نے  ھارون  کی بجائے  احمد بن بدیل کا نام غلط لیا ہو کہ یہ روایت ھارون بیان کرتا ہے یحییٰ بن عیسیٰ سے۔اور تیسرا ضعف اس میں اعمش کا عنعنہ بیان کرنا ہے۔


امام طبرانی ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں :

حدثنا أبو مسلم الكشي، ثنا أبو نجيد عمران بن خالد بن طليق الضرير، عن أبيه، عن جده قال: رأيت عمران بن حصين يحد النظر إلى علي فقيل له، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «النظر إلى علي رضي الله عنه عبادة»

[المعجم الكبير، برقم : ۲۰۶]

اس سند میں ایک راوی خالد بن طلیق ہے۔

اسکے بارے امام ابن حجر لکھتے ہیں :

عنِ ابن سيرين.

قال أبو حاتم: ضعيف.

وقال ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج به.

وقال أحمد: متروك الحديث.

[لسان المیزان برقم : ۵۷۴۲]

اسکا والد اور دادا دونوں مجہول العین ہیں


الغرض اسکے ہر طریق میں ضعف شدید ہے جسکی وجہ سے یہ روایت حسن لغیرہ تو نہیں بن سکتی۔اور امام ذھبی نے تو اسکے ہر طریق پر کذاب راویوں کی جرح کی ہے اور اس روایت کو باطل قرار دیا ہے۔

جیسا کہ وہ  لکھتے ہیں  : یہ روایت شواہد جو کہ مشہور ہے  سب موضوع ہیں ان میں کذاب راوی موجود ہیں

إبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْجُعْفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ الْعِجْلِيُّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدِّريُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: «النَّظَرُ إِلَى عَلِيٍّ عِبَادَةٌ» .

قَالَ: وَشَاهِدُهُ صَحِيحٌ.

حَدَّثَنَاهُ ابْنُ قَانِعٍ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَرْفُوعًا مِثْلَهُ.

قُلْتُ: بِئْسَ الشَّاهِدُ وَالْمَشْهُودُ لَهُ كِلاهُمَا مَوْضُوعٌ، وَصَالِحٌ كَذَّابٌ خَبِلٌ.

[موضوعات المستدرك للذهبي]

امام ذھبی کیونکہ صاحب استقراء امام ہیں انکی تحقیق میں تو یہ روایت موضوع ہے۔لیکن امام ابن حجر عسقلانی نے لسان المیزان میں امام علائی سے نقل کرتے ہیں  :

حديث النظر إلى علي عبادة رواه يعقوب الفسوي وهذا باطل في نقدي انتهى وهذا هو الذي قبل بعينه ما لتكراره معنى وقال العلائي الحكم عليه بالبطلان فيه بعيد ولكنه كما قال الخطيب غريب

کہ اس روایت پر باطل کا حکم  بعید ہے لیکن خطیب نے اسکو غریب کہ ہے

[لسان المیزان ]

اگر دیکھا جائے جو مستدرک میں اما م حاکم پہلا طریق لائے تھے جو درج ذیل ہے :

حدثنا دعلج بن أحمد السجزي، ثنا علي بن عبد العزيز بن معاوية، ثنا إبراهيم بن إسحاق الجعفي، ثنا عبد الله بن عبد ربه العجلي، ثنا شعبة، عن قتادة، عن حميد بن عبد الرحمن، عن أبي سعيد الخدري، عن عمران بن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «النظر إلى علي عبادة» هذا حديث صحيح الإسناد ” وشواهده عن عبد الله بن مسعود صحيحة

اس میں کوئی راوی متروک نہیں ہے لیکن عرب محقق نے بھی یہ بات لکھی ہے کہ امام ذھبی نے اس میں تصریح نہیں کی کہ یہ کیوں موضوع ہے۔

ولم يذكر علة الحكم عليه بالوضع.

لیکن پھر وہ ابراہیم بن اسحاق کے بارے لکھتا ہے :

والراوي عن العجلي هذا هو إبراهيم بن إسحاق الجعفي، النهاوندي، ثم الأحمري، أبو إسحاق، قال الحافظ ابن حجر في اللسان (1/ 32 رقم 57): "ذكره الطوسي في رجال الشيعة، وقال: كان ضعيفاً في حديثه”. والراوي عن الجعفي هذا هو علي بن عبد العزيز بن معاوية، ولم أجد من ترجم له، وقال الشيخ المعلمي في الموضع السابق: "لم يتبين لي من هو”.

کہتاہے کہ جو عجلی سے بیان کرنے والا ہے وہ ابراہیم بن اسحاق الجعفی  یہ انھاوندی پھر الاحمری ہے اسکی کنیت ابو اسحاق ہے ابن حجر نے لسان میں کہا ہے کہ اسکا ذکر طوسی نے شیعہ کے رجال میں کیا ہے اور یہ ضعیف ہے حدیث میں  اور جعفی سے بیان کرنے والا علی بن عبدالعزیز ہے میں اسکے بارے نہیں جان سکا اور علامہ معلمی نے بھی ایسا کہاہے کہ میں نہیں جان پایا یہ کون ہے

[مختصرُ استدرَاك الحافِظ الذّهبي على مُستدرَك أبي عبد اللهِ الحَاكم، تحقيق وَدراسة: سَعد بن عَبد الله بن عَبد العَزيز آل حميَّد]

میری تحقیق میں عربی محقق نے ابراہیم بن اسحاق الجعفی کا تعین غلط کیا ہے بالکل یا جان بوجھ کر یا خطاء ہوئی ہے کیونکہ ابراہیم بن اسحاق انھاوندی راوی کوئی اور ہے یہ نہیں

اور نہ ہی یہ عجلی ہے بس ایک بات ہے کہ اسکی بھی کنیت ابو اسحاق ہے۔

جو اصل راوی ہے ااسکا ذکر امام ذھبی نے کیا ہے جو کہ درج ذیل ہے۔

إبراهيم بن إسحاق، أبو إسحاق الصِّينيّ الْجُعْفيّ، مولاهم الكُوفيُّ.

عَنْ: قيس بن الربيع، ومالك بن أنس.

وَعَنْهُ: موسى بن إسحاق الأنصاريّ الخطْميّ، ومحمد بن عثمان بن أبي شَيْبَة، ومُطَيِّن، وغيرهم، وكان صدوقًا ضريرًا.

ورّخه مُطَيِّن سنة ثلاثين، وقال ابن قانع: سنة اثنتين وثلاثين.

قال الدَّارَقُطْنيّ: متروك.

امام ذھبی اسکو صدوق قرار دیا ہے باوجود دارقطنی کی جرح متروک لکھنے کے

[تاریخ الاسلام ]

تو امام ذھبی کیونکہ صاحب استقراء تھے انکا یہ اجتہاد تھا کہ جس روایت کے اتنے طریق  جن میں معروف کذاب اور ضعیف جدا راویان ہیں تو اسکے کسی طریق میں مجہول بھی آجائے تو  یہ نہیں ہو سکتا  کہ وہ بھی مجہول کذاب نہ ہو کیونکہ عمومی یہ روایت گھڑی گئی ہے تو جس مجہول کا ہم کو نہیں پتہ وہ بھی کذاب ہو،عمومی اصول یہ ہے کہ مجہول کی روایت ضعیف بنتی ہے۔ اور روایت حضرت علیؓ کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے موضوع ہے انکے نزدیک۔

تو اصول پر چلاجائے تو امام ذھبی کی اپنی تحقیق اپنی جگہ لیکن چونکہ وہ علت بیان نہیں کی اس روایت کے مستدرک کے طریق کے موضوع ہونے کی تو یہ روایت فقط ضعف ہی رہے گی کیونکہ اسکے رجال مجہولین ہیں کوئی کذاب راوی نہیں

ابراہیم بن اسحاق پر امام دارقطنی کی متروک کی جرح ہے تو امام ذھبی نے خود اسکو صدوق قرار دے رکھا ہے تو یہ علت نہیں ہو سکتی ہے۔

واللہ اعلم
تحقیق اسد الطحاوی

مزید تحریر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں: کیا حضرت امیر معاویہؓ طلقاء صحابہؓ میں سے تھے ؟ 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے