حنفی محدثین
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 5]

حنفی  محدثین و ناقدین جو فروع میں مذہب ابی حنیفہ پر تھے بقول ائمہ محدثین!

حنفی محدثین و ناقدین اس مضمون میں آپ ان متقدمین و ناقدین محدثین کا تعارف اور انکے نام پر مطلع ہونگے جو فروع میں امام ابو حنیفہ کے مذہب پر تھے۔

حنفی محدثین و ناقدین میں سے پہلا نام امام یحیی بن سعید القطان الحنفی کا ہے ۔

امام ذھبی علیہ رحمہ امام یحیی بن سعید القطان کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:
وكان في الفروع على مذهب أبي حنيفة – فيما بلغنا – إذا لم يجد النص.
یہ مذہب فروع میں امام ابو حنیفہ کے مذہب پر تھے۔ جیسا کہ ہم تک (دلائل) پہنچے ہیں۔ کہ جس (مسلہ پر) انکو نص نہ ملتی (تو امام ابو حنیفہ کی تقلید کرتے)
[سیر اعلام النبلاء]


اور امام یحیی بن سعید القطان کے امام ابو حنیفہ کی رائے پر عمل کرنے کی شہادت انکے مقدم شاگرد امام یحیی بن معین الحنفی علیہ رحمہ نے دی ہے۔

جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:
يحيى بن معين يقول : سمعت يحيى بن سعيد يقول : ” لا والله لا أكذب الله ، إنا ربما سمعنا الكلمة الحسنة فنأخذ بها ” .قال يحيى بن معين يعني من رأي أبي حنيفة .
امام یحییٰ بن معین فرماتے ہیں : میں نے امام یحییی بن سعید القطان سے سنا کہ ہم اللہ کی بارگاہ میں غلط بیانی نہیں کرتے (تعصب یا حسد کی وجہ سے )
جب ہم بیشتر اوقات انکے اچھے اقوالات کو سنتے ہیں انکی تعریف کرتے ہیں اور اسی کو اختیار کر لیتے ہیں۔
امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں امام یحیی بن سعید القطان کا مطلب ہے کہ امام ابی حنیفہ کی رائے ہے (یعنی امام اعظم کے فتوے پر عمل پیرا ہوتے ہیں )
[تاریخ ابن معین]


اور خود امام یحیی بن معین علیہ رحمہ بھی مذہب امام ابو حنیفہ پر تھے۔

جیسا کہ امام ذھبی فرماتے ہیں:
ابن معين كان من الحنفيّةِ الغُلاة في مذهبه، وإن كان مُحَدِّثاً۔
امام ابن معین غالی حنفیوں میں سے تھے مذہب فروع کے حوالے سے باوجود اسکے کہ وہ محدث تھے۔
[الرواة الثقات المتكلم فيهم بما لا يوجب ، ص30]


معلمی یمانی غیر مقلد امام یحییٰ بن معین کے بارے امام ذھبی کا کلام نقل کرنے کے بعد اتفاق کرتے ہوئے لکھتا ہے:

وإنما كان يأخذ بقول أبي حنيفة فيما لم يتضح له الدليل بخلافه
اور یہ(امام ابن معین) امام ابو حنیفہ کے قول کو قبول کرتے جب تک انکے خلاف کوئی دلیل نہ ثابت ہو جاتی۔
[الأنوار الكاشفة ، ص۲۷۹]


یعنی امام یحییٰ بن معین و امام یحیی بن سعید القطان ہر مسائل میں امام ابو حنیفہ کی اتباع نہ کرتے کیونکہ وہ خود بھی سنت و فرائض کے مجتہد تھے۔ لیکن جن مسائل میں انکو نصوص نہ ملتی تو اس میں امام ابو حنیفہ کی اتباع کرتے۔

اب یہاں کچھ لوگوں کو علمی حیض ہوگا کہ صحیح مسائل میں امام ابو حنیفہ کی موافقت کرتے تھےتو حنفی کیسے؟
تو ان کےعقل امام ذھبی کےاس کلام کو سجھنے سے قاصر ہیں کہ وہ ہر مسائل میں امام ابو حنیفہ کی اتباع کرتے ہی تب تھے جب خود نہ جانتے تھے لیکن جب کسی مسلہ میں تحقیق کر لیتے اور انکے سامنےنصوص و دلائل ثابت ہو جاتے کسی مذکورہ مسلے میں امام ابوحنیفہ کے خلاف تو تب اختلاف کرتے۔
اور جن مسائل کی نصوص یا دلائل امام ابن معین کو نہ ملتے تو اس میں امام ابو حنیفہ کے فتوے کی پیروی کرتے تھے تو پھر حنفی کیوں نہ ہوئے؟
جیسا کہ انکا خود کا قول ہے ہے کہ انکو امام ابو حنیفہ کی رائے محبوب ہے یہاں تک کہ شافعی کی رائے کو دیکھنا بھی پسند نہ کرتے امام ابو حنیفہ کی رائے کے مقابل۔
جیسا کہ ان سے مروی :
قلت لیحیی بن معین: اتری ان ینظر فی الرجل فی الشئ من الرائ؟
فقال ائ الرائ؟
قلت الرائ الشافعي و ابو حنیفة!
فقال: ما أری لمسلم ان ینظر فی رأی الشافعي
وینظر ألرأی ابی حنیفة احب الی من ینظر الرآی الشافعی
امام ابن جنید کہتے ہیں :
میں نے امام یحیی بن معین سے پوچھا کہ اس شخص کے بارے آپکا کیا خیال ہے جو رائے کو دیکھتا ہے ؟
تو انہوں(ابن معین) نے پوچھا کس کی رائے؟ (دیکھتا ہے وہ شخص)
تو میں نے کہا امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کی
تو (ابن معین) نے کہا میں کسی مسلمان کے لیے یہ رائے نہیں رکھتا کہ وہ شافعی کی رائے میں نظر کرے
اور
امام ابو حنیفہ کی رائے میرے نزدیک محبوب ہےامام شافعی کی رائے میں نظر کرنے کی بجائے
[سوالا ابن الجنید برقم:92]


امام یحیی بن معین کے حنفی ہونے کےچند مزید دلائل درج ذیل ہیں۔

امام یحیی بن معین امام ابو حنیفہ کی اجتہادی رائے پر دسترس رکھتے تھے جیسا کہ ایک واقعہ سے اسکا اندازہ لگایا جا سکتا ہے!

"ولی کے بغیر عورت کا نکاح جائز ہے امام مالکؒ کی امام ابو حنیفہ کے فتوے سے موافقت بقول امام یحییٰ بن معین!!!”

قال يحيى قال بن وهب عن مالك بن أنس في المرأة يكون وليها ضعيفا أو يكون غائبا أو لا يكون لها ولي فتولي أمرها رجلا فيزوجهاقال جائز
وقال بن وهب لا إلا بولي
قلت ليحيى هذا يوافق قول أبي حنيفة قال نعم يعنى قول مالك
امام الدوری فرماتے ہیں امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: ابن وھب امام مالک سے بیان کیا المراہ کے بارے: کہ جسکا والی ضعیف ہو یا غائب ہو یا اسکا ولی نہ ہو تو اسکے عمل یا معملات کا ولی وہ بندہ بن جاتا ہے جو اس سے شادی کر لیتا ہے تو کیا یہ جائز ہے ؟ (امام مالک ) نے کہا جائز ہے ۔
ابن وھب نے کہا نہیں سوائے اسکے کہ اسکا ذاتی ولی ہو
تو میں (الدوری) نے امام یحییٰ بن معین سے کہا کہ یہ قول تو امام ابو حنیفہؓ کے قول کے موافق ہے۔
تو انہوں (امام ابن معین) نے فرمایا ہاں بالکل یعنی امام مالک کا قول
[ تاريخ ابن معين (رواية الدوري)،برقم:5294]


چند مشہور فروعی مسائل میں امام ابن معین نے امام ابو حنیفہ سے موافقت کی ہے لیکن جہاں اختلاف کیا اسکے باوجود بھی امام اعظم کے مذہب کو بھی جائز قرار دیا۔

اب امام یحییٰ بن معین سے پیش کرتے ہیں کہ وہ اس مسلے میں کتنی نرمی رکھتے تھے ۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ دونوں طرف روایات موجود ہیں یہ لوگوں پر ہے کہ وہ کس روایت کو کس پر مقدم کرتے ہیں ۔
امام یحییٰ بن معین سے انکے شاگرد ابن محرز امام یحییٰ بن معین سے بیان کرتے ہیں :
سمعت شريح بن يونس يقول: ” رفع الأيدي في الصلاة هو تزين في الصلاة، ومن ترك الرفع فهو خشوع في الصلاة "
میں نے شریح بن یونس کو کہتے سنا کہ نماز میں رفع الیدین نماز کی خوبصورتی ہے ۔ اور جو رفع الیدین کو ترک کرنے والے ہیں انکے لیے نماز میں خشوع (انکساری) ہے ۔
[معرفة الرجال للإمام أبي زكريا يحيى بن معين: 885]


سمعت يحيى بن معين يقول : من رفع في الصلاة فقد أحسن ، ومن لا ، فلا شيء عليه .
امام یحیٰ بن معین سے سنا وہ کہتے ہیں کہ جو نماز میں ہاتھ اٹھاتے ہیں وہ احسن (عمل)ہے اور جو (رفع الیدین) نہیں کرتے تو ان پر کوئی (عذر)نہیں ہے
[کتاب ایضا برقم: 889]


اور پھر انکا عمل بیان کرتے ہوئے امام ابن معین کے شاگرد کہتے ہیں :
رأيت يحيى بن معين ما لا أحصيه كثرة يرفع يديه في الصلاة إذا افتتح، وإذا أراد أن يركع، وإذا رفع رأسه من الركوع.
میں نے امام یحییٰ بن معین کو دیکھا اور میں اسکا شمار نہیں کر سکتا کہ وہ نماز میں کتنا زیادہ رفع الیدین کرتے جب وہ ارادہ کرتے رکوع جانے کا اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد
[کتاب ایضا برقم: 1023]


امام ابن معین حنفی فاتحہ خلف الامام کے مسلے پر امام ابو حنیفہ کے ساتھ تھے۔

سألت يحيى عن القراءة خلف الإمام قال لا أقرأ خلفه إن جهر ولا إن خافت وإن قرأ إنسان فليس به بأس
امام دوری کہتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین سے امام کے پیچھے قراءت کرنے کے بارے پوچھا تو انہوں نے کہا میں امام کے پیچھے قرات نہیں کرتا نہ جہری نہ ہی سری نمازوں میں ۔ اور اگر کوئی پڑھ لیتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں
[تاريخ ابن معين برقم: 2276 (رواية الدوري)]


اس روایت سے معلوم ہوا کہ امام یحییٰ بن معین کا ذاتی عمل امام کے پیچھے قراءت ترک کرنے کا تھا لیکن انکے نزدیک کوئی قرآءت کر بھی لے تو یہ جائز ہے
نیز امام یحیی بن معین وتر تین رکعات پڑھتے تھے جیسا کہ حنفیوں کا طریقہ ہے
انکا شاگرد روایت کرتا ہے
قلت ليحيى بن معين: كيف توتر؟
تسلم في الركعتين؟ قال: «لا، أنا أوتر بثلاث، أسلم في آخرها» .
میں نے امام یحییٰ بن معین سے کہا کہ آپ وتر کیسے پڑھتے ہیں ؟کیا دو رکعات میں سلام پھیرتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا نہیں میں تین رکعت وتر پڑھتا ہوں اور اخری (تیسری) رکعت میں سلام پھیرتا ہوں
[سوالات ابن الجنید]


امام ابو یعلی الموصلی صاحب مسند بھی فروع میں حنفی تھے ۔

جیسا کہ امام ذھبی امام عبدالغنی کا قول نقل کرتے ہیں :
وقال الحافظ عبد الغني الأزدي : أبو يعلى أحد الثقات الأثبات ، كان على رأي أبي حنيفة .
امام حافظ عبد الغنی الازدی فرماتے ہیں:
ابو یعلی جو کہ ثبت و ثقات میں سے ایک تھے ۔یہ امام ابو حنیفہ کی رائے پر تھے
(یعنی امام اعظم ابو حنیفہ کےمذہب فروع پر تھے)
اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی فرماتے ہیں:
قلت : نعم ; لأنه أخذ الفقه عن أصحاب أبي يوسف
میں (الذھبی) کہتا ہوں : بالکل انہوں نے فقہ حاصل کی امام ابی یوسف کے اصحاب سے ۔ ۔ ۔ ۔
[سیر اعلام النبلاء]


اسکے علاوہ درج ذیل محدثین کو ائمہ ناقدین نے حنفی قرار دیا ہے۔

  • امام زفر بن ھذیل الحنفی
  • امام ابو یوسف الحنفی
  • امام فضیل بن عیاض الحنفی
  • امام مندل الحنفی
  • امام اسحاق بن ابی اسرائیل الحنفی
  • امام حماد بن دلیل الحنفی
  • امام ابو حفص الکبیر البخاری الحنفی
  • امام ابو حفص الصغیر البخاری الحنفی
  • امام ابو بکر حسین بن عبداللہ نیشاپوری الحنفی
  • امام محمد بن الحسن الحنفی
  • امام اسد بن عمرو الحنفی
  • امام معلی بن منصور الحنفی
  • امام قاسم بن معن الحنفی
  • امام عبدالرحمن الحنفی(حضرت عبداللہ بن مسعود کے پوتے)
  • امام عبد الجبار الحنفی (حضرت وائل بن حجر کے پوتے)
  • امام بشر بن ولید الکندی الحنفی
  • امام خلف بن ایوب البلخی الحنفی
  • امام یحیی بن سعید القطان الحنفی
  • امام وکیع بن الجراح الحنفی
  • امام ابن کاس النخعی الحنفی
  • امام ابو القاسم البرتی الحنفی
  • امام احمد بن عمران ابو جعفر الحنفی
  • امام ابو جعفر الطحاوی الحنفی
  • امام ابو حامد المروزی ابن الطبری الحنفی
  • امام ابو محمد طرابلسی دمشقی الحنفی
  • امام القدوری الحنفی
  • امام ابو موسی بن سلیمان الجوزجانی الحنفی
  • امام ابن العوام الحنفی
  • امام محمد بن احمد الدولابی الحنفی
  • امام صیمری الحنفی
  • امام عینی الحنفی
  • امام ابن ھمام الحنفی
  • امام مغلطائی الحنفی
  • امام زیلعی الحنفی
  • امام قاسم بن قطلوبغہ الحنفی
  • امام ابن ترکمانی الحنفی
  • امام زاہد الکوثری الحنفی
  • امام ملا علی قاری الحنفی
  • بر صغیر کے محدثین
  • امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی الحنفی
  • امام عبدالحق محدث دہلوی الحنفی
  • امام شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی الحنفی
  • امام محمد بن طاہر پٹنی الحنفی
  • امام عبد حئی لکھنوی الحنفی
  • امام احمد رضاء الحنفی
  • علامہ غلام رسول سعیدی الحنفی

نیز وہ محدثین جنہوں نے فقہ حنفی سے دوسرا مذہب تبدیل کیا۔

  • امام اسحاق بن راہویہ
  • امام ابو زرعہ
  • امام سمعانی

اللہ ان سب کے درجات بلند کرے

تحقیق :اسدالطحاوی ✍

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے