حلم معاویہ
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 5]

حلم معاویہؓ: حضرت معاویہ کی جزوی فضیلت حلم جس میں وہ تمام صحابہؓ اور اہل بیتؓ میں افضل تھے۔

حلم معاویہ حضرت معاویہ کی وہ خاص صفت و فضیلت تھی جسکا اعتراف صحابہ اور اہل بیت میں بے شمار اشخاص نے کیا ہے ۔ 

تمہید:

افضلیت و فضیلت میں بہت بڑا فرق ہے جسکو عامی لوگ سمجھ نہیں پاتے۔

فضیلت: سے مراد وہ جزوی فضائل ہوتے ہیں جو خاص کسی ایک صحابی کے لیے مخصوص ہوتے ہیں یا اس فضیلت جزوی میں وہ بقیہ تمام اصحاب رسولﷺ اور اہل بیت میں اس خاص جزوی فضیلت میں افضل ہوتا ہے نہ کہ کلی طور پر ۔

بطور مثال:

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ  کی یہ جزوی فضیلت ہے کہ اسلام میں انکی گواہی دو اشخاص کے برابر تھی ۔

اب یہ فضیلت نہ  خلفاء راشدین کو ملی نہ ہی اہل بیت میں کسی کو ملی تو کہا جائے گا اس فضیلت جزوی میں حضرت خزیمہ بقیہ تمام پر افضل ہیں نہ کہ فضائل کلی میں ۔

مثال دوم:

حضرت عثمان کی حیاء اس فضیلت میں انکا اور کوئی ثانی نہیں کہ حضور اکرم فرماتے کہ ان سے تو فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں۔ اس  خاص فضیلت جزوی میں حضرت عثمان بقیہ تمام اصحاب میں افضل ہیں نہ کہ کلی فضائل میں ۔


اب  آتے ہیں مذکورہ موضوع کی طرف کہ حضرت معاویہ ؓ اپنی خاص جزوی فضیلت ”حلم” میں بقیہ تمام اصحاب رسولﷺ اور اہل بیت پر مقدم تھے۔

امام خلال اپنی السنہ میں روایت کرتے ہیں :

أخبرني محمد بن مخلد، قال: حدثني نصر بن داود، قال: ثنا محمد بن عبد الملك، قال: حدثني أبو عاصم العباد أبي، عن هشام، عن محمد بن سيرين، عن ابن عمر، قال: ” كان معاوية أحلم الناس. قالوا: يا أبا عبد الرحمن، أبو بكر؟ قال: أبو بكر رحمه الله خير من معاوية، ومعاوية من أحلم الناس، قالوا: يا أبا عبد الرحمن، عمر؟ قال: عمر خير من معاوية، ومعاوية من أحلم الناس "

امام محمد بن سیرین فرماتے ہیں حضرت ابن عمر ؓ کے حوالے سے :

حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ حضرت  معاویہؓ تمام لوگوں میں سب سے حلم یعنی بردباری والے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ اے ابو عبد الرحمٰن (ابن عمر) کیا وہ ابو بکر ؓ سے بھی زیادہ حلم والے تھے ؟ 

تو حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا  کہ حضرت ابو بکر  حضرت معاویہؓ سے افضل ہیں  اور  حضرت معاویہؓ لوگوں میں (ان سمیت) زیادہ حلم یعنی بردباری و تحمل مزاج تھے۔

پھر حضرت ابن عمر ؓ سے فرمایا گیا کہ کیا حضرت معاویہؓ حضرت عمر بن خطابؓ سے بھی زیادہ حلم والے تھے ؟

تو حضرت ابن عمرؓ نےفرمایا حضرت عمرؓ حضرت معاویہؓ سے افضل ہیں لیکن حضرت معاویہ (ان سمیت) تمام لوگوں سے زیادہ  حلم (بردباری اور تحمل مزاج ) شخصیت تھے ۔

[السنہ للخلال برقم: ۶۸۱ وسندہ حسن]

معلوم ہوا کہ حضرت ابن عمرؓ نے شیخین پر حلم کی فضیلت و صفت میں حضرت معاویہؓ کو ان پر مقدم کیا ۔


رجال کا مختصر تعارف:

۱۔ محمد بن مَخْلَد بن حفص، أبو عبد الله الدُّوريُّ العَطَّار

سُئل عنه الدارقطني فقال: ثقة مأمون.

[تاریخ الاسلام برقم: 30]

۲۔ أبو منصور نصر بن داود بن منصور بن طوق الصغاني المعروف بالخلنجي

وهو من أهل الصدق

[الانساب للسمعانی:  ۵/۱۸۴]

نیز امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں:

سمعت منه بواسط ومحله الصدق

میں نے ان سے واسط کے مقام پر سنا ہے  یہ سچائی کے مرتبہ پر ہیں۔

[الجرح والتعدیل برقم: 2166]

اور امام ابن ابی حاتم ان سے روایت بھی کرتے تھے ۔

جیسا کہ امام ذھبی کہتے ہیں:

نصر بن داود بن منصور بن طوق

وَعَنْهُ: محمد بْن مَخْلَد، وعبد الرَّحْمَن بْن أبي حاتم، وجماعة

نصر بن داود ان سے محمد بن مخلد ، اور امام ابن ابی حاتم اور ایک جماعت روایت کرتی ہے ۔

[تاریخ الاسلام برقم: 450]

اور یہ بات امام ابن ابی حاتم کی تصریحات سے ثابت ہے کہ امام ابن ابی حاتم بھی سوائے ثقہ کے روایت نہیں کرتے تھے اپنے نزدیک تو یہ راوی امام سمعانی و ابن ابی حاتم کی توثیق کے مطابق صدوق درجہ کا ہے ۔

۳۔ ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ المَلِكِ القُرَشِيُّ

الإِمَامُ، الثِّقَةُ، المُحَدِّثُ، الفَقِيْهُ،

[سیر اعلام النبلاء برقم:32]

۴۔ أَبُو عاصم العباداني المرئي البَصْرِيّ، اسمه عَبد اللَّه بْن عُبَيد اللَّه

امام مزی مختلف محدثین سے انکی توثیق نقل کرتے ہیں:

قال عَبَّاس الدُّورِيُّ ، عَنْ يحيى بْن مَعِين: لم يكن به بأس، صالح الحديث.

وَقَال عَمْرو بْن علي: كَانَ صدوقا ثقة.

وَقَال أَبُو زُرْعَة: شيخ.

وَقَال أَبُو حاتم : لَيْسَ بِهِ بأس.

وَقَال أَبُو داود  : لا أعرفه.

وَقَال أَبُو جعفر العقيلي : منكر الحديث.

[تھذیب الکمال للمزی برقم: 7460]

امام مزی نے فقط  دو مبھم جروحات لکھی ہیں۔

امام ابو داود کہتے ہیں میں  اسکو نہیں جانتا اور امام عقلی جو متشدد ہے منکر الحدیث جرح کرنے میں معروف ہیں

تو اس سے اس راوی کی ثقاہت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔


امام ابن حجر عسقلانی سے تسامح ہوا کہ انہوں نے تقریب میں اس راوی کو لین الحدیث قرار دیا ہے ۔

جیسا کہ لکھتے ہیں:

أبو عاصم العباداني، البصري، اسمه: عبد الله بن عبيد الله : لين الحديث، من الثامنة.

جبکہ انکا تعاقب کرتے ہوئے محدث علامہ شعیب الارنووط الحنفی علیہ الرحمہ کہتے ہیں:

  • بل: صدوق حسن الحديث، فقد وثقه عمرو بن علي وأبو زرعة، وقال ابن معين: لم يكن به بأس، صالح الحديث، وقال أبو حاتم: ليس به بأس، وذكره ابن حبان في "الثقات”، وقول أبي داود لا أعرفه: ليس بشيء، فقد عرفه أبو حاتم وغيره، وقول العقيلي: منكر الحديث من مبالغاته وتعنته.
  • بلکہ یہ صدوق  حسن الحدیث ہے ۔ جیسا کہ  عمرو بن علی  و ابو زرعہ نے انکو ثقہ کہا ہے ۔ اور امام ابن معین کہتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں یہ صالح الحدیث ہے ۔ اور امام ابو حاتم کہتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اور ابن حبان نے بھی ثقات میں درج کیا ہے ۔ اور ابو داود کا یہ قول کہ میں اسکو نہیں جانتا یہ کوئی علت نہیں۔ جبکہ امام ابو حاتم اور دیگر نقاد اس راوی پر مطلع ہیں۔ اور امام عقیلی کا قول ”منکر الحدیث” یہ مبالغہ ہے انکی متعنت طبیعت کے سبب

[تحریر تقریب الھتذیب ، برقم: 8195]

۵۔ هِشَامُ بنُ حَسَّانٍ أَبُو عَبْدِ اللهِ القُرْدُوْسِيُّ

امام ذھبی انکے بارے لکھتے ہیں:

الإِمَامُ، العَالِمُ، الحَافِظُ، مُحَدِّثُ البَصْرَةِ،

وَرَوَى: حَمَّادٌ، عَنْ سَعِيْدِ بنِ أَبِي صَدَقَةَ: أَنَّ مُحَمَّدَ بنَ سِيْرِيْنَ، قَالَ: هِشَامٌ مِنَّا أَهْلَ البَيْتِ.

قَالَ سَعِيْدُ بنُ أَبِي عَرُوْبَةَ: مَا رَأَيْتُ – أَوْ مَا كَانَ أَحَدٌ – أَحْفَظَ عَنْ مُحَمَّدٍ مِنْ هِشَامٍ.

قُلْتُ لِيَحْيَى بنِ سَعِيْدٍ: هِشَامٌ فِي ابْنِ سِيْرِيْنَ أَحَبُّ إِلَيْكَ، أَوْ عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، وَخَالِدٌ الحَذَّاءُ؟

قَالَ: هِشَامٌ.

یہ امام عالم حافظ اور بصرہ کے محدث ہیں ۔

امام حماد سعید ن ابی صدقہ سے روایت کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین نے فرمایا کہ یہ ھشام میرے گھر والوں میں سے ہے ۔

اور امام سعید ن ابی عروبہ کہتے ہیں  کہ میں نے ھشان جیسا  امام محمد بن سیرین سے روایت کرنے والا کوئی حافظ نہیں دیکھا۔

میں نے یحیی بن سعید القطان سے ھشان کا امام ابن سیرین سے روایت کرنے کے حوالے سے پوچھا کہ آپ ابن سیرین سے روایت کرنے میں عاصم پسند ہے ؟ ھشام یا خالد ؟

تو انہوں نے کہا کہ ھشام

[سیر اعلام النبلاء برقم: 154]

نوٹ: ھشام بن حسان یہ تیسرے درجہ کے مدلس ہیں بقول امام ابن حجر عسقلانی جن رواتہ کی معنن روایت مقبول نہیں ہوتی ہے لیکن  یہ امر یہاں بطور علت نہیں ہے کیونکہ امام ھشام امام محمد بن سیرین کی روایات کے سب سے بڑے حافظ تھے جیسا کہ اوپر ہم ائمہ سے نقل کر آتے ہیں اور انکی زیادہ مجلس امام ابن سیرین کے ساتھ تھی کہ امام ابن سیرین انکو اپنے گھر کے افراد میں شمار کرتے تھے ۔

یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر عسقلانی تقریب  میں  کہتے ہیں :

هشام بن حسان الأزدي القردوسي، بالقاف وضم الدال، أبو عبد الله البصري: ثقة من أثبت الناس في ابن سيرين

ھشام بن حسان الازدی یہ ثقہ اور امام ابن سیرین سے روایت کرنے والے تمام لوگوں میں ثبت تھے

[تقریب التھذیب ، برقم: 7289]

۶۔امام  محمد بن سیرین

یہ متفق علیہ ثقہ ثبت مجتہد و محدث امام تھے اور حضرت ابن عمر کے معروف تلامذہ میں سے تھے ۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ روایت اپنی اس منفرد سند کے ساتھ بھی حسن ہے۔

البتہ اس روایت کی ایک اور سند بھی امام خلال نے ذکرکی ہے جو کہ درج ذیل ہے :

حدثناه الدوري قال: ثنا نوح بن يزيد المؤدب قال: ثنا إبراهيم بن سعد، عن محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر قال: «ما رأيت أحدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم كان أسود من معاوية» . قال: قلت: هو كان أسود من أبي بكر؟ قال: هو والله أخير منه، وهو والله كان أسود من أبي بكر ". قال: قلت: فهو كان أسود من عمر؟ قال: عمر والله كان أخير منه، وهو والله أسود من عمر ". قال: قلت: هو كان أسود من عثمان؟ قال: والله إن كان عثمان لسيدا، وهو كان أسود منه "

(نوٹ: اس سند کے تمام رجال اعلی ثقہ ہیں فقط محمد بن اسحاق کی تدلیس کا احتمال ہے لیکن چونکہ یہ رویات بطور شاہد ہے معتبر ہے ۔ پچھلی سند کی تحقیق ہم پیش کر آئے ہیں)

حلم معاویہؓ  پر دوسری روایت:

امام نافع  حضرت ابن عمر ؓ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرمﷺ کے بعد حضرت معاویہ سے اسود کوئی نہیں دیکھا۔  امام نافع کہتے ہیں میں نے کہا کہ کیا وہ حضرت ابو بکر ؓ سے بھی اسود تھے ؟ تو ابن عمرؓ نے فرمایا وہ (حضرت ابو بکر)  حضرت معاویہؓ سے افضل ہیں  لیکن  اللہ کی قسم  حضرت معاویہؓ حضرت ابو بکر ؓ سے بھی زیادہ اسود تھے۔

امام نافع کہتے ہیں میں نے کہا کیا  وہ (حضرت معاویہؓ) حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ اسود تھے؟

تو فرمایا : حضرت عمر اللہ کی قسم ان (حضرت معاویہؓ) سے افضل ہیں  لیکن وہ ( حضرت معاویہؓ) حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ اسود تھے۔

امام نافع کہتے ہیں میں نے کہا کیا وہ حضرت عثمان سید سے بھی زیادہ اسود تھے ؟

تو حضرت ابن عمر نے فرمایا بیشک وہ ان سے بھی زیادہ اسود تھے ۔

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام خلال کہتے ہیں:

قال الدوري: قال بعض أصحابنا: قال أحمد بن حنبل: معنى أسودا أي أسخى

امام دوری کہتے ہیں ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ امام احمد بن حنبل نے اسود کا معنی سب سے زیادہ سخی کے بیان کیا ہے ۔

نیز دوسری جگہ امام خلال امام احمد بن حنبل سے اپنی سند صحیح سے اس روایت کی تفسیر و شرح بیان کرتے ہوئے نقل کرتے ہیں:

أخبرنا عبد الله بن أحمد، قال: سمعت أبي يقول في حديث ابن عمر: «ما رأيت أحدا بعد النبي صلى الله عليه وسلم كان أسود من معاوية» . قال: ” تفسيره: أسخى منه

مجھے خبر دی امام عبداللہ بن احمد بن حنبل نے وہ اپنے والد  کو کہتے ہوئے سنا  حضرت ابن عمر کی اس حدیث ” میں نے نبی اکرمﷺ کے بعد حضرت معاویہؓ سے زیادہ اسود کوئی نہیں دیکھا” کی تفسیر کرتے ہیں ان سے زیادہ سخی (کوئی نہ تھا)

نیز امام خلال آگے فرماتے ہیں:

وقد روى هذا التفسير عن أحمد بن حنبل غير واحد ثقة،

اور یہی تفسیر امام احمد بن حنبل سے بیشتر ثقہ رواتہ نے بیان کی ہے

[السنہ للخلال ، برقم: 678، وسندہ صحیح علی احمد بن حنبل]


چونکہ امام احمد بن حنبل علل کے امام ہیں تو اس روایت کی شرح و تفسیر بیان کرکے امام احمد بن حنبل نے بھی اس روایت کی تصحیح و تحسین کر دی ہے ۔

اور  یہی صفت و فضیلت

حضرت ابن عباس سے ،

حضرت جعفر صادق

حضرت امام باقر سے

اور انکے بقول حضرت امام عقیل بن ابی طالب سے مروی ہے ۔

حضرت سعد بن ابی وقاص سے  مروی ہیں صحیح الاسناد جس پر ہم کئی بار تحریر پوسٹ کر چکے ہیں ۔


تو یہ وہ خاص جزوی فضیلت اور صفت تھی حضرت معاویہؓ کی جس میں وہ نبی اکرمﷺ کے تمام اصحاب ؓ اور انکے تمام اہل بیت ؓ میں سے افضل تھے ۔ صفت  ”حلم” میں ۔

اور اسی طرح جزوی فضائل مولا علی ؓ کے تو بہت زیادہ ہیں جن میں وہ خاص جزوی فضائل میں تو افضل ہیں لیکن اہلسنت کے نزدیک کلی فضائل اور جامع افضلیت کا معیاور مدار تقویٰ ہے جس میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا کوئی ثانی نہیں ۔ کیونکہ قرآن نے تقویٰ کی بنیاد  کو سبقت کی دلیل بنایا ہے ۔

تو اس لیے جزوی  فضائل بیان کرکے جس طرح تفضیلی عامیوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اصل میں یہ فضائل جزوی اور افضلیت کے دلائل کو مکس کر دیتے ہیں ۔

کیونکہ فضیلت اور چیز ہے اور افضلیت  کلی اور چیز ہے ۔

تحقیق: اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے