حدیث توسل عثمان بن حنیف پر انور شاہ راشدی کا رد ازقلم: اسد الطحاوی

حدیث توسل عثمان بن حنیف ۲
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حدیث توسل عثمان بن حنیف اور ابو محبوب انور شاہ   راشدی کا رد  اور بنیادی راوی شبیب بن سعید پر اعتراضات کا جواب 

حدیث توسل عثمان بن حنیف   پر بہت پہلے ہی ۴۲ صفحات پر مشتمل اس روایت کے تمام روایات کا مدلل جواب لکھ چکے ہیں اور انور راشدی صاحب اس پر مطلع ہوئے ہیں اور پھر انہوں نے ہمارے رد میں تحریر لکھی ہے۔

حدیث توسل حضرت عثمان بن حنیف کے تعلق سے کیونکہ  انہوں نے اس روایت پر ایسے اعتراضات نہیں کیے جو آج سے پہلے ہر غیر مقلد کرتا تھا یا ظہیر امن پوری صاحب نے ایک ویڈیو بنا کر اپنی طرف سے ایک جرح اس  پر کی تھی خیر ہم نے ا س پر تمام اعتراضات کا مدلل رد پہلے لکھ  چکے ہیں۔

لیکن ہم کو انورشاہ راشدی صاحب کی یہ تحریر جو انہوں نے اس روایت کی تضعیف کی کوشش میں لکھی ہے بہت سطحی ہے جس کو پڑھ کر ہم کو یہ افسوس ہوا جسکا جواب مدلل طریقے سے اور دلائل کثیرہ سے ہم پہلے دے چکے ان اعتراضات کو پھر نئے رنگ میں بار بار پیش کیا جا رہا ہے جبکہ کوئی علت ہے نہیں اس پر متعدد صفحات کالے کر کے ذبردستی علت  بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن اس سے کوئی خاص فائدہ ہونے والا نہیں برحال اس بار ہم بھی انکے اعتراضات کو کچھ اور مدلل طریقے رد کرینگے کہ جو اعتراضات عمومی طور پر یہ پیش کرتے ہم اسکو جڑ سے اکھاڑ دیتے ہیں تاکہ ن نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔

  حدیث توسل عثمان بن حنیف  کی روایت کی سند کو پیش کرتے ہیں پہلے ہم، جسکو امام یعقوب بن سفیان الفسوی بیان کرتے ہیں :

 حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بن جعفر، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَديني، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ , عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ: أَنَّ رَجُلاً كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عثمان بن عفان في حاجة , فَكَانَ عُثْمَانُ لاَ يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ , وَلاَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حَنِيفٍ , فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حَنِيفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ , ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّي مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي تقضي حَاجَتِي , تَذْكُرُ حَاجَتَكَ , ثم رح حَتَّى أَرُوحَ , فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ , فَصَنَعَ ذلك , ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ بن عفان، فجاء البواب، فأخذ بيده فأدخله على عثمان , فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ , فقَالَ له: حَاجَتُكَ؟ [7/أ] فَذَكَرَ له حَاجَتَهُ , فَقَضَاهَا، ثم قَالَ ما فهمت حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَ السَّاعَة، وقال انظر مَا كَان لَكَ مِنْ حَاجَةٍ ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِي عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ، فقال له: جزاك الله خيرًا، ما كان ينظر في حاجتي، ولا يلتفت إلي حتى كلمته، فقال عثمان بن حنيف: ما كلمته ولكني سَمِعْتُ رَسُول الله صَلَّىَ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَه ضَرِيرٌ فَشَكَى إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّىَ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَتَصْبِر؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثم قل اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّي مُحَمَّدٍ، نَبِيَّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي، فَيجْلِي لي بَصَرِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ وَشَفِّعْنِي فِي نَفْسِي، فقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: فَوَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضرر قَطُّ.

ایک شخص سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی ضرورت میں آیا کرتا تھا اور عثمان رضی اللہ عنہ (مشغولیت کی وجہ سے ) اس کی طرف متوجہ نہ ہوتے اور اس کی ضرورت میں غور نہ فرماتے۔ وہ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے شکایت کی۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : لوٹا لاؤ، وضو کرو، پھر مسجد جا کر دو رکعت نماز پڑھو، پھر کہو :اللھم ! إني أسئلك، وأتوجه إليك بنبينا محمد صلي الله عليه وسلم نبي الرحمة، يامحمد ! إني أتوجه إلي ربي، فيقضي حاجتي۔ ”یا اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اپنے نبی رحمت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تیری طرف متوجہ کرتا ہوں۔ یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ میری ضرورت کو پورا کر دے۔  پھر اپنی ضرورت کو اللہ کے سامنے رکھ دو”

 پھر میرے پاس آ جاؤ تاکہ میں تمہارے ساتھ چلوں۔ اس شخص کی ضرورت پوری ہوئی۔ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہی دعا ایک نابینا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی تو اس کی بینائی لوٹ آئی

[مشيخة يعقوب بن سفيان الفسوي، برقم: 113]

حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسَ المُقْرِي الْمِصْرِيُّ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ "

[ المعجم الکبیر للطبرانی برقم : 508]

اس روایت کو امام الفسوی نے شبیب بن سعید کے بیٹے احمد بن شبیب بن سعید کےطرقی سے بیان کیا ہے ۔اور امام طبرانی نے ابن وہب کے طریق سے شبیب بن سعید سے بیان کیا ہے یعنی اس روایت کو بیان کرنے میں ابن وھب منفرد نہیں ہے شبیب بن سعید سے


حدیث توسل حضرت عثمان بن حنیف کی  روایت پر راشدی صاحب کا پہلا اعتراض درج ذیل تھا۔

  • اعتراض

اس روایت میں مخور قصہ ضعیف اور ناقبل اعتبار ہے اس میں وجہ ضعف شبیب بن سعید یعنی عبداللہ بن وھب مصری  کے استاذ ہیں

امام علی بن مدینی کی رائے :

امام ابن عدی اپنی سند سے امام علی بن مدینی کا قول نقل کرتے ہیں :

حدثنا ابن العراد، حدثنا يعقوب بن شيبة سمعت علي بن المديني يقول شبيب بن سعيد بصري ثقة كان من أصحاب يونس كان يختلف في تجارة إلى مصر وكتابه كتاب صحيح قال علي وقد كتبها عن ابنه أحمد بن شبيب.

شبیب بن سعید ثقہ ہے اور یونس کے اصحاب میں سے تھے ، آپ کا تجارت کے سلسلے میں مصر آناجانا تھا ، آپ کی کتاب صحیح ہے ۔ جس کو میں نے آپ کے بیٹے احمد بن شبیب سے لکھا ہے۔

ابن عدی کا کلام :

شبيب بن سعيد الحبطي أبو سعيد التميمي.

حدث عنه بن وهب بالمناكير وحدث شبيب عن يونس، عن الزهري نسخة الزهري أحاديث مستقيمة.

شبیب بن سعید حبطی ابو سعید تمیی ، اس سے ابن وھب نے منکر احادیث بیا ن کی ہیں اور شبیب کے پاس زہری کا نسخہ تھا وہ روایت کیا کرتا وہ محفوظ ہے

نیز فرماتے ہیں :

ولشبيب بن سعيد نسخة الزهري عنده عن يونس، عن الزهري وهي أحاديث مستقيمة وحدث عنه بن وهب بأحاديث مناكير وحدثني روح بن القاسم الذي امليتهما يرويهما بن وهب، عن شبيب بن سعيد وكان شبيب إذا روى عنه ابنه أحمد بن شبيب نسخة يونس، عن الزهري إذ هي أحاديث مستقيمة ليس هو شبيب بن سعيد الذي يحدث عنه بن وهب بالمناكير الذي يرويها عنه ولعل شبيب بمصر في تجارته إليها كتب عنه بن وهب من حفظه فيغلط ويهم وأرجو ان لا يتعمد شبيب هذا الكذب.

شبیب  کے پاس زہری کا بروایت یونس ایک نسخہ تھا ، جس کی مروی احادیث قوی ہیں ، اور ابن وھب نے اس  سے منکر احادیث بیان کی ہیں ، شبیب سے جب اسکا بیٹا احمد زہری کا نسخہ روایت کرے تو وہ احادیث قوی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیب نہین جس سے ان وھب منکر احادیث بیان کرتا ہے ، ممکن ہے شبیب مصر میں جب بغرض تجارت گئے  تھے تب وہاں اس سے ابن وھب نے احادیث سن کر بعد میں کی ہو، جنہیں شبیب اپنے حافظسے سے بیان کرنے کی کوشش کی اور وھم اور غلطی کا شکار ہو ئے ، اور میں سمجھتا ہوں کہ اس نے عمدایہ غلط احادیث بیان نہیں کی ہیں۔

اسکے بعد  راشدی صاحب ان عبارات سے ایک اپنا مفہوم کشیدا کرتے ہیں  اور لکھتے ہیں :

شبیب کے پاس زہری کا نخاسہ تھا جسے وہ اپنے شیخ یونس کے طریق سے سے روایت کرتے تھے اوریہ نسخہ شبیب سے اسے بیٹے احمد اس نسخہ سے روایت کرے تو اس نسخہ کی احادیث صحیح و قوی ہوتی ہیں

کیونکہ ایسی صورت میں شبیب کتاب سے روایت کرتے ہیں

(کتاب سے بیان کرنے میں حفظ و ضبط کی کوئی شرط نہیں ) البتہ شبیب جب مصر میں بغرض تجارت گے تو اس نے اپنے حافظہ  سے احادیث بیان کیں۔اور وہاں ا سے ابن وھب نے بھی سماع کیا مگر شبیب کے حافظے میں خلل ہونے کی وجہ سے اس سے منکر احادیث بیان ہو گئیں پھراس سارے مضمون کو لکھنے کے بعد جناب دو باتیں بیان کرتے ہیں راشدی صاحب لکھتے ہیں :

  1.  شبیب سے عبداللہ بن وب بیان کرے تو وہ احادیث منکر ہوتی ہیں۔

  2.  شبیب زیری سے بروایت یونس جو نسخہ بیان کرتے تھے اس سے اسکی بیٹے احمد کیا وہ   احادیث قوی ہیں۔

پھر خلاصہ لکھتے ہیں کہ اس سے سیدھی سی بات ہے شبیب کے حافظے میں خلل تھا جب کتاب سے بیان کریگا اسکا بیٹا نسخہ زہری کا وہ صحیح ہے باقی ضعیف اور ناقبل احجتاج ہے۔

پھر ابن مدینی کی صریح توثیق پر کچھ فاسد استدلال وارد کیے جسکا جواب  اب ہم پیش کرتے ہیں ۔


حدیث توسل عثمان بن حنیف کے اعتراضات پر جواب : (اسد الطحاوی )

سب سے پہلے تو انہوں نے  یہ اصولی غلطی کی ہے کہ شبیب بن سعید پر تمام محدثین کی رائے بیان نہیں کی فقط ابن عدی کی کتاب سے  امام مدینی کی توثیق نقل کی اور پھر امام ابن عدی کا کلام نقل کر کے  ابن مدینی کی صریح توثیق اور کتب کی تصحیح سے یہ باطل مطلب نکالا کہ سوائے کتب کے اس میں غلطی ہوتی ہے حافظے سے ۔اور اپنے اس موقف کو بیان کرنے کے لیے انکو باقی تمام محدثین سے شبیب بن سعید پر انکی رائے نہ لکھنے میں عافیت سمجھی تاکہ انکا کشیدہ کیا گیا من پسند مطلب پر کسی طریقے سے آنچ نہ آئے اور لوگوں کی نظر میں انکا موقف کمزور نہ پڑ جائے تو پہلے ہم اصول کے تحت  شبیب بن سعید پر محدثین کی آراء کو پیش کرتے ہیں:

سب سے پہلے ہم بھی امام ابو حاتم اور امام ابو زرعہ سے اسکی توثیق پیش کرتے ہیں :

 شبيب بن سعيد أبو سعيد التميمي والد أحمد بن شبيب بن سعيد البصري روى عن روح بن القاسم ويونس بن يزيد ومحمد بن عمرو روى عنه عبد الله بن وهب وابنه أحمد بن شبيب بن سعيد سمعت أبي يقول ذلك وسألته عنه فقال: كان كتب يونس بن يزيد وهو صالح الحديث، لا بأس به. نا عبد الرحمن قال سمعت أبا زرعة يقول: شبيب بن سعيد لا بأس به، بصري كتب عنه ابن وهب بمصر.

امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ اس کے پاس یونس کی کتاب تھی  اور یہ صالح الحدیث  اور لا باس بہ ہے یعنی اس میں کوئی حرج نہیں(حفظ و ضبط کے لحاظ) سے۔

اورامام ابن ابی حاتم کہتے ہیں میں نے ابو زرعہ سے سنا  وہ کہتے ہیں شبیب بن سعید میں کوئی حرج نہیں (ضبط و عدالت کے اعتبار سے)  اور ابن وھب نے ان سے مصر کے مقام پر لکھا ہے ۔

[ الجرح والتعديل برقم:1572 ]

انہوں نے بھی کتابت کا ذکر کیا ہے کہ انکے پاس تھی تو کیا یہاں بھی جناب یہی باطل مطلب مراد لینگے کہ چونکہ کتاب کا ذکر آگیا تو لا باس بہ ضبط پر نہیں ؟

 امام ابو حاتم ہیں جو متشدد اور متعنت ہیں۔ امام ذھبی سے گواہی پیش کرتے ہیں وہ کیا کہتے ہیں ۔چناچہ امام ذھبی اپنی آخری تصنیف سیر اعلام النبلاء میں امام ابو حاتم کے ترجمے میں لکھتے ہیں :

إذا وثق أبو حاتم رجلا فتمسك بقوله، فإنه لا يوثق إلا رجلا صحيح الحديث، وإذا لين رجلا، أو قال فيه: لا يحتج به، فتوقف حتى ترى ما قال غيره فيه، فإن وثقه أحد، فلا تبن على تجريح أبي حاتم، فإنه متعنت في الرجال (1) ، قد قال في طائفة من رجال (الصحاح) : ليس بحجة، ليس بقوي، أو نحو ذلك.

امام ذھبی فرماتے ہیں : جب امام ابو حاتم کسی رای کی توثیق کریں تو ان کے قول کو مضبوطی سے پکڑ لو کیونکہ وہ صحیح الحدیث راوی کی ہی توثیق کرتے ہیں اور جب وہ کسی راوی پر جرح کریں یا اسکے متعلق یہ کہیں کہ اس سے حجت  نہیں پکڑی جاتی ، تو ا کے قول سے اعراض کرو حتی کہ تم یہ دیکھ لو کہ دوسرے محدثین اس راوی کے بارے کیا کہتے ہیں تو اگر اس راوی کو کسی نے ثقہ کہا ہے تو ابو حاتم کی تجریح کی طرف دھیہان مت دو کیونکہ  وہ ہر رجال کے معاملے میں متعنت (متشدد) ہیں اور انہوں نے صحین کے رجال کے ایک گروہ کے متعلق کہا ہے کہ یہ حجت نہیں ہے ، یا وہ قوی نہیں ہے اس کے مانند الفاظ۔۔۔

[سیر اعلام النبلاء جلد ۱۳ ، ص۲۶۰]

دوسری توثیق متشدد ناقد امام دارقطنی سے :

، شَبِيبَ بْنَ سَعِيدٍ الْبَصْرِيَّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

وَرَوَاهُ عَنْ شَبِيبٍ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ.

[ تعليقات الدارقطني على المجروحين لابن حبان

تیسرے متشدد ناقد امام ابن حبان سے توثیق :

 شبيب بن سعيد الحبطي أبو سعيد من أهل مصر يروي عن محمد بن عمرو ويونس بن يزيد الأيلي روى عنه بن وهب وابنه أحمد بن شبيب وهو الذي يروي عن شعبة وروح بن القاسم

[الثقات ، ابن حبان برقم:13614]

امام طبرانی سے توثیق :

شبیب بن سعید وھو ثقة

[المئجم الکبیر للطبرانی ، برقم:508]

امام  حاکم سے توثیق :

شبیب بن سعید وھو ثقة مامون

[المستدرک الحاکم  ]

شبیب بن سعید کی مزید توثیق کرنے والے امام درج ذیل ہیں جسکو امام ابن حجر نے مقدمہ ہدالساری میں درج کیا ہے :

شبیب بن سعید ابوالحبطی ابو سعید البصری وثقہ  ابن المدینی    و ابو زرعہ ، و ابو حاتم و نسائی و الدارقطنی  و الذھلی،

امام نسائی (متشدد) نے توثیق کی اور امام زھلی نے بھی امام ابن مدینی نے بھی۔

[ہدی الساری مقدمہ فتح الباری]

اورامام ذھبی نے مستدرک  میں شبیب کی بغیر یونس کے زہری کے نسخے والی روایات کو صحیح علی شرط بخاری کی تصریح کے ساتھ توثیق کی ہے

[مستدرک برقم 1930 اور 1929]

اور دیگر کتب میں بھی۔ اورامام ابن حجرعسقلانی کے حوالے سے کچھ غیر مقلدین کی طرف سے ابن حجر کا ابن عدی کا کلام کو فقط نقل کرنے کو اپنی دلیل بناتے ہیں تو اسکا ر د بھی پیش کر دیتے ہیں :

امام ابن حجر عسقلانی نے جمہور محدثین کی توثیق کی وجہ سے امام ابن عدی کی جرح کو نا صرف رد کیا ہے بلکہ اما م ابن عدی کی جرح کو بلا دلیل کہہ کر رد کیا ہے۔

جیسا کہ تقریب التہذیب میں امام ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں

”لا باس بحديثه من رواية ابنه أحمد عنه، لا من رواية ابن وھب .”

اس کی جو روایات اس کے بیٹے سے مروی ہیں، ان میں کوئی خرابی نہیں،  نہ ہی  ابن وہب سے اس کی جو روایات مروی ہیں، ان میں ۔

[تقريب التھذيب : 2739]

امام ابن حجرنے امام ابن عدی کی ابن وہب سے روایات کو منکر ہونے کی نفی کرتے ہوئے صریح طور پر رد کیا ہے اور کہا ابن وھب کی بھی شبیب سے روایت میں کوئی حرج نہیں

اور تقریب امام ابن حجر نے ہدی الساری کے مقدمے کے بعد لکھی ہے جیسا کہ تقریب میں ایک راوی کے ترجمے میں لکھتے ہیں :

كما أوضحته بأدلته في المقدمة على شرح البخاري

کہ اس (راوی ) کی وضاحت میں نے شرح البخاری کے مقدمے میں بیان کی ہے یعنی ھدی الساری میں

[تقریب التہذیب برقم ۶۴۲۲]

تقریب التہذیب امام ابن حجر عسقلانی کی تہذیب کا اختصار ہے۔ اور لسان المیزان میں بھی امام ابن حجر عسقلانی نے امام ابن عدی کی جرح کو رد کیا ہے

امام ابن حجر لسان میں ایک فصل قائم کرتے ہیں اور اس میں فقط راویان کے نام کے ساتھ ۳ قسم کے صیغوں میں سے ایک استعمال کر کے اپنا فیصلہ بیان کرتے ہیں۔

[مفتاح رموز الأسماء التي حذف ابن حجر ترجمتها من الميزان اكتفاءً بذكرها في تهذيب الكمال]

رموز التهذيب: (خ م س ق د ت ع 4 خت بخ ف فق سي خد ل تم مد كن قد عس)، ثم (صح) أو (هـ):

– (صح): ممن تكلم فيه بلا حجة.

– (هـ): مختلف فيه والعمل على توثيقه.

-ومن عدا ذلك: ضعيف على اختلاف مراتب الضعف.

-ومن كان منهم زائدا على من اقتصر عليه الذهبي في "الكاشف” ذكر ابن حجر ترجمته مختصرة لينتفع بذلك من لم يحصل له تهذيب الكمال.

یعنی جب کسی راوی کے نام کے ساتھ (صح)کا صیغہ استعمال کرینگے تو وہ ایسا راوی ہوگا جسکے بارے میں فرماتے ہیں ممن تکلم فیہ بلا حجتہ  یعنی اس راوی کے بارے میں بغیر کسی دلیل کے تکلم کیاگیا ہے۔دوسرا صیغہ ہے (ھ-) جب ایسا راوی جسکی تعدیل اور جرح دونوں ہون لیکن جرح مفسر نہ ہو  اور اسکی تعدیل کی طرف فیصلہ ہوگا امام ابن حجر کا اور وہ راوی صدوق یا حسن الحدیث ہوگا۔اور باقی جس راوی کے نام کے نام کے ساتھ کوئی حرف ہوگاتو وہ اسکی تضعیف کے مختلف مراتب کے مطابق ہوگا

اب دیکھتے ہیں امام ابن حجر نے شبیب بن سعید کو کس طبقے کا رکھا ہے ؟

 خ خد س , (صح) شبيب بن سعيد الحبطي

[تقریب التھذیب2: 262/ 3658]

یعنی امام ابن حجر نے اسکو ان روایان میں شمار کیا ہے جس پر تکلم بغیر کسی حجت و دلیل کے کیاگیا ہے۔اور یہ زبردست ثقہ راوی ہے۔

اب ہم  اما م ابن حجر عسقلانی کا موقف تحقیقا بھی ثابت کرتے ہیں کہ ابن عدی کی جرح کا رد کیوں کیا  اب آتے ہیں ابن عدی کے نقد پر جسکو راشدی صاحب نے اوپر پیش کیا تھا۔

امام ابن عدی کی شبیب بن سعید پر کی گئی جروحات کی حقیقت کا حال درج ذیل ہے :

عامی لوگ اس حصے کو سمجھنے میں مشکل کا شکار ہونگے  تو امام ابن عدی کی شبیب بن سعید پر وھم کی جرح  کا رد کیا گیا ہے دلائل سے کہ جن دو روایات کو امام ابن عدی نے منکر بیان کی شبیب کی ان میں وہ منفرد نہیں بلکہ انکے علاوہ وہ روایات اور اسناد سے ثابت ہیں

اور ایک روایت میں وھم ثابت کیا ہے تو ایک روایت میں وھم ہو جانا اس سے تو کوئی ثقہ سے ثقہ امام محفوظ نہیں بلکہ جس سند سے وھم بیان کیا ابن عدی نے اس میں خود ایک راوی ایسا موجود ہے جسکی ایک روایت کو امام ذھبی نے منکر جدا کہا ہے لیکن وہ بھی ثقہ راوی  کو وھم ہونا اسکو ضعیف نہیں بناتا یہاں تک کہ ا سپر کثیر الوھم یا کثیر الخطاء کی جرح مفسر نہ ہو  یہی وجہ ہے امام ابن حجر یا امام ذھبی یا بعد والے کسی امام نے ان کے حفظ پر کوئی جرح نہیں کی۔نہ ہی کسی نے یہ کتاب  والی شرط لگائی ہے۔


حدیث توسل  حضرت عثمان بن حنیف کی روایت کے راوی پر امام ابن عدی الکامل میں جو اسناد بیان  کرکے ان پر نکارت کا الزام لگایا انکی تفضیل درج ذیل ہے:

پہلی روایت کو امام ابن عدی نے شبیب بن سعید کی منکر سمجھ کر بیان کی سابق بن ناجیہ کے طریق سے لیکن اس میں شبیب بن سعید منفرد نہیں

حدثنا أبو العلاء الكوفي، حدثنا أحمد بن سعيد الهمداني (ح) وحدثنا موسى بن العباس، حدثنا يونس بن عبد الأعلى، قالا: حدثنا ابن وهب أخبرني أبو سعيد التميمي عن روح بن القاسم، عن أبي عقيل عن سابق بن ناجية، عن أبي سلام قال مر بنا رجل فقالوا إن هذا قد خدم النبي صلى الله عليه وسلم قال: فقمت إليه فقلت، حدثني شيئا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يتداوله الرجال بينك وبينه قال سمعته يقول: من قال حين يصبح وحين يمسي رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا كان حقا على الله أن يرضيه يوم القيامة

جبکہ یہ روایت شبیب بن سعید کی منکرات میں بالکل نہین بلکہ یہ متن دوسری سند سے ثابت ہے جیسا کہ امام نسائی اپنی السنن الکبری میں اپنی سند سے اس روایت کو بیان کرتے ہیں  سابق بن ناجیہ سے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ سَابَقِ بْنِ نَاجِيَةَ، عَنْ أَبِي سَلَامٍ، قَالَ: مَرَّ بِنَا رَجُلٌ طُوَالٌ أَشْعَثُ، فَقِيلَ: إِنَّ هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: أَخَدَمْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنْهُ حَدِيثًا لَمْ تَدَاوَلْهُ الرِّجَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: ” مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: «رَضِيتُ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

[السنن الكبرى النسائی  برقم:1 0324]

تو اس روایت کو شبیب کی منکر قرار دینا امام ابن عدی کی اصولی غلطی ہے۔


حدیث توسل عثمان بن حنیف کے راوی شبیب بن سعید پر نکارت کے حوالے سے دوسرے اعتراض کا جواب:

دوسری روایت جو انہوں نے پیش کی شبیب بن سعید کی منکر بنا کر  شبیب بن سعید کی شعبہ کے طریق سے جو کہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے عبداللہ بن عکیم سے ہے:

حدثنا الحسن بن علي بن سهل النيسابوري بمصر، حدثنا ياسين بن عبد الأحد، حدثنا أبي، عن يحيى بن أيوب، عن أبي سعيد البصري، وهو شبيب بن سعيد عن شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن عبد الله بن عكيم قال جاءنا كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في أرض جهينة إني كنت رخصت لكم في إهاب الميتة وعصبها فلا تنتفعوا بعصب، ولا إهاب.

سب سے پہلے اس سند میں یاسین بن عبدالاحد صدوق ہے لیکن اسکا والد مجہول ہے جسکی کوئی توثیق نہیں کرتا سوائے ابن حبان کے جس سے اسکی عدالت کم سے کم ثابت تو ہوتی ہے لیکن اسکا ضبط کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے جیسا کہ امام ابن حبان فقط اتنا بیان کرتے ہیں اسکے بارے :

عبد الأحد بن أبي زرارة كنيته أبو زرعة من أهل مصر يروي عن يحيى بن أيوب حدثني محمد بن المنذر بن سعيد ثنا أبو اليمن ياسين بن عبد الأحد القتباني حدثني أبو زرعة عبد الأحد فذكره

[الثقات برقم:١٤٢١٣]

اور اس روایت میں بھی شبیب بن سعید منفرد نہیں بلکہ انکی متابعت  حجاج بن محمد نے کررکھی ہے شعبہ سے۔امام  ابو القاسم تمام الدمشقی اپنی تصنیف میں یہ روایت اس سند سے لاتے ہیں :

 أَخْبَرَنَا أَبُو الْمَيْمُونِ، أبنا أَبُو سَعِيدٍ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَمِيلٍ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، أَنَّهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي أَرْضِ جُهَيْنَةَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ: «أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ»

[فوائدتمام برقم:٧٨٣]

تو اسکا الزام امام ابن عدی کا شبیب پر لگانا کہ یہ روایت منکر ہے یہ بات تو بالکل ہی غلط ہے جبکہ حجاج بن مسلم شعبہ سے متابع ہیں سوائے  متن میں معمولی تبدیلی کے ساتھ اور شبیب سے کوئی بھی ایک روایت  سند صحیح سے ثابت نہیں۔ یہی رویت المعجم میں جو بیان کرتا ہے شبیب کی اس میں فضالہ بن فضل ضیعف ہے۔

اور ابن عدی کی سند میں عبدالاحد مجہول راوی موجود ہے اور امام ابن عدی اپنی سند میں الکامل میں متروک ، غیر معروف روایان سے بیان کرنے میں معروف ہیں۔

لیکن امام ابن عدی اس روایت کو منکرات میں بیان کر رہے تھے جو کہ بالکل غلط ہے جبکہ امام ابو القاسم تمام نے متابع بیان کیا ہے شبیب کا شعبہ سے تو روایت بھی منکر ثابت نہ ہوئی۔


حدیث توسل عثمان بن حنیف کے راوی شبیب بن سعید پر نکارت کے حوالے سے تیسرے و آخری  اعتراض کا جواب:

آخر میں امام ابن عدی ایک روایت بیان کر کے شبیب بن سعید کا وھم ثابت کرتے ہیں جیسا ایک روایت نقل کرتے ہیں شبیب کی  الکامل میں:

أخبرنا أبو العلاء الكوفي، حدثنا أحمد بن سعيد (ح) وحدثنا موسى بن العباس، حدثنا يونس، قالا: حدثنا ابن وهب قال وأخبرني أبو سعيد التميمي عن روح بن القاسم، عن عبد الله بن الحسن، عن أمه فاطمة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إذا دخلت المسجد فصلي على النبي صلى الله عليه وسلم وقولي اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك، وإذا خرجت فصلي على النبي صلى الله عليه وسلم وقولي اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك.

اس روایت پر اما م ابن عدی  شبیب کا وھم ثابت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :

كذا قيل في هذا الحديث عن عبد الله بن الحسن، عن أمه فاطمة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وإنما رواه غيره فقال عن عبد الله بن الحسن، عن أمه فاطمة بنت الحسين عن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأبو سعيد التميمي الذي لم يسمه بن وهب في هذين الحديثين هو شبيب بن سعيد.

امام ابن عدی کی عبارت کا مفہوم یہ ہے : کہ (شبیب ) نے اس حدیث کو عبداللہ بن الحسن عن امہ فاطمہ  کی سند سے بیان کرتے ہیں۔جبکہ انکے علاوہ باقی راویان عبداللہ بن الحسن عن فاطمہ  بنت الحسین عن فاطمہ بن بنت رسول  کے طریق سے بیان کرتے ہیں۔یعنی شبیب نے حضرت  فاطمہ بن رسول کا واسطہ گرا دیا۔

امام اابن عدی کی اس بات کو مان لیا جائے تو اس راوی کا وھم ثابت ہوتا ہے اس سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوتا اور ایسے وھم بڑے بڑے ثقہ ثبت روایان سے ہوتے رہے ہیں کتب علل بھری پڑی ہیں ایسے اوھام سے۔

 اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جس سند سے امام ابن عدی نے وھم بیان کیا ہے شبیب کا اسی سند میں یونس بن عبدالاعلیٰ موجود ہیں جو خود ثقہ ہیں لیکن ان سے بھی منکر ورایت مروی ہوئی ہیں  جسکو امام ذھبی نے منکر جدا قرار دیا ہوا ہے۔

جیسا کہ امام ذھبی نے انکی منکر روایت میزان میں  بیان کی ہوئی ہے امام شافعی سے یہ بیان کرتا ہے اور اسکا تفرد ہے

 يونس بن عبد الاعلى [م، س، ق] ، أبو موسى الصدفى.

عن ابن عيينة، وابن وهب.

وعنه ابن خزيمة، وأبو عوانة، وخلق.

وثقه أبو حاتم، وغيره، ونعتوه بالحفظ والعقل، إلا أنه تفرد عن الشافعي بذاك الحديث: لا مهدي إلا ابن مريم.

وهو منكر جدا.

[میزان الاعتدال، برقم:٩٩٠٩]


  • خلاصہ تحقیق یہ ہے :

ابن عدی نے  جو امام شبیب پر منکر روایات کا الزام لگایا وہ باطل ہے جبکہ انکی متابعت دیگر راویان نے کر رکھی ہے اور ایک روایت میں وھم  بیان کیا ہے  تو وھم  ایک روایت میں ثابت ہونے سے راوی ثقاہت کے درجے سے کبھی نہیں گرتا ہے اور اسی سند میں ایک ثقہ راوی موجود ہے جسکی روایت کو امام ذھبی نے منکر جدا قرار دیا ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امام ابن عدی کو خود بھی  جرح کرنے میں کوئی یقین نہیں تھا بلکہ وہ خود بھی شک میں بتلا تھے:

جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں :

ولعل شبيب بمصر في تجارته إليها كتب عنه بن وهب من حفظه فيغلط ويهم وأرجو ان لا يتعمد شبيب هذا الكذب

ہو سکتا ہے کہ شبیب مصر میں تجارت کے سلسلے میں گیا ہو اور ابن وہب نے ان سے حافظے  سے لکھا ہو اور شبیب کو وھم اور غلطی ہوئی ہو ، ہم ان کو متہم نہیں کہتے۔

[الکامل ابن عدی]

معلوم ہو امام ابن عدی نے یہ بات مفروضے کی بنیاد پر کہی اور علم رجال میں شکوک اور مفروضوں پر مبنی باتیں نہیں چلتی وہ بھی جمہور ائمہ ناقدین بشمول متشدد و  متعنت محدثین و ناقدین کے مقابلے میں۔

تو  راشدی صاحب کا ابن عدی کی کلام جواتنا لمباچوٖڑا نقشہ کھینچا وہ سب بیکار ہے کیونکہ جس کو بنیا د بنا کر ابن عدی نے کلام کیا وہ دلیل ہی غیر ثابت ہے تو ساری جرح کی عمارت ہی زمیں بوس ہو گئی اور ساری جرح مبہم ثابت ہو گئی کیونکہ سبب غیر ثابت تھا یہی وجہ ہے امام ابن حجر عسقلانی نے ابن عدی کی جرح کو  کوئی اہمیت نہیں دی جو کہ متقن  ناقد وحافظ ہیں۔

اسکے بعد راشدی صاحب نے بھی امام ابن حجر کے کلام کومشکوک ثابت کرنے کے لیے انکی متاخری و جدید تصنیف کا ذکر کیا تو وہ بھی بیکار گیا کیونکہ ہم اوپر ثابت کر آئے کہ امام ہدی  الساری کے بعد تقریب لکھی اور واضح رد کیا ابن عدی کے کلام کا اور اسی طرح لسان المیزان میں بھی اپنے موقف پر قائم رہے۔

باقی ابن رجب  پر جو بحث چھیڑی پھر  اپنی دلیل کو خود ہی کمزور مان لیا محمود سعید ممدوح کے کلام کو نقل کر کے  کیونکہ ابن رجب نے جو استدلال کیا وہ بھی ابن عدی کے کلام پر تھا اور ابن عدی کے کلام کی حقیقت ہم اوپر بیان کر آئے۔

اور جمہور محدثین کی توثیق کے سامنے ابن عدی کے کلام کی کوئی وقعت نہیں ہے۔

کیونکہ شبیب بن سعید کی توثیق کرنے والے درج ذیل امام ہیں :

  1. امام علی بن مدینی

  2. امام نسائی

  3. امام ذھلی

  4. امام ابو زرعہ

  5. امام ابو حاتم

  6. امام طبرانی

  7. امام حاکم

  8. امام بیھقی

  9. امام ذھبی

  10. امام ابن حجر

  11. امام یوسف الصالحیی الشافعی

  12. امام ابن مندیری

امام ہیثمی وغیرہ ہیں۔

ان سب کے نزدیک شبیب بن سعید ثقہ ، ثقہ مامون ، لا باس بہ  اور صالح الحدیث ہے۔

تو جب ابن عدی کی جرح ثابت نہیں تو انکی جرح پر مختلف قرائن اپنی طرف سے انکے پیش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور اس پر جواب دینا بلا وجہ تحریر کو طویل کرنے کا ہم کو شوق نہیں کیونکہ رد ہم نے اصول پر کیا ہے۔


حدیث توسل پر انو راشدی صاحب کا آخر  اعتراض یہ  کیا کہ حضرت عثمان بن عفان اس شخص کی بات کیوں نہیں سن رہے تھے فلاں فلاں۔

تو عرض ہے یہ کوئی اصولی اعتراض بنتا نہین کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے کیونکہ حضرت عثمان بن عفان  خلیفہ اور انتظام سنبھالنے والے تھے انسان کی کوئی بھی مصروفیت ہو سکتی ہے اور بڑی وجہ یہ کہ امام بیھقی نے بھی اس روایت کو  قائم رکھا ہے اور انہوں نے بھی اسکے متن پر ایسا کوئی کلام نہیں کیا ہے۔امید ہے ہماری تحریر کو  اہل علم  پڑھ کر انصاف سے دیکھیں گے تو ان شاءاللہ انکے سامنے بھی حق واضح ہو جائے گا۔

اللہ سب کو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور صحابہ کرامؓ کے راستے پر چلنے کی توفیق دے بغیر کسی جماعتی تعصب کے
تحقیق : دعاگو اسد الطحاوی الحنفی

اس مضمون کی دوسری قسط جواب الجواب پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے