حدیث قدسی
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حدیث قدسی کیا ہے ؟ یا اسکی تعریف کیا ہے ؟

حدیث قدسی سے مراد وہ حدیث ہوتی ہے جس کے راوی (یعنی بیان کرنے والے) نبیِ کریم  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  ہوں اور اس کی نسبت اللہ پاک کی طرف ہو۔

[تیسیر مصطلح الحدیث ، ص٩٤]

حدیث قدسی کی مثال:

 نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا کہ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے : 

اَنْفِقْ يَا ابْنَ آدَمَ اُنْفِقْ عَلَيْكَ

اے ابنِ آدم! خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا

[صحیح البخاری برقم:حدیث ٥٣٥٢]


حدیث قدسی قراٰن کریم اور  میں فرق:

قراٰنِ کریم اور حدیثِ قدسی دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور رہنمائی کے ذریعے ہیں، لیکن ان میں کچھ اہم فرق بھی ہیں:

1. الفاظ اور معانی:

  • قراٰنِ کریم کے الفاظ اور معانی دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، جبکہ حدیثِ قدسی کے معانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور الفاظ رسول اللہ ﷺ کے ہیں۔

2. طریقہِ نقل:

  • قراٰنِ کریم تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے، یعنی ہر صحابی نے اسے دوسرے صحابی سے نقل کیا اور اس طرح یہ ہمارے تک پہنچا۔ حدیثِ قدسی میں خبرِ واحد اور تواتر دونوں شامل ہیں۔

3. ثواب:

  • قراٰنِ کریم کی تلاوت کرنا عبادت ہے اور ہر حرف کے بدلے 10 نیکیاں ملتی ہیں۔ حدیثِ قدسی کی تلاوت عبادت نہیں ہے اور اس کے ہر حرف کے بدلے 10 نیکیاں نہیں ملتیں۔

4. روایت:

  • قراٰنِ کریم کی روایت بالمعنیٰ جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کے الفاظ و معانی کی تلاوت کرنا عبادت ہے۔ حدیثِ قدسی اور حدیثِ نبوی کی روایت بالمعنیٰ جائز ہے۔

5. نماز میں تلاوت:

  • نماز میں قراٰنِ کریم کی تلاوت ضروری ہے، اگر نہیں کریں گے تو نماز نہیں ہوگی۔ حدیثِ قدسی کی تلاوت نماز میں نہیں کی جاتی۔

6. نام:

  • احادیثِ قدسیہ کو قراٰن کا نام نہیں دیا جاتا۔

7. آیات اور سورتیں:

  • قراٰنِ کریم میں آیات اور سورتوں کے نام ہیں، جبکہ احادیثِ قدسیہ میں ایسا نہیں ہے۔

8. وضو:

  • بے وضو شخص کا قراٰنِ کریم چھونا حرام ہے، لیکن بے وضو شخص حدیثِ قدسی کو چھو سکتا ہے۔

9. نزول:

  • پورا قراٰنِ کریم جبریلِ امین کے ذریعے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے۔ حدیثِ قدسی جبریلِ امین، الہام اور خواب کے ذریعے بیان فرمائی گئی ہیں۔

10. انکار:

  • قراٰنِ کریم کا انکار کرنے والا کافر ہے، جبکہ حدیثِ قدسی کا انکار کرنے والا کافر نہیں ہے۔

خلاصہ:

قراٰنِ کریم اور حدیثِ قدسی دونوں ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور رہنمائی کے ذریعے ہیں، لیکن ان میں کچھ اہم فرق بھی ہیں جن سے ہمیں آگاہ ہونا چاہیے۔

[مصطلح الحدیث ، ص216 ، ٢١٧]


حدیث قدسی اور حدیث رسولﷺ   میں فرق:

حدیثِ نبوی نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال، تقریر اور تقریر کی تصدیق یا نفی کے بارے میں صحابہ کرام کی روایات کو کہتے ہیں۔ اس میں نبی کریم ﷺ کے ارشادات، آپ ﷺ کے عمل، آپ ﷺ کی تقریر کی تصدیق یا نفی، اور آپ ﷺ کی خاموشی بھی شامل ہے۔

حدیثِ قدسی وہ روایت ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو اپنے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اس میں صرف اللہ تعالیٰ کے ارشادات شامل ہیں، نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال، یا تقریر کی تصدیق یا نفی نہیں۔

مثالیں:

حدیثِ نبوی:

  • نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص صبح کے وقت تین مرتبہ "قل ہو اللہ احد” پڑھے گا تو اسے شام تک کسی چیز کا خوف نہیں ہوگا۔” (صحیح بخاری)
  • نبی کریم ﷺ نے نماز میں رکوع اور سجدہ میں کیا فرمایا؟ (صحیح مسلم)

حدیثِ قدسی:

  • اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے میرے بندو! میں نے اپنے آپ کو تم پر حرام کر لیا ہے، لہذا ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔” (صحیح بخاری)
  • اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "جو شخص میرے قریب ایک بالشت کے فاصلے پر آتا ہے، میں اس کے قریب ایک ہاتھ کے فاصلے پر آ جاتا ہوں۔ اور جو شخص میرے قریب ایک ہاتھ کے فاصلے پر آتا ہے، میں اس کے قریب دو ہاتھوں کے فاصلے پر آ جاتا ہوں۔” (صحیح مسلم)
خلاصہ:

حدیثِ نبوی اور حدیثِ قدسی دونوں ہی رسول اللہ ﷺ سے روایت کی گئی باتیں ہیں، لیکن ان میں کچھ اہم فرق بھی ہیں جن سے ہمیں آگاہ ہونا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے