فرمانِ اہل بیت امام حسن بن حسن بن علی روافض نے ہمارے خلاف ایسے خروج کیا جس طرح حروریوں (خارجیوں) نے مولا علیؓ سے خروج کیا

فرمانِ اہل بیت امام حسن بن حسن بن علی
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

فرمانِ اہل بیت امام حسن بن حسن بن علی روافض نے ہمارے خلاف ایسے خروج کیا جس طرح حروریوں (خارجیوں) نے مولا علیؓ سے خروج کیا

تحریر : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

روافض و شعیہ کبھی سیدنا امیر معاویہؓ پر ، کبھی اصحاب رسولﷺ پر ، کبھی تین خلفاء پر تو کبھی شیخین پر اعتراض کرتے ہوئے نظر آتے ہیں!!!

لیکن امام حسن بن حسن بن حسن بن علی یعنی امام حسن مثنی کے بیٹے روافض کے خلاف مذمت کرتےتھے۔ 

لیکن ان بد بختوں کو یہ بدنصیبی وہاں سے ملی ہے جہاں سے خارجیوں کو ملی اور یہ دونوں گروہ مولا علیؓ و اہل بیت کے اصل دشمنِ حقیقی ہیں لیکن خالی نعرے اہل بیت کے مارنا انکا کام چلا آرہا ہے شروع سے کیونکہ اسلام میں منافقت کی بنیاد ڈالنے والا بد ترین گروہ یہی کھٹملوں کا ہے ۔

امام حسن بن حسن بن حسن بن ابی طالب ھاشمی مدنی ! جو اہل بیت کی نسل سے ہیں۔

انکے والد کو امام حسن المثنی بھی کہا جاتا ہے یعنی امام حسن مثنیؓ امام حسنؓ کے بیٹے تھے اور انکی شادی امام حسین ؓ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ سے ہوئی تھی ۔ تو معلوم ہوا کہ امام حسن بن حسن بن حسن کے والد امام حسنؓ کے بیٹے اور انکی والدہ امام حسینؓ کی بیٹی ہیں

جیسا کہ امام ابن حبان فرماتے ہیں :

الحسن بن الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم يروي عن أبيه روى عنه أهل بلده أمه فاطمة بنت الحسين بن علي مات في الحبس

امام حسن بن حسن بن حسن بن علی بن ابو طالب یہ اپنے والد سےروایت کرتے تھے اور اہل علاقہ سے انکی والدہ حضرت فاطمہؓ جو امام حسینؓ بن علیؓ کی بیٹی تھیں ۔

[الثقات ابن حبان برقم: 7153]

ایسے ہی امام ابن سعد الطبقات میں بیان کیا ہے۔

امام ذھبی تذھیب میں فرماتے ہیں :

الحسن بن الحسن بن الحسن بن علي بن أبي طالبالهاشمي المدني، وأمه فاطمة ابنة الحسين بن علي، وله أخوان: عبد الله وإبراهيم.

روى عن: والديه.وعنه: فضيل بن مرزوق، وعبيد بن وسيم الجمال، وعمر بن شبيب المُسلي.

امام حسن جو کہ امام حسن بن حسنؓ بن علیؓ ہیں (امام علی کے پڑپوتےہیں ) یہ مدنی ھاشمی خاندان کے ہیں اور انکی والدہ حضرت فاطمہؓ ہیں جو کہ امام حسینؓ بن علیؓ کی بیٹی ہیں ۔ اور ان (امام حسن ) کے دو بھائی تھے ایک عبداللہ اور دوسرا ابراہیم

یہ اپنی والدہ حضرت فاطمہ ؓبنت حسینؓ سے روایت کرتے تھے ، اور ان سے فضیل بن مرزوق اور دیگر روایت کرتے ہیں

[تذهيب تهذيب الكمال ، برقم: 1221]

انکا تعارف کافی و شافی ہو گیا ہے

امام الآجری اپنی مشہور تصنیف الشریعہ میں اپنی سند سے مذکورہ روایت جو کہ امام حسن بن حسن بن حسن بن علی روافض کی مذمت میں بیان کرتے ہیں :

حدثنا ابن عبد الحميد الواسطي قال: حدثنا فضل بن سهل الأعرج قال: حدثنا أبو أحمد الزبيري قال: حدثنا فضيل بن مرزوق قال: سمعت حسن بن حسن , رضي الله عنهما يقول لرجل من الرافضة: والله لئن أمكن الله منكم لتقطعن أيديكم وأرجلكم ولا يقبل منكم توبة،

وقال: وسمعته يقول: مرقت علينا الرافضة كما مرقت الحرورية على علي رضي الله عنه

امام فضیل بن مرزوق بیان کرتے ہیں میں نے امام حسنؒ بن حسنؓ بن حسنؓ بن علیؓ بن ابو طالب کو ایک رافض*ی شخص سے یہ کہتے ہوئےسنا :”اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اس چیز(اصحاب رسولﷺ پر طعن) پر بر قرار رکھا تو تمہارے ہاتھ اور پاوں کاٹ دئیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول نہیں کریگا ۔

راوی (فضیل بن مرزوق) کہتے ہیں : میں نے انہیں یہ بھی کہتے ہوئے سنا ہے ”رافضیو*ں نے ہمارے (اہل بیت) کےخلاف اسی طرح خروج کیا ہے جس طرح حروریوں (خوارج) نے حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت کی تھی۔

[الشریعہ للآجری برقم: 1861]

اب چونکہ یہ اہل بیت کی آل جو امام حسنؓ و حسینؓ کی نسل سے بڑھی انہوں نےرافضیوں ے لا تعلقی کا اعلان اس لیے کیا کیونک روافض  نے امام حسن ؓ و حسینؓ کی سیدنا امیر معاویہؓ امیر المومنین سے بیعت کے فیصلے کا انکار کیا اور خود انہیں کے دشمن ہوگئے کیونکہ انکا حقیقی موقف یہ تھا کہ امام حسنؓ نے امام حسین ؓ کو مجبورا بیعت کروائی حضرت امیر معاویہؓ کے ہاتھ اور مولا علیؓ کے دشمنوں سے صلح کرلی۔

یہ بات کھٹمل اپنے منہ سے نہیں نکالتے لیکن حقیقی طور پر انکا باطنی عقیدہ یہی ہے ۔۔۔ اس لیے یہ اہل بیت کے بھی باغی ہوگئے اور مولا علی ؓ اور انکی آل کے نقش قدم سے ہٹ کر یہ اپنے گھڑنتوں اصولوں پر اہل بیت کے نعرے مار کر ان سے بغاوت پر اتر آئے اور حد یہ ہے کہ جن اصحاب رسولﷺ اور اہل بیت کی صلح و بیعت ہو گئی۔

یہ آج اپنے گندے منہ سے ان پر بغاوت و ظلم کا اطلاق آج تک کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ جبکہ صلح و بیعت کے بعد آل اہل بیت نے حقیقی صلح کر لی اور بیعت بھی تو جنہوں نے اہل بیت کے فیصلے کو پاوں کی ٹھوکر سے اکھاڑ پھینکا وہی کھٹمل آج بھی اس امر پر اپنی چھاتیاں پھوڑتے نظر آتے ہیں ۔


سند کے رجال کا مختصر تعارف!

۱۔ پہلا راوی : عَبْد اللَّه بْن محمد بْن عَبْد الحميد الواسطيّ القطّان، أبو بَكْر.

وَعَنْهُ: ابن السّمّاك، وأبو بَكْر الآجُرِّيّ،وثّقه الخطيب.

[تاریخ الاسلام ، برقم: 571]

۲۔دوسرے راوی : فَضْلُ بنُ سَهْلِ بنِ إِبْرَاهِيْمَ البَغْدَادِيُّ

الحَافِظُ، البَارِعُ، الثِّقَةُ

[سیر اعلام النبلاء برقم: 72]

(نوٹ: یہاں سے بقیہ رجال رمی بالتشیع ہیں )

۳۔تیسرے راوی : أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ مُحَمَّدُ بنُ عَبْدِ اللهِ

الحَافِظُ الكَبِيْرُ،

وَقَالَ ابْنُ مَعِيْنٍ: ثِقَةٌ.

وَقَالَ مَرَّةً: لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.

وَقَالَ العِجْلِيُّ: كُوْفِيٌّ، ثِقَةٌ، يَتَشَيَّعُ

[سیر اعلام النبلاء برقم: 205]

۴۔چوتھے راوی : فُضَيْلُ بنُ مَرْزُوْقٍ العَنَزِيُّ مَوْلاَهُم

وَثَّقَهُ: سُفْيَانُ بنُ عُيَيْنَةَ، وَيَحْيَى بنُ مَعِيْنٍ.

وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: أَرْجُو أَنَّهُ لاَ بَأْسَ بِهِ.

[سیر اعلام النبلاء برقم: 124]

اور انکے بارے تصریح کرتے ہوئے امام ذھبی لکھتےہیں :

قُلْتُ: وَهُوَ شِيعِيٌّ غَيْرُ رَافِضِيٍّ.

میں کہتا ہوں یہ شیعہ تھے لیکن رافضی نہیں تھے۔

[تاریخ الاسلام ، برقم: 323]

تحقیق:اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے