دعا توسل
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

دعا توسل نبی کریمﷺ کی تعلیم شدہ دعا توسل:

دعا توسل کے لیے خاص کر نبی اکرمﷺ نے اپنے صحابی کو دعا توسل کے کلمات سکھلائے۔ اور صحابہ و تابعین نبی اکرمﷺ کی سکھلائی گئی یہ دعا توسل اپنی حاجات کو پورا کرنے کے لیے پڑھتے تھے ۔ اور سلف و صالحین کا اس دعا پر امل تواتر سے چلا آرہاہے۔

دعا توسل

دعا توسل پر کتب سنن میں حدیث رسولﷺ درج ذیل ہے:

‏‏‏‏اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّيْ أَتَوَجَّهٗ بِكَ إِلَىٰ رَبِّكَ رَبِّيْ جَلَّ وَ عَزَّ فَيَقْضِيْ لِيْ حَاجَتِيْ

دعائے توسل کی حدیث کی تخریج:

حدثنا احمد بن منصور بن سيار ، حدثنا عثمان بن عمر ، حدثنا شعبة ، عن ابي جعفر المدني ، عن عمارة بن خزيمة بن ثابت ، عن عثمان بن حنيف ، ان رجلا ضرير البصر، اتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ادع الله لي ان يعافيني، فقال:” إن شئت اخرت لك وهو خير، وإن شئت دعوت”، فقال: ادعه،” فامره ان يتوضا فيحسن وضوءه، ويصلي ركعتين، ويدعو بهذا الدعاء: اللهم إني اسالك واتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة، يا محمد، إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى اللهم شفعه في”، قال ابو إسحاق: هذا حديث صحيح.

عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ ایک نابینا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا۔: آپ میرے لیے اللہ تعالیٰ سے صحت و عافیت کی دعا فرما دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے آخرت کی بھلائی چاہوں جو بہتر ہے۔ اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے دعا کروں۔ اس شخص نے کہا: آپ دعا کر دیجئیے۔ تب آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے۔ اور دو رکعت نماز پڑھے۔ اس کے بعد یہ دعا کرے۔:  

اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بمحمد نبي الرحمة يا محمد إني قد توجهت بك إلى ربي في حاجتي هذه لتقضى اللهم فشفعه في

اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو نبی رحمت ہیں، اے محمد! میں نے آپ کے ذریعہ سے اپنے رب کی جانب اس کام میں توجہ کی تاکہ پورا ہو جائے، اے اللہ! تو میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما۔ ابواسحاق نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے۔

بَابُ : مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْحَاجَةِ
 باب: نماز حاجت کا بیان۔
[سنن ابن ماجہ ، برقم:١٣٨٥]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1219، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1184، 1915، 1935، 1936، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 10419، 10420، 10421، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3578، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1385، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17513، 17514، 17515، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده”، 379، والطبراني فى «الكبير» برقم: 8311،، والطبراني فى «الصغير» برقم: 508»

 یہ دعا نبی اکرمﷺ کی وفات کے بعد صحابہ و تابعین کے پڑھنے کا ثبوت:

حدثنا حدثنا طاهر بن عيسى بن قيرس المقرئ المصري التميمي ، حدثنا اصبغ بن الفرج ، حدثنا عبد الله بن وهب ، عن شبيب بن سعيد المكي ، عن روح بن القاسم ، عن ابي جعفر الخطمي المدني ، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف ، عن عمه عثمان بن حنيف ، ان رجلا كان يختلف إلى عثمان بن عفان رضي الله عنه، في حاجة له، فكان عثمان لا يلتفت إليه ولا ينظر في حاجته، فلقي عثمان بن حنيف، فشكا ذلك إليه، فقال له عثمان بن حنيف” ائت الميضاة فتوضا، ثم ائت المسجد فصل فيه ركعتين، ثم قل: اللهم، إني اسالك واتوجه إليك بنبينا محمد صلى الله عليه وسلم نبي الرحمة، يا محمد إني اتوجه بك إلى ربك عز وجل فيقضي لي حاجتي، وتذكر حاجتك، ورح إلي حتى اروح معك”، فانطلق الرجل، فصنع ما قال له عثمان، ثم اتى باب عثمان، فجاء البواب حتى اخذ بيده، فادخله على عثمان بن عفان، فاجلسه معه على الطنفسة، وقال: حاجتك؟ فذكر حاجته فقضاها له، ثم قال له: ما ذكرت حاجتك حتى كانت هذه الساعة، وقال: ما كانت لك من حاجة فاتنا، ثم إن الرجل خرج من عنده، فلقي عثمان بن حنيف، فقال له: جزاك الله خيرا، ما كان ينظر في حاجتي، ولا يلتفت إلي حتى كلمته في، فقال عثمان بن حنيف: والله، ما كلمته ولكن شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم واتاه ضرير، فشكا عليه ذهاب بصره، فقال له النبي صلى الله عليه وآله وسلم: افتصبر؟، فقال: يا رسول الله، إنه ليس لي قائد، وقد شق علي، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ائت الميضاة، فتوضا، ثم صل ركعتين، ثم ادع بهذه الدعوات، قال عثمان: فوالله ما تفرقنا وطال بنا الحديث، حتى دخل علينا الرجل كانه لم يكن به ضرر قط”، لم يروه عن روح بن القاسم، إلا شبيب بن سعيد ابو سعيد المكي وهو ثقة، وهو الذي يحدث عن ابن احمد بن شبيب، عن ابيه، عن يونس بن يزيد الابلي، وقد روى هذا الحديث شعبة , عن ابي جعفر الخطمي واسمه عمير بن يزيد، وهو ثقة. تفرد به عثمان بن عمر بن فارس بن شعبة، والحديث صحيح. وروى هذا الحديث عون بن عمارة، عن روح بن القاسم، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، رضي الله عنه، وهم فيه عون بن عمارة والصواب، حديث شبيب بن سعيد

سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی کسی ضرورت کے لیے آتا جاتا تھا، مگر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس کی طرف توجہ نہ کرتے اور نہ اس کی ضرورت پوری کرتے، تو وہ سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے شکایت کی، تو انہوں نے اس سے کہا کہ وضو کا برتن لاؤ اور وضو کرو، پھر مسجد جاؤ، وہاں دو رکعت نماز پڑھو، پھر یہ دعا کرو:

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّيْ أَتَوَجَّهٗ بِكَ إِلَىٰ رَبِّكَ رَبِّيْ جَلَّ وَ عَزَّ فَيَقْضِيْ لِيْ حَاجَتِيْ

اور تم اپنی ضرورت کا نام لو، اور شام کو میری طرف آنا، میں تمہارے ساتھ جاؤں گا، وہ آدمی چلا گیا اور جو کچھ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا وہ کیا، پھر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا تو دربان آیا اور اس کو لے کر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا، اسے چٹائی پر بٹھایا اور کہا: تیری ضرورت کیا ہے؟ اس نے اپنی ضرورت ذکر کی تو انہوں نے اسے پورا کیا، پھر اس نے اسے کہا: تو نے اپنی ضرورت اب تک مجھ سے ذکر نہیں کی، تجھے جو بھی کام ہو میرے پاس آ جایا کرو۔ پھر وہ آدمی وہاں سے نکل کر سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور اسے کہا: جزاک اللہ خیر، وہ میری ضرورت کو نہیں دیکھتے تھے اور نہ اس طرف توجہ کرتے، یہاں تک کہ تم نے ان سے کلام کیا، تو سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اسے نہیں کہا لیکن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک نابینا آیا اور اس نے اپنی نظر چلی جانے کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”کیا تو صبر کر سکتا ہے؟اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے چلانے والا کوئی نہیں ہے، اور یہ چیز مجھ پر بہت مشکل ہے، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کا برتن لا کر وضو کرو، پھر دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا کرو۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! ہم ابھی جدا نہیں ہوئے تھے اور ہماری بات کچھ لمبی ہوگئی تھی، یہاں تک کہ وہ آدمی آیا، اسے کوئی تکلیف بھی نہیں تھی اور جیسے کبھی نہ ہوئی ہوگی۔

[معجم صغير للطبراني، برقم: ٢٥٠، وسندہ صحیح]

تحقیق: اسد الطحاوی
حدیث توسل عثمان بن حنیف پر انور شاہ راشدی کا رد ازقلم: اسد الطحاوی
حدیث توسل عثمان بن حنیف پر انور راشدی کا رد از اسد الطحاوی حصہ دوم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے