بدعت کا مفہوم
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

بدعت کی تعریف اور  بدعت کی اقسام پر ائمہ سلف کا موقف:

بدعت کی تعریف اور اسکی اقسام  کے حوالے سے اس تحریر کو پڑھ کر عام لوگ تو بدعت کا مفہوم اور راجح موقف سمجھ لینگے۔ کہ ائمہ سلف نے بدعت کی اقسام اور شرعی اور لغوی بدعت کی پہچان کے اصول بیان کیے ہیں۔

بدعت کی تعریف:

بدعت ہر وہ عمل جسکی سابقہ دور میں کوئی مثال نہ ہو بدعت کہلاتا ہے۔ 
[شرح النووی صحیح مسلم]

بدعت کی تقسیم دو طرح سے ہوتی ہے۔

بدعت شرعی اور بدعت لغوی
بدعت شرعی میں صرف بدعات ضلالہ ہوتی ہیں۔ جیسا کہ
  • بدعت حرام و

  • مکروہ وغیرہ

اور
بدعت لغوی مختلف اقسام پر مبنی ہوتی ہیں
  • بدعت حسنہ

  • بدعت واجبہ

  • بدعت مباح


لغوی بدعت اور اسکی پہچان:

یعنی "لغوی” بدعت اصل میں بدعت ہوتی ہی نہیں کیونکہ اسکی اصل ہمیشہ شریعت اسلامی میں موجود ہوتی ہے۔ لیکن اسکا طریقہ ایسا ہوتا ہے جسکی مثال ثابقہ دور میں نہیں ہوتی اور یہ شریعت کے مخالف بھی نہیں ہوتی۔اس وجہ سے اسکو "لغوی” طور پر بدعت بولا جاتا یے لیکن اپنی اصل کے اعتبار سے یہ
  • حسنہ
  • مباح
  • واجبہ
ہوتی ہے۔

بدعت کے مفہوم کو امام  شافعی و امام ابن رجب حنبلی کے کلام سے سمجھاتے ہیں۔

کیونکہ اس موقف پر علماء کا اجماع ہے جن میں حنفی، شافعی، ملکی و حنابلہ علماء سب شامل ہیں!
متقدین اور خیر القرون کے مجتہد امام شافعی علیہ رحمہ فرماتے ہیں :
امام بیھقی: اپنی سند صحیح کےساتھ امام شافعی سے فتویٰ نقل کرتے ہیں :
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ , ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: الْمُحْدَثَاتُ مِنَ الْأُمُورِ ضِرْبَانِ: أَحَدُهُمَا: مَا أُحْدِثَ يُخَالِفُ كِتَابًا أَوْ سَنَةً أَوْ أَثَرًا أَوْ إِجْمَاعًا , فَهَذِهِ لَبِدْعَةُ الضَّلَالَةِ. وَالثَّانِيةُ: مَا أُحْدِثَ مِنَ الْخَيْرِ لَا خِلَافَ فِيهِ لِوَاحِدٍ مِنْ هَذَا , فَهَذِهِ مُحْدَثَةٌ غَيْرُ مَذْمُومَةٍ وَقَدْ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ: «نِعْمَتِ الْبِدْعَةُ هَذِهِ» يَعْنِي أَنَّهَا مُحْدَثَةٌ لَمْ تَكُنْ , وَإِنْ كَانَتْ فَلَيْسَ فِيهَا رَدٌّ لِمَا مَضَى
امام شافعیؒ فرماتے ہیں :
محدثات (بدعات) میں دو قسم کے امور شامل ہیں :
پہلی قسم میں تو وہ نئے امور ہیں جو قرآن و سنت یا اثر صحابہ یا اجماع امت کے خلاف ہوں وہ بدعت ضلالہ ہے ،
اور دوسری قسم میں وہ نئے امور ہیں جن کو بھلائی کے لیے انجام دیا جائے اور کوئی ان میں سے کسی (امر شریعت) کی مخالفت نہ کرتا ہو پس یہ امور یعنی نئے محدثہ غیر مذمومہ ہیں
اسی لیے حضرت عمر فاروقؓ نے رمضان میں تراویح کے قیام کے موقع پر فرمایا تھا کہ یہ کتنی اچھی بدعت ہے یعنی یہ ایک ایسا محدثہ ہے جو پہلے نہ تھا اور اگر یہ پہلے ہوتا تو پھر مردود نہ ہوتا
[المدخل إلى السنن الكبرى برقم : 253 ، وسندہ صحیح]

نتیجہ!
امام شافعی جو ائمہ اربعہ میں سے ایک مجتہد مطلق ہیں انہوں نے حضرت عمرفاروقؓ کے ہی الفاظ سے استدلال کرتے ہوئے محدثہ کی دو اقسام میں تقسیم کرتے ہوئے یہی فتویٰ دیا کہ :

جو امر شریعت کے اصول کے مطابق داخل ہوگا وہ بدعت حسنہ اور جو اسکے مخالف ہوگا وہ بدعت ضلالہ ہوگا۔


بدعت لغوی اور شرعی کے حوالے سے ایک مغالطہ کا جواب:

کہ جی امام عینی نے تو شرعی بدعت کی مذمت کی ہے اور میلاد ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے تو یہ بدعت شرعی ہوا اور شرعی بدعت کے بارے امام عینی نے فرمایا ہے کہ یہ وہ ہوتی ہے جو جسکی اصل نبی اکرمﷺ کے دور حیات میں نہ ہو
بدعت ایک لغوی ہوتی ہے اور ایک شرعی تو پس میلاد شرعی بدعت ہونے کی سبب باطل ہوا۔ اب ان جہلاء کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ متقدمین میں بدعت حسنہ اور بدعت ضلالہ کی جو تقسیم ہے جیسا کہ جمہور کا موقف ہے

اسی طرح محدثین بدعت حسنہ پر بدعت لغوی کا اطلاق کرتے ہیں۔

یعنی انکے بقول بدعت لغوی وہ ہوتی ہے جسکی اصل دین میں ہوتی ہے اس لیے وہ شرعی بدعت نہین ہوتی ہے ۔۔ اور جمہور کے نزدیک اسی بدعت لغوی کو بدعت حسنہ کہتے ہیں کیونکہ بدعت حسنہ یعنی مستحب امر بھی وہی ہوتا ہے جسکی اصل دین میں ہو کسی نہ کسی شکل میں تبھی تو اسکو بدعت حسنہ کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر امام شافعی سے بدعت حسنہ اور بدعت ضلالہ کا اصول بیان کر چکے ہیں
اور اسکی شرح امام ابن رجب حنبلی سے پیش کرتے ہیں اور بدعت لغوی اور بدعت شرعی کی کنفیوزن کو بھی کلیئیر کر دیتے ہیں۔

لغوی اور شرعی بدعت پر امام ابن رجب کی شرح:

امام ابن رجب نے جو امام شافعی کا قول بیان کیا ہے اس کی تفسیر کرتے ہوئے جو لکھا ہے وہ مکمل عبارت یہ ہے :
وَمُرَادُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ مَا ذَكَرْنَاهُ مِنْ قَبْلُ: أَنَّ الْبِدْعَةَ الْمَذْمُومَةَ مَا لَيْسَ لَهَا أَصْلٌ مِنَ الشَّرِيعَةِ يُرْجَعُ إِلَيْهِ، وَهِيَ الْبِدْعَةُ فِي إِطْلَاقِ الشَّرْعِ، وَأَمَّا الْبِدْعَةُ الْمَحْمُودَةُ فَمَا وَافَقَ السُّنَّةَ، يَعْنِي: مَا كَانَ لَهَا أَصْلٌ مِنَ السُّنَّةِ يُرْجَعُ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا هِيَ بِدْعَةٌ لُغَةً لَا شَرْعًا، لِمُوَافَقَتِهَا السُّنَّةَ.
وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الشَّافِعِيِّ كَلَامٌ آخَرُ يُفَسِّرُ هَذَا، وَأَنَّهُ قَالَ: وَالْمُحْدَثَاتُ ضَرْبَانِ: مَا أُحْدِثَ مِمَّا يُخَالِفُ كِتَابًا، أَوْ سُنَّةً، أَوْ أَثَرًا، أَوْ إِجْمَاعًا، فَهَذِهِ الْبِدْعَةُ الضَّلَالُ، وَمَا أُحْدِثَ فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ، لَا خِلَافَ فِيهِ لِوَاحِدٍ مِنْ هَذَا، وَهَذِهِ مُحْدَثَةٌ غَيْرُ مَذْمُومَةٍ.
وَكَثِيرٌ مِنَ الْأُمُورِ الَّتِي حَدَثَتْ وَلَمْ يَكُنْ قَدِ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِي أَنَّهَا بِدْعَةٌ حَسَنَةٌ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى السُّنَّةِ
امام شافعی کی مراد یہ ہے : وہ بدعات جو مذمومہ ہیں جنکی کوئی اصل نہیں ہے شریعت میں اور یہ مرجع نہ ہو اور شریعت میں اسکا اطلاق بدعت پر ہوتا ہے اور جو بدعت محمود یعنی اچھی ہے وہ سنت کے موافق ہوتی ہے جسکی دین مین کوئی اصل ہوتی ہے اسکو بدعت لغوی طور پر کہا جاتا ہے کیونکہ یہ وسنت کے موافق ہوتی ہے۔ اور امام شافعی سے جو کلام آخر میں مروی ہے اسکی تفسیر یہ ہے : اور رہے وہ محدثات(امور) جو مخالف ہو قرآن یعنی کتاب یا سنت یا اثر کے یا اجماع کے یہی بدعات ضلالہ ہیں ۔ اور وہ محدثات (امور ) جن میں خیر ہے جو خلاف نہیں ان امور کے جو اوپر ہیں تو یہی محدثہ (عمل) برے نہیں ہیں۔
اور کثیر امور اور محدثات جن میں علماء نے کبھی اختلاف نہیں کیا ہے جو بدعت حسنہ ہیں یہاں تک کہ سنت کو ترجیح ہے۔
[جامع العلوم والحكم في شرح خمسين حديثا من جوامع الكلم ابن رجب ، جلد۲ ص ۱۳۱]

امام ابن رجب نے امام شافعی کی طرف سے بدعت کی تقسیم مذموم اور محمود کی تعریف کر دی ہے۔

احادیث مین جس بدعت کے لفظ سے نبی پاک نے روکا ہے یا جسکی مذمت آئی ہے اصل مین وہ بدعت وہی ہوتی ہے جسکی کوئی اصل نہ ہو دین میں اور موافق بھی نہ ہو سنت کے
اور جو محمود یعنی جو بدعت جائز اور اچھی ہوتی ہے اسکی شریعت اسلامی میں کوئی نہ کوئی اصل ہوتی ہے تو چونکہ اسکی کوئی نہ کوئی اصل ہوتی ہے یا جس بنیاد پر بدعت کی جا رہی ہوتی ہے وہ اصول شریعت اسلامی میں ثابت ہوتا ہے تو اسکو لغوی طور پر بدعت کہا جاتا ہے کیونکہ اسکی اصل ہوتی ہے ۔
جیسا کہ:
  • مدارس تعمیر کرانا

  • منطق اور اسکے اصول وضع کرنا

  • پکی مساجد و مہراب و گنبد بنانا

  • قرآن کو تیس پاروں میں تقسیم کرنا اور نام دینا

  • علماء کے لیے پرچاجات و سند کو لازم قرار دینا

  • ختم بخاری

  • آیام صحابہ متعین کرنا

اگر بدعت کا مفہوم ائمہ مجتہدین و سلف کے فہم کے بغیر اپنی طرف سے جھاڑو چلایا جائے
تو اوپر مذکور تمام امور باطل قرار پائیں گے جبکہ تمام مکاتب فکر کے لوگ یہ امور سر انجام دے رہے ہیں
اور انہی امور کو بدعت حسنہ میں شمار کرکے امام ابن رجب نے فرمایا کہ آج کے دور میں متعدد ایسے بدعت حسنہ پر محمول امور ہو رہے ہیں جن پر علماء کا اختلاف نہیں۔ ۔۔۔۔

امور اہلسنت پر لغوی بدعت کے اطلاق کا اصول:

اب میلاد رسول میں شامل وہ تمام امور جو دائرہ شریعت کے اندر ہیں وہ مستحب ہے۔
جیسا کہ محفل میلاد میں
  • تلاوت قرآن
  • سیرت رسول کا بیان
  • نعت مبارکہ
  • سیرت صحابہ
  • سیرت اہل بیت
  • مغازی و سیر کے واقعات
  • علماء کا ذکر خیر
  • دعوت طعام

ان سب امور کو اجماعی طور پر کرنے اور اس محفل کا نام میلاد رکھ دینے سے وہ عمل بدعت نہیں بن جائے گا۔ جیسا کہ کانفرنس سیرت رسولﷺ یا کانفرس صحابہ کا نام رکھ کر ان امور کر کرنے سے بدعت نہیں ہوتی!!۔
سادہ لوگوں کے لیے یہ تحریر سمجھنے کے لیے بالکل آسان ہے۔ باقی مولویوں کا اختلاف روٹی اور پیٹ کا ہے۔
تحقیق: اسد الطحاوی

بدعت پر فرمان رسولﷺ اور خلفائے راشدین کے موقف کو سمجھنے کے لیے اس مضمون کا مطالعہ کریں:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے