معاویہ بغاوت
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حضرت معاویہ پر بغاوت فقط دور حضرت علیؓ کی خلافت تک محدود تھی۔

حضرت معاویہ پر بغاوت کا اطلاق اہلسنت میں مطلق نہیں بلکہ محدود ہے۔ اور صلح امام حسن کے بعد بغاوت کا اطلاق اہلسنت کے نزدیک باطل ہے۔ بلکہ حضرت معاویہؓ کی خلافت پر اجماع منعقد ہونے کے بعد انکی خلافت برحق ہے۔

حضرت معاویہ پر بغاوت کے اطلاق کی تفصیل اہلسنت کے نزدیک:

ائمہ اہل سنت نے جو فرمایا ہے کہ مولا علیؓ حق پر تھے اس سے مراد حق خلافت ہے۔ کہ مولا علیؓ اپنے خلافت کے اعلان میں اور بیعت لینے کے امر میں حق پر تھے۔ کیونکہ جمہور صحابہ اور دیگر تابعین نے انکے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی۔ اور اس وقت ہر چیز کے اعتبار سے مولا علیؓ افضل و اعلیٰ تھے شہادت حضرت عثمانؓ کے بعد!!!


فقیہ امت امام بدر الدین عینی علیہ الرحمہ سے اہلسنت کے  حضرت معاویہ ؓ  پر بغاوت کے حوالے سے عقیدے کی تصریح:

آپ شرح ھدایہ میں فرماتے ہیں:
أن الحق كان بيد علي – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – في نوبته أي في خلافته؛ لأن الخلافة كانت له بعد عثمان – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – بالنص، وقيد بقوله: "في نوبته” احترازا عن مذهب الروافض، فإنهم يقولون الحق مع علي – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، في جميع نوب الخلفاء، في نوبة أبي بكر وعمر وعثمان – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ -، ومع أولاده بعد علي – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، وعند أهل السنة – رَحِمَهُمُ اللَّهُ – معاوية – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – كان باغيا في نوبة علي – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، وبعده إلى زمان ترك أمير المؤمنين حسن – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – الخلافة إليه فانعقد الإجماع على خلافة معاوية – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حق حضرت علیؓ کے ہاتھ پر تھا۔ انکے دور میں یعنی انکی خلافت میں۔ کیونکہ حضرت عثمانؓ کی خلافت کی بعد ان (حضرت علیؓ) خلافت پر نص ہے۔اور حضرت علیؓ کے ساتھ (حق کے تعلق سے) انکے دور خلافت کی قید لگانے کا مقصد روافض کے دعویٰ باطل سے علیحدگی اختیار کرنی ہے ۔ جنکا یہ دعویٰ ہے کہ حق(خلافت) حضرت علیؓ کے ساتھ تھا۔ ہر دور میں اور ہر خلیفہ کی خلافت کے وقت بھی جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت، حضرت عمرؓ و عثمانؓ کی خلافت کے وقت بھی حق(خلافت) حضرت علیؓ کے ساتھ تھا۔ اور انکے بعد انکی اولاد کے ساتھ تھا۔ جبکہ اہلسنت کے نزدیک یہ ہے کہ حضرت معاویہؓ حضرت علیؓ کے دور خلافت تک (محدود دور میں) باغی تھے۔ لیکن حضرت امام حسن کے (حضرت معاویہ کے حق میں )خلافت ترک کرنے کے بعد ان ( حضرت معاویہؓ) کو خلافت سپرد کرنے کے بعد حضرت معاویہؓ کی خلافت پر اجماع منعقدہو گیا۔
[ البناية شرح الهداية: 14/9]


حضرت معاویہ کی بغاوت کے حوالے خلاصہ تحقیق:

معلوم ہوا اہلسنت نے حضرت معاویہؓ پر بغاوت کا اطلاق کیا ہے وہ حضرت مولا علیؓ کے دور خلافت تک محدود ہے۔ امام حسن سے صلح کے نتیجہ میں جب حضرت امام حسنؓ نے حضرت معاویہؓ کو اپنی خلافت سونپ دی تھی تو اس امر پر کسی نے امام حسنؓ کی مخالفت نہ کی تھی۔ تو یوں حضرت معاویہؓ کی خلافت پر اجماع منعقد ہونے کے سبب ان پر بغاوت کا اطلاق ختم ہو جائےگا۔

اس وجہ سے آج کےدور میں انکا ذکر خیر اور بطور صحابی انکے دیگر صالح امور کو بیان کیا جائے گا۔

لیکن جب جنگوں کا پس منظر بیان کیا جائےگا یا جنگوں اور بغاوت کے اصول بیان کیے جائیں گے تو پھر مولا علیؓ کے مقابل انکے دور تک حضرت معاویہؓ کو باغی عرفی طور پر کہا جائے گا۔یہ ایسا ہے کہ کسی صحابی رسولﷺ کا واقعہ قبول اسلام سے پہلے بیان کرنا لیکن تب بھی انکا ذکر ادب و احترام کے ساتھ کرنا چونکہ واقعہ سابقہ ہے اور صحابیت آخر ہے۔
تو اسی طرح حضرت معاویہؓ کی بغاوت سابقہ محدود تھی۔ اور انکی وفات بحیثیت خلیفہ امیر المومنین تھی۔ جو اجماع صحابہؓ کے سبب منعقد ہوئی تھی!

دعاگو: اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے