المدونہ کتاب امام مالک سے با سندصحیح ثابت ہے

المدونہ الکبری کی سند
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 0 Average: 0]

المدونہ کتاب امام مالک تک باسند صحیح ثابت ہے۔ 

المدونہ الکبری مالکی فقہ کتاب کی سند:ہمارے ایک  بھائی نے امام مالکؒ سے ترک رفع الیدین کے فتوےکو مشکوک اور باطل ثابت کرنے کے لیے فقہ مالکی کی مشہور اور معروف کتاب کو ہی بے اصل کہہ دیا جبکہ اس کتاب کی متصل اسناد بہت سارے محدثین نے بیان کی ہیں۔

المدونہ اکبری  کتاب کے اختصار مالکی اماموں نے لکھے ہیں نیز اس سے استدلال شروع سے اب تک جید محدثین نے کیا ہے کسی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تو ہم جناب کے دیے گئے دلائل کا جائزہ اور اصولی رد پیش کرتے ہیں :

جناب کا پہلا اعتراض :

پہلی بات:مدونہ الکبریٰ امام مالک کی کتاب نہیں ہے۔ صاحب مدونہ "سحنون” تک متصل سند نا معلوم ہے لہٰذا یہ ساری کتاب بے سند ہوئی.

الجواب :

عجیب بات ہے خود لکھتے ہیں کہ متصل سند نا معلوم ہے اور پھر کتاب کو بے سند قرار دے دیا ہے۔جبکہ اس کی مختلف متصل اسناد جید محدثین نے بیان کی ہیں۔ایک وقت کے لیے یہ بھی تسلیم کر لیا جائے کہ  اسکی سند نہ بھی موجود ہوتی تو یہ کتاب متواتر سے ثابت ہے۔

کیونکہ کتاب کے ثابت ہونے کے لیے صرف صحیح الاسناد ہونا لازم ہے یہ اصول آج تک ۱۴۰۰ سال تک کسی محدث مفسر نے پیش نہیں کیا یہ اعتراض آجا کر زبیرعلی زئی نے کیا نہ جسکی کوئی اصل ہے نہ سر پیر۔جبکہ محدثین کا اصو ل یہ ہے کہ جو کتاب معروف ہو علماء نے ہر صدی میں اس سے استدلال کیا ہو اور کسی نے اسکی مصنف کی طرف منسوب ہونے میں مفسر رد نہ کیا ہوا تو وہ کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔

اگر انہی کے بنائے ہوئے اصول کو دیکھا جائے تو زبیر زئی نے اپنی تحقیق سےجز رفع الیدین چھپاوئی ہے جسکا ناسخ ہی نہ معلوم ہے تو گویہ جز رفع الیدین بھی گھڑہی ہوئی کتاب کو شائع کروادیا اپنے اصول کے متابق۔نیز اس کتاب کی ایک ہی سند ہے جس میں محمود بن اسحاق مجہول راوی موجود ہے جسکی ادنیٰ سے بھی کوئی توثیق ثابت نہیں ہے۔تو سند میں مجہول راوی ہے تو کتاب پوری کی پوری مشکوک بلکہ من گھڑت ثابت ہو گئی انکے اصول کے متابق ۔نیز بہت سے غیر مقلدین کتاب السنہ امام عبداللہ بن احمد بن حنبل سے دلائل اور زم ابی حنیفہ پر روایات پیش کرتے ہیں۔

اسکی سند میں دو راوی مجہولیے اور ایک مجمسی موجود ہے بقول ابن تیمیہ تو یہ کتاب بھی جعلی ثابت ہوئی۔دوسری بات اس کتاب کے ۷ نسخے ہیں اور اس کتاب کے محقق نے یہ تصریح کی ہے کہ ۶ نسخوں میں زم ابی حنیفہ کا باب ہی نہیں ہے اور صرف ایک نسخے میں یہ باب ہے جس سے یہ بات بالکل ثابت ہو گئی کے کتاب السنہ میں درج  امام ابو حنیفہ پر اعتراضات کسی بعد والے مجہولیے کہ کارستانی ہے۔

اس کتاب کو محدثین کے اصول سےتسلیم بھی کر لیا جائے تو امام اعظم پر لکھی گئی تمام روایات باطل ثابت ہونگی۔اور آج تک کسی محدث نے امام عظم پر جروحات درج کرتے ہوئے کتاب السنہ کا حوالہ نہ دیا۔جس سے یہ بات  ثابت ہوتی ہے کہ یہ روایات کسی متعصب مجہولیے نے شامل کر دی ہیں۔کیونکہ یہ کتاب عقائد سے تعلق رکھتی ہے اور اس میں تاریخی روایات کا آنا  اس باب کو مشکوک بنا دیتی ہے

نیز محدثین کا منہج کتاب قبول کرنے کا کیا تھا ؟ اسکی تصریح امام ابن حجر عسقلانی سے پیش کرتے ہیں :

امام ابن حجر عسقلانی النکت علی کتاب ابن صلاح میں  فرماتے ہیں :

کہ مشہور کتاب کے لیے اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم سے مصنف تک اس کی سند معتبر ہو ، مثال کے طور پر سنن نسائی کی صحت کے لیےاس بات ک یحاجت نہیں کہ ہم سے لیکر امام نسائی تک اسکے رجال معتبر ہوں

[النکت علی کتاب ابن صلاح ، ص  ۲۷۱]

اور اسی منہج کو غیر مقلدین کے بڑے محدث البانی نے بھی اختیار کیا ہے کیونکہ اگر احادیث والی قید کتب کی اسناد میں   رکھ دی جائیں تو ہزاروں کتب سے ہاتھ دھونا پڑجائے گا جو کہ غیر مقلدین کو بھی قبول نہیں ہے۔


جناب کا پیش کردہ دوسرا اعتراض :

ایک مشہور عالم ابو عثمان سعید بن محمد بو صبیح بن الحداد المغربی (صاحب سحنون) جو کہ مجتہدین میں سے تھے۔

[سیر اعلام النبلاء: ٢٠٥/١٤]

انھوں نے مدونہ کے رد میں ایک کتاب لکھی ہے.

[ایضاً: ص: ٢٠٦]

وہ مدونہ کو "مدوّدہ” (کیڑوں والی کتاب) کہتے تھے۔

(العبر فی خبر من غبر: ١٢٢/٢)

الشیخ ابو عثمان اہل سنت کے اماموں میں سے تھے۔ آپ ٣٠٢ھ میں فوت ہوئے۔

الجواب :

یہ جناب نے یہ اعتراض اپنے زبیر زئی کی شاید تقلید جامد میں لکھا ہے جبکہ یہ دلیل انکی نہیں ہماری بنتی ہے۔کسی کتاب پر رد لکھنے سے اسکے جعلی ہونے کا ثبوت نہیں بلکہ اس کتاب کے ثابت ہونے کا ثبوت ہے۔چونکہ یہ ابن سحنون کے شاگرد تھے اور اگر انہوں نے کتاب لکھ دی ہے ابن سحنون سے مروی کتاب پر تو یہ صاف ہو گیا کہ المدونہ کتاب تو ثابت تھی اور معروف و مشہور بھی تھی کہ انکورد لکھنے کی نوبت آئی

نیز امام ابو یوسف ؒ نے امام الازوعی کے رد پر کتاب لکھی ہے السیر علی الاوزاعی۔تو کیا اس سے اہل حدیث یہ مانےگیں کہ امام الاوزاعی کی کتاب غیر معتبر ہے ؟

جبکہ کسی کتاب پر رد لکھنے کا مطلب اسک کتاب میں لکھے گئےمسائل سے اختلاف ہوتا ہے

اور  جو حوالہ سیر اعلام سے دیا گیا اس میں وقیل کے صیغے سے یہ بات لکھی گئی ہے تو یہ بات ہی خود معتبر ہے چونکہ اس  قول کی کوئی متصل سند نہیں لیکن چونکے یہ بات انکی تائید میں انکو معلوم ہو رہی تھی تو اس بے سند قول کو متصل الاسناد والی کتاب کے رد میں تسلیم کر کے اپنے اصول کا گلہ کاٹ دیا۔

اس بے سند کتاب کے دوسرے مسئلے أسد الطحاوی صاحب آپ مانے گے؟

جیسے:

(ج:١ ص٦٨) پر لکھا ہوا ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم سراً بھی نہیں پڑھنا چاہیے-

بقول مدونہ الکبریٰ: امام مالک کے نزدیک نماز میں ہاتھ باندھنا مکروہ ہے۔ (ج:٢, ص:٧٦)

ان مسائل کے بارے میں کیا خیال ہے؟

الجواب:

بیشک امام مالک سے یہ مسائل مروی ہیں  لیکن راجح فتوی مالکی کی تصریح پر ہوگا

اگر امام مالک سے ایسےاقوال آئے ہیں تو پھر کیا انکی کتاب کا ہی انکار کر دیں ؟

یا پھر طعن خالی امام اعظم پر ہوتا ہے بر صغیر کے غیر مقلدین کا  جبکہ ائمہ اربعہ مطلق مجتہدین تھے


اب آتے ہیں جناب کے اصل اعتراض کہ انہون نے جو دعویٰ کیا کہ اس کتاب کی کوئی سند متصل نہیں یہ بے سند کتاب ہے

تو امام ابو سعید القیرونی ثقہ محدث  المتوفیٰ (372هـ) انہوں نے امام مالک کی کتاب المدونی الکبری کا اختصار لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنی سند متصل بیان کی ہے امام مالک تک جو کہ یوں ہے

وصحّحت ذلك على روايتي عن أبي بكر بن أبي عقبة عن جبلة بن حمود عن سحنون. وكان الفراغ من تأليفه سنة اثنتين وسبعين وثلاثمائة، وإلى الله تعالى أرغب في لزوم طاعته، وشكر نعمته، وصلى الله على سيدنا محمد نبيه وآله وسلم.

اس سند کے سارے رجال ثقہ ہیں

امام ابو بکر بن ابی  عقبہ ثقہ صالحا

(معالم الایمان)

امام  جبلہ بن حمود ثقہ

(تدریب المدارک)

اور امام سحنون یہ بھی متفقہ جید محدث ہیں ثقہ

(التدریب المدارک )

مزید اسکی اور ۵ متصل اسناد بیان کی ہیں مندرجہ ذیل محدثین نے

۱۔امام ابن حجر عسقلانی نے اسکی متصل سند بیان کی ہے امام مالک تک

(المعجم المفھر، ص ۵۸۴)

۲۔امام ابن خیر الاشبیلی  نے بھی اس کتاب کی متصل سند بیان کی ہے

(فہرست ابن خیر ، ص ۲۰۸)

۳۔علامہ محدث  عابد سندھی ؒ نے بھی اسکی کتاب المدونہ کی متصل سند بیان کی ہے

(حصر الشارد ، ص ۴۳۵)

۴۔ امام محدث ابن عطیہ نے بھی اسکی متصل سند بیان کی ہے

(فہرست ابن عطیہ، ص ۹۲)

۵۔ امام ابی سعید القیرونی کا پہلا حوالہ گزر چکا ہے

۶۔ امام ابی جعفر احمدبن علی (المتوفیٰ ۹۳۸ھ)نے بھی اسکی متصل سند بیان کی ہے

(ثبت آشی ، ص ۱۸۷)

خلاصہ:

امید ہے زبیر زئی کے مقلدین اور محقق غیر مقلدین حضرات بھی تحقیق میدان میں اب  اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے اعتراض سے رجوع کرینگے  تاکہ ہم کو معلوم ہو چکے کہ غیر مقلدین دلائل پر چلتے ہیں  واقعی۔

دعاگو خادم الحدیث : اسد الطحاوی

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے