امام حسین کا یزید کی بیعت کے حوالے فضل چشتی صاحب کی پیش کردہ روایت کا تحقیقی جائزہ

امام حسین اور بیعت یزید
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 3.5]

علامہ فضل احمد چشتی صاحب کی طرف سے امام حسینؓ کا یزید کی بیعت کرنے کے حوالے سے پیش کردہ روایت کے دفاع پر  تحقیقی جائزہ!

ازقلم: اسد الطحاوی

علامہ فضل احمد چشتی صاحب کی طرف سے

علامہ چشتی صاحب  ایک روایت پیش کرتے ہیں  تاریخ طبری کے حوالے سے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ امام حسینؓ یزید کی بیعت کرنے پر راضی ہو چکے تھے لیکن شمر اور باقیات نے انکو یزید تک رسائی نہ دی ۔

علامہ صاحب اپنا دعویٰ یو ں پیش کرتے ہیں؛

اہلنست کی عبارت صھیح تاریخ طبری (ج،۴ وص ۶۷) کے الفاظ کے ساتھ :

فانطلق يسير نحوَ طريق الشأم نحو يزيد، فلقيتْه الخيول بكرْبَلاء، فنزل يناشدهم الله والإسلام، قال: وكان بعث إليه عمر بن سعد وشَمر بن ذي الجَوْشن وحُصين بن تميم، فناشَدهَم الحسين اللهَ والإسلامَ أن يسيّروه إلى أمير المؤمنين، فيضع يده في يده، فقالوا: لا، إلا على حكم ابن زياد۔۔ الخ

ترجمہ: پس امام حسین رضی اللہ عنہ شام کی طرف (یعنی یزید کی طرف) چلے تو انہیں کربلا میں کچھ گھوڑسوار ملے تو آپؓ اتر کر انکو اللہ عزوجل اور اسلام کا واسطہ دینے لگے راوی فرماتے ہیں کہ ان گھوڑسواروں کو آپؓ کی طرف عمر بن سعد ، شمربن زی الجوشن اور حصین بن تمیم نے بھیجا تھا ۔پس امام حسین رضی اللہ عنہ نے انکو اللہ عزوجل اور اسلام کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ آپؓکو امیر المومنین(یعنی یزید) کے پاس لے جائیں۔تاکہ آپؓاپنا ہاتھ اس(یزید) کے ہاتھ پر رکھ دیں تو انہوں نے کہا نہیں مگر آپؓ کو ابن زیاد کی اطاعت کرنی ہوگی یعنی اسکے ہاتھ پر بیعت کرنی ہوگی۔

(تین شقوں والی روایات پر اعتراض کا جائزہ از مفتی فضل احمد چشتی ، ص ۱۰۷)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پھر اس روایت پر مفتی فضل چشتی صاحب نے اعتراض نقل کیے اور انکے جوابات بھی دیے۔

تو انہوں نے جو اعتراض اس روایت پر ہو سکتے ہیں وہ وارد کرکے پھر انکا اپنی تحقیق میں جواب دیکر روایت کا دفاع کیا !

اور ہم انکے ہر جواب پر بالترتیب اپنا تحقیقی جائزہ پیش کرینگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو موصوف پہلا اعتراض خود نقل کرتے  ہوئے لکھتےہیں :

یہ روایت ”حصین بن عبد الرحمٰن بن ابو الھذیل السلمی” کی  اور انکا آخری عمر میں حافظہ متغیر ہو گیا تھا۔ اور ان سے بیان کرنے والے ”عباد بن عوام” کے متعلق یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ قبل از اختلاط روایت لینے والوں میں سے ہے یا بعد ازاختلاط  لیکن امام عجلی نے حصین بن عبد الرحمٰن  کے حوالہ سے یہ وضاحت کی ہے کہ ”سکن المبارك با خرة ، والواسطیون راوی الناس عنه” جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عباد بن عوام نے بھی بعد از اختلاط سماع کیا ہے کیونکہ عباد بھی واسطی ہے لہذا یہ روایت ضعیف و ناقبل استدلا ل ہے۔

پھر فضل چشتی صاحب اس اعتراض کو نقل کرکے اسکا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

اولا گذارش :

 حصین بن عبد الرحمن  کا مختلط ہونا ائمہ جرح و تعدیل کے ہاں اتفاق نہیں بلکہ اختلافی ہے کیونکہ بعض ائمہ نے ان کے مختلط ہونے کا انکار کیا ہے کہ امام ابو الوفاء طرابلسی (المتوفیٰ ۸۴۱ھ) نے اپنی کتاب ”الاغتباط بمن رمی من الرواة بالاختلاط ” میں فرماتے ہیں :

حصين بن عبد الرحمن أبو الهذيل السلمي الكوفي

ذكره ابن الصلاح فيمن اختلط وتغير وعزاه للنسائي وغيره انتهى. وقال أبو حاتم ثقة ساء حفظه في الآخر وقال النسائي تغير وعن يزيد بن هارون وكان قد نسي وعنه أيضا أنه قال اختلط وقد أنكر علي بن عاصم اختلاطه

(ص ۲۶)

اور اسی کو مزید وضاحت سے  امام سخاوی (المتوفیٰ ۹۰۲) بیان فرماتے ہیں کہ

حصين بن عبد الرحمن الكوفي، مع أن ابن الصلاح لم يذكرها، وهو أحد الثقات الأثبات المتفق على الاحتجاج بهم، فقد قال أبو حاتم: إنه ساء حفظه في الآخر. ونحوه قول النسائي: إنه تغير. وقال الحسن الحلواني، عن يزيد بن هارون: إنه اختلط. ولذا جزم ابن الصلاح بأنه اختلط وتغير، وقال: ذكره النسائي وغيره، ولكن قد أنكر ابن المديني اختلاطه. وكذا قال علي بن عاصم: إنه لم يختلط،

(فتح المغیث ،ج۴، ص ۳۷۴)

ان دونوں کتابوں کی نصوص سے معلوم ہوا کہ علی بن مدینی  اور علی بن عاصم کے نزدیک حصین کو اصلا اختلاط کبھی لاحق ہوا ہی نہیں تھا ۔ لہذا حصین کو بلجزم مختلط کہنا محل نظر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب اول ( اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلی بات تو یہ ہے علامہ چشتی صاحب نے معلوم نہیں کس متعرض کا اعتراض نقل کیا ہے البتہ انہوں نے اعتراض بھی ادھورا نقل کیا اور ساتھ میں امام عجلی کا کلام بھی ادھورا نقل کیا اور اگر چشتی صاحب امام عجلی کی مکمل عبارت لگا دیتے تو یہ سمجھنے  میں بہت آسانی ہوتی کہ امام عجلی نے تصریحا نام لکھ کر عباد بن عوام کو اختلاط کے بعد روایت کرنے والوں میں فقط شمار کیا ہے ۔

جیسا کہ امام عجلی فرماتے ہیں:

حصين بن عبد الرحمن السلمي كوفى ثقة ثبت في الحديث والواسطيون أروى الناس عنه لأنه سكن المبارك بأخرة فسمع منه الواسطيون بالمبارك وأرواهم عنه عباد بن العوام وكان شيخا قديما ويقال إنه أسن من منصور بن المعتمر السلمي

حصین بن عبد الرحمین سلمی یہ کوفی ثقہ  ثبت تھے حدیث میں اور واسطی(علاقے ک) کی جماعت نے ان سے روایت کیا ہے ۔  یہ مبارک  (علاقہ) میں آخری دور میں رہے اور ( اس  آخری دور) میں واسطیوں نے ان سے مبارک کے مقام پر اور عباد بن عوام نے  ان سے روایت کیا ہے ۔ اور یہ بڑی عمر کے شیخ تھے ۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ منصور بن معتمر سلمی سے بھی بڑے تھے (عمر میں)

[الثقات للعجلی برقم: 317]

تبصرہ!

معلوم ہوا کہ امام عجلی نے تصریح کی ہے کہ حصین آخری دور میں مبارک  کے مقام پر رہے اور ان سے واسطیوں کی ایک جماعت نے اس دور میں روایت کیا ہے اور ان  سے روایت کرنے والوں میں عباد بن عوام بھی اسی دور کے تھے اس لیے فقط اما م عجلی نے انکا نام تصریحا لکھا ہے تو چشتی صاحب کا یہ قیاس کرنا کہ امام عجلی نے فقط واسطی علاقے کے رجال کا کہا ہے اور عباد چونکہ واسطی تھا تو فقط علاقہ کے اعتبار سے اعتراض صحیح نہیں یہ بات غلط ہے

کیونکہ امام عجلی نے علاقہ کی جماعت کا تو ساتھ ذکر کیا ہی ہے لیکن عباد بن عوام کا خاص نام لیکر کہا ہے انہوں نے بھی اسی دور میں ہی روایت کیا ہے تو  چشتی صاحب کا جواب تحقیقا ناقص ثابت ہوا۔

اور یہ بات قابل غور ہے کہ عبات کا سماع کرنے  آخری دور میں  اس پر امام عجلی کی جرح خاص ہے عباد حصین کے مشہور و معروف تلامذہ میں سے بھی نہیں ہے اسکی دلیل یہ ہے کہ آگے آپ جتنی بحث پڑھینگے کہ انکے قدیم و متاخر تلامذہ کون سے ہیں تو اس میں کہیں بھی عباد کا نام نہیں ہوگا نہ اختلاط سے قبل و نہ اختلاط کے بعد کیونکہ عباد کی مروایات بہت ہی قلیل ہیں جسکی وجہ سے یہ حصین کے تلامذہ میں قابل  بحث ہی نہیں رہتے ۔

تو سوائے امام عجلی جنہوں نے تصریح کرد ی ہے کہ انکا سماع آخری ادوار کا ہے اس کے بعد انکو تعدیل خاص دینی ہوگی وگرنہ امام عجلی کی جرح قائم رہیگی۔

 

دوم:

اور پھر انہوں نے  متقدمین کے دو ائمہ یعنی علی بن مدینی و ابن عاصم نے راوی حصین کے اختلاط پر انکار پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انکا اختلاط متفق علیہ نہیں ہے

تو عرض ہے کہ علم رجال میں اختلا ف کی صورت میں یا تو جمہور کی رائے دیکھی جاتی ہے یا راجح تحقیق تک پہنچا جاتا ہے اور کیا ائمہ متقدمین سے متاخرین تک کیا امام ابن مدینی و ابن عاصم کی بات کو کسی نے تسلیم کیا ؟

بالکل بھی نہیں!

اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امام علی بن مدینی کا قول معتبر نہیں مانا گیا کیونکہ انکا حصین راوی سے سماع صرف ایک روایت پر مبنی تھا اور جبکہ انکے مقابل امام یزید بن ھارون کی جرح مفسر مع دلیل ہے.

جیسا کہ امام عقیلی نقل کرتے ہیں اور امام بخاری علیہ رحمہ :

حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل قال: حدثني أبي قال: سمعت يزيد بن هارون قال: طلبت الحديث وحصين حي، كان يقرأ عليه، وكان نسيا.

امام  احمد بن حنبل امام یزید بن ھارون سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں حدیث کے حصول جب شروع کیا اور اس وقت حصین زندہ تھے  اور ان پر احادیث قرات کی گئیں   وہ بھول جاتے تھے.

 حدثنا محمد قال: حدثنا الحسن قلت لعلي: حصين؟ قال: حصين حديثه واحد وهو صحيح، قلت فاختلط؟ قال: لا، ساء حفظه وهو على ذاك ثقة،

حسن راوی کہتا ہے میں نے علی بن مدینی سے حصین کے تعلق سے سوال کیا تو انہوں نے کہا حصین سے حدیث (سماعت کی ہے) اور وہ صحیح ہے ۔ تو میں نے اختلاط کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا اسکا حافظہ خراب تھا ۔ اور اس حال میں یہ ثقہ تھے ۔

قال الحسن: سمعت يزيد بن هارون يقول: اختلط

اور حسن راوی کہتا ہے میں نے یزید بن ھارون سے سوال کیا تو انہوں نے کہا یہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا

[الضعفاء الکبیر  للعقیلی برقم: 385]

امام علی بن مدینی کا استقراء تھا ہی نہیں حصین کی مروایات پر بلکہ انکا سماع فقط ایک روایت کے تعلق سے تھا اور انہوں نے وہی ایک روایت ہی صحیح سنی تھی تو انکو انہوں نے اختلاط کا انکار کیا لیکن حصین کے حفظ میں نقص کو انہوں نے بھی تسلیم کیا

جبکہ امام یزید بن ھارون  اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ انکے تلامذۃ جب ان پر احادیث کی قرات کرتے تھے تو یہ بھول جاتے تھے اور انکا بھولنا بسبب اختلاط تھا تو جب امام یزید بن ھارون حصین کے اختلاط پر مطلع ہو چکے اور حصین کا اختلاط کا مشاہد کر لیا تو انکی بات مقدم ہے کیونکہ جرح مقدم ہوتی ہے تعدیل پر یہ اصول تو بنیادی ہے

پھر اس جرح میں دوسرے ائمہ علل امام نسائی  اور امام ابو حاتم بھی موجود ہیں امام یزید بن ھارون کی موافقت میں ۔

سوم:

انہوں نے امام سخاوی علیہ رحمہ سے ادھو را کلام نقل کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ امام سخاوی کے نزدیک بھی حصین کا متلط ہونا متفقہ نہیں اور انہوں نے بھی امام ابن مدینی و ابن عاصم کا انکار لکھ کر اس پر اکتفا کیا جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ امام سخاوی نے حصین کو مختلط تسلیم بھی کیا اور انکے متاخر و قدیم تلامذہ کی تقسیم بندی بھی کی جو اس بات کا متقاضی ہے کہ متاخر تلامذۃ کی مرویات  ضعیف اور اوھام ذدہ ہیں  وگرنہ ائمہ کو قدیم و متاخر تلامذہ کی تفریق کرنے کی ضرورت نہ ہوتی

تو امام سخاوی علیہ رحمہ آگے فرماتے ہیں:

وهو ممن خرج له الشيخان من رواية خالد بن عبد الله الواسطي والثوري وشعبة وأبي زبيد عبثر بن القاسم ومحمد بن فضيل وهشيم وأبي عوانة الوضاح عنه، والبخاري فقط من رواية حصين بن نمير وزائدة بن قدامة وسليمان بن كثير العبدي وعبد العزيز بن عبد الصمد العمي وعبد العزيز بن مسلم وأبي كدينة يحيى بن المهلب وأبي بكر بن عياش عنه، ومسلم فقط من رواية جرير بن حازم وزياد بن عبد الله البكائي وأبي الأحوص سلام بن سليم وعباد بن العوام وعبد الله بن إدريس عنه، وفي هؤلاء من سمع منه قبل الاختلاط كالواسطي وزائدة والثوري وشعبة، ومن سمع منه بعده كحصين، وكانت وفاته في سنة ست وثلاثين ومائة عن ثلاث وتسعين سنة.

اور شیخین ( بخاری ومسلم) نے انکی جن (تلامذۃ) سے روایات کی تخریج کی ہے ان میں عبداللہ واسطی ، ثوری، شعبہ ، ابی زبید ، محمد بن فضیل ، ھیشم، ابو عوانہ   ہیں ۔ اور امام بخاری نے صرف جن تلامذہ سے روایت کی تخریج کی ہے ان میں حصین بن نمیر، زائدہ بن قدلہ ، سلیمان بن کثیر ، عبد العزیز العمی، عبدالعزیز بن مسلم ، ابو کزینہ یحیی بن مھلب ، ابو بکر بن عیاش ہیں ۔

اور جن رواتہ سے امام مسلم نے فقط تخریج کی ہے ان میں جریر، زیاد بن عبداللہ ، ابو الاحفص ، عباد بن عوام ، عبداللہ بن ادریس  ہیں حصین سے روایت کرنے والے ۔

اور ان میں سے یہ (رواتہ) کا سماع قبل از اختلاط ہیں  جن میں واسطی ، زائدہ ، ثوری، شعبہ ہیں ۔ اور  جنہوں نے اس ( حصین) سے بعد میں سماع کیا ہے  وہ (اسکے تلمیذ) حصین (بن نمیر) کی طرح ہیں ۔

[فتح المغیث ، ج۴، ص ۳۷۴]

تبصرہ!

معلوم ہوا امام  سخاوی علیہ رحمہ نے بالکل  امام ابن مدینی یا ابن عاصم کی بات  کو راجح قرار نہیں دیا بلکہ انہوں نے حصین کے اختلاط کا قول راجح تسلیم کیا ہے

اور حصین کے قدیم و متاخر تلامذۃ کی تقسیم کرکے یہی موقف ثابت کیا ہے کہ بعد از اختلاط کی روایت ضعیف و اوھام زدہ ہیں وگرنہ ائمہ ناقدین   غیر مضر قلیل اختلاط کی بنیاد پر تلامذہ کی گروہ بندی نہیں کرتے۔

تو چشتی صاحب کا رد انکے دیے گئے حوالے سے امام سخاوی علیہ رحمہ سے ہو گیا کہ حصین کا اختلاط واقعی مضر تھا اور انکے قدیم و متاخر تلامذہ  کی اقسام بندی ہوئی ہے

اور عباد بن عوام کو انہوں نے قبل از اختلاط میں شمار نہیں کیا ۔ بلکہ انہوں نے فقط قدیم سماع رواتہ کے نام لیے اور بقیہ تمام کو اختلاط کے بعد سماع کرنے والا کہا جن میں عباد بن عوام بھی شامل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علامہ چشتی صاحب آگے فرماتے ہیں:

ثانیا گذارش :

 اگر اختلاط لا حق ہونا بھی تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی جنہوں نے وصف اختلاط سے انکو متصف فرمایا  ان میں سے

امام  ابن ابی حاتم  نے یہ تصریح بھی کی ہے کہ ”حدثنا  عبد الرحمین سمعت ابی یقول: حصین بن عبد الرحمین ثقة فی الحدیث ، وفی آخر عمره ساء حفظه ، صدوق”

اس وضاحت سے معلوم ہوا جن ائمہ نے اختلاط کا قول کیا ان کے نزدیک بھی وہ اختلاط اس درجہ کا نہیں تھا کہ روایت درجہ حسن سے بھی گرادی جائے چاجائیکہ اسکو  ضعیف، موضووع کہا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب اول ( اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علامہ چشتی صاحب نے امام  ابی حاتم سے کلام نقل کرکے یہ دعویٰ پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ چونکہ انہوں نے حصین کے حافظہ کو خراب ہونے کی تصریح کی تو ہے لیکن  اسکے باوجود انہوں نے صدوق کہا ہے ۔

تو عرض ہے شاید علامہ چشتی صاحب امام ابو حاتم کے مکمل منہج و اسلوب سے واقف نہیں ہیں کیونکہ امام ابو حاتم جب کسی ضعیف راوی پر حافظہ کے اعتبار سے نقص  نکالتے ہوئے جرح کرتے ہیں تو اسکے ساتھ صدوق بطور عدالت  بولتے ہیں کہ راوی نے جان بوجھ کر یہ غلط بیانی نہیں کی بلکہ حفظ میں خرابی کے سبب غلطی ہوئی ہے اور ویسے سچا ہے ۔

امام ابو حاتم سے چند مثالیں درج ذیل ہیں :

١.قال وسئل أبي عنه فقال صدوق يكتب حديثه ولا يحتج به.

امام ابو حاتم کہتے ہیں یہ صدوق ہے اسکی روایت لکھی جائے گی لیکن اس سے احتجاج نہیں ہوگا

٢.سألت أبي عنه فقال: لا بأس به، هو شيخ صدوق يكتب حديثه ولا يحتج به، ليس بالمتين.

ابن ابی حاتم کہےت ہیں میں نے اپنے والد سے (راوی کے بارے) پوچھا تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں  یہ شیخ ہے صدوق ہے اسکی روایت لکھی جائے گی لیکن اس  سے احتجاج نہیں ہوگا ۔ یہ  مضبوط حافظہ والا نہیں

٣.سألت أبي عن سالم بن أبي حفصة فقال: هو من عتق الشيعة، صدوق، يكتب حديثه ولا يحتج به.

میں نے اپنے والد سے سالم بن ابی حفصہ کے بارے سوال کیا تو انہوں نے کہا یہ شیعہ رجال میں سے ہے  صدوق ہے اسکی روایت لکھی جائے گی اور اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا

[الجرح والتعدیل]

الغرض ایسی درجنوں مثالیں اس کتاب سے دے سکتے ہیں جس میں امام ابو حاتم ضعیف اور غیر احتجاج بہ راوی پر جرح کرنے کے ساتھ صدوق بھی کہتے ہیں اور وہ صدوق عدالت کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ احتجاج کرنے کے حوالے سے.اور جب کسی راوی کو احتجاج کرنے کے لائق سمجھتے ہیں تو تب فقط ”صدوق” کہتے ہیں جو کہ تعدیل ہوتی ہے۔ وگرنہ جرح کے الفاظ کے ساتھ صدوق کا اطلاق نہیں کرتے.

خود اس کتاب کے مقدمہ میں امام ابن ابی حاتم کہتے ہیں :

وإذا قيل له إنه – صدوق أو محله الصدق أولا بأس به فهو ممن يكتب حديثه وينظر فيه

اور جب کہا جائے یہ صدوق ہے ، یا سچا کہا جائے یا اس میں کوئی حرج نہیں تو اسکی روایت لکھی جائے گی اور اسکی روایات میں  تدبر کیا جائے گا

[مقدمہ ابن ابی حاتم]

تو مفتی چشتی صاحب کا امام ابو حاتم کے کلمہ ”صدوق” سے یہ استدلال کرنا کہ انکے نزید حافظہ خراب کی صورت میں بھی  حصین قابل احتجاج تھے یہ انکی خطاء ہے تحقیقا انکے نزدیک ایسا راوی یکتب حدیث ، اور تدبر کے ساتھ جب اسکی روایت کی جید متابعت و شواہد مل جائے یا نکارت  و تفرد نہ ہو تو قبول ہوگی۔

اور مذکورہ روایت میں حصین کا تفرد موجود ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد علامہ چشتی صاحب آگے لکھتےہیں:

ثالثا گزارش:

شید متعرض یہ تصور  کرتا ہے کہ جس راوی کے متعلق بھی سوء حفظ کا قول ہوا اب اس کی تمام روایات بعد از اختلاط مردود ہیں جبکہیہ بہت بڑی جہالت کی بات ہے کیونکہ علم حدیث سے معمولی مس رکھنے والا شخص بھی اس امر سے واقف ہے کہ ائمہ نے مختلطین کی طبقات بندی کی ہے جیسے کہ محدثین کے ہاں مدلسیین کی طبقہ بندی ہے اور ہر طبقہ کے مدلس کا حکم الگ بیان فرماتے ہیں۔ اور اب اگر  کوئی شخص اپنی جہالت کی بنا پر یہ خیا ل کرے کہ بس ہر وہ راوی جس کو ائمہ نے وصف تدلیس کے متصف کیا ہے اسکی وہ تمام روایات جن میں سماع کی تصریح نہیں مردود ہیں تو یہ شخص اپنی اس حماقت کی بنا پر بخاری و مسلم سمیت کثیراحادیث صحیحہ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

ایسے ہی یہ خیابھی باطل ہے کہ ہر مختلط راوی کی روایت بعد از اختلاط ضعیف ہے۔ بلکہ ایسا فاسد قول کرنے والا مطلقا علم حدیث سے جاہل ہے ۔

اس ضمن میں حق بات یہ ہے کہ مدلسین کی طرح عن الائمہ مختلطین کے بھی ططبقات ہیں اور ہر طبقہ کے مختلط راویوں کا حکم اور ایک دوسرے سے جدا ہے ۔ جیسا کہ امام علائی (المتوفیٰ ۷۶۱ھ) نے اپنی کتاب المختلطین میں مختلط راویوں کی تین اقسام بیان فرمائی ہیں :

أما الرواة الذين حصل لهم الاختلاط في آخر عمرهم فهم على ثلاثة أقسام:

اور پھر  ان تینوں قسموں کا الگ الگ حکم بھی بیان فرمایا ہے ۔ مثلا پہلی قسم کے مختلط راویوں کے متعلق فرماتے ہیں :

أحدها: من لم يوجب ذلك له ضعفا أصلا ولم يحط من مرتبته إما لقصر مدة  الاختلاط وقلته كسفيان بن عيينة وإسحاق بن إبراهيم بن راهويه وهما من أئمة الإسلام المتفق عليهم وإما لأنه لم يرو شيئا حال اختلاطه فسلم حديثه من الوهم كجرير بن حازم وعفان بن مسلم ونحوهما.

ترجمہ: پہلی قسم جن اختلاط ان کے لیے بالکل موجب ضعف نہیں اور نہ ہی ان کے مرتبہ سے ان کو گراتا ہے اسکی وجہ یا تو مدت اختلاط کا کم ہونا یا قلت اختلاط۔۔ اور یا حالت اختلاط میں روایت بالکل نہ کرنا

جیسا کہ آپ نے ملاخطہ فرمایا پہلی قسم کے راویوں کا اختلاط اصل ضعف کو مستلزم نہیں ہے ۔ بلکہ مرتبہ میں بھی کوئی کمی نہیں لائے گا۔

اب پہلی قسم کے مختلط راویوں کاحکم مستحضر رکھ کر امام علائی  کا۔۔ حصین کے متعلق فیسلہ ملاخطہ فرمائیں

حصين بن عبد الرحمن الكوفي:

أحد الأعلام المتفق عليهم. روى الحسن الحُلْوَاني عن يزيد بن هرون أنه اختلط بأخرة وأنكر ذلك ابن المديني. فهو من القسم الأول أيضا.

امام علائی نے ۔۔ حصین کو ”القسم اول” میں ذکر فرما کر احمقوں کے مبنی بر جہل اعتراخ کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا (الحمدللہ ثم الحمد للہ)

لہذا معلوم ہوا حصین۔۔ کے اختلاط کو علت بنا کر اس روایت کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔

بلکہ حصین مختلطین کے اس درجہ میں ہے جن کا  اختلاط اصلا مضر ہی نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب اول ( اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایسی بات نہیں امام علائی کی تقسیم کو ہر ہر راوی کے بارے قبول نہیں کیا گیا انکی اس تقسیم میں متعدد ایسے رجال بھی ہیں جنکی بعد از اختلاط مروایات قبول نہیں ہوتی جیسا کہ انہوں نے امام ابو اسحاق سبیعی کوشامل کیا ہے جبکہ ناقدین انکے قدیم تلامذہ کے علاوہ مروایات قبول نہیں کرتے ہیں۔

اور امام عراقی نے بھی یہ بات تسلیم نہیں کی بلکہ وہ لکھتے ہیں :

وقد سمع منه قديما قبل أن يتغير سليمان التيمي وسليمان الأعمش وشعبة وسفيان والله تعالى أعلم.

اور جنہوں نے ان (حصن) سے انکے متغیر ہونے سے پہلے سماعت کیا ہے ان میں سلیمان تیمی، اعمش، شعبہ اور سفیان شامل ہیں اللہ بہتر جاننے والا ہے

مزید فرماتے ہیں :

وذكره البخاري في الضعفاء وكذلك العقيلي وابن عدى ولم يذكروا فيه تضعيفا غير أنه كبر ونسى وقد أنكر على بن عاصم اختلاطه فقال لم يختلط

اور ذکر کیا ہے  امام بخاری، عقیلی اور ابن عدی نے اپنی الضعفاء میں اور اس پر کوئی (مطلق)جرح وارد نہیں کیی لیکن انکے بوڑھے ہونے کے سبب نسیان کے سبب  اور ابن عاصم نے انکے اختلاط کا انکار کیا

[التقييد والإيضاح شرح مقدمة ابن الصلاح، ص ۴۵۷]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علامہ چشتی صاحب لکھتے ہیں:

رابعا گزرش:

امام علائی ۔۔ کے اس دعویخ کی د لیل خود بخاری میں بھی موجود ہے  ملاخظہ فرمائیں

حدثني إسحاق بن إبراهيم، قال: قلت لأبي أسامة: حدثكم يحيى بن المهلب، حدثنا حصين، عن عكرمة: {وكأسا دهاقا} [النبأ: 34] قال: «ملأى متتابعة»

(صحیح بخاری برقم: 3839)

اس روایت کی سند میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حصین سے یحیی بن مہلب بیان فرما رہے ہیں۔ حالانکہ ابن مہلب بالتصریح ائمہ بعد از ختلاط سماع کرنے والوں میں سے ہے۔ باوجود اس کے امام بخاری نے ان کی روایت کو قبول کیا اور اپنی صحیح میں درج فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک حصین کا اختلاط قعا باعث ضعف نہیں تھا بلکہ ہر دو صورت میں انکی مرویات کو حجت سمجھتے تھے۔

اگر بلغرض محال اصول حدیث و مذکورہ ائمہ کے کلام کو پش پشت ڈال کر حصین کا اختلاط باعث ضعف بھی تسلیم کر لیا جائے تو بھی متعرض کا مدعی ثابت نہیں ہوت اکیونکہ کسی امام نے بھی عباد کو حصین سے بعد از اختلاط سماع کرنے  والوں میں نہیں شمار کیا بکہ عباد قبل از اکتلاط سماع کرنے والوں میں سے تھا ۔۔

اور متعرخ کا یہ کہنا کہ عباد واسطی ہے اور عجلی نے کہا ہے کہ حصین سے اخری عمر میں واسطیوں نے بہت زیادہ سماع کیا ہے لہذا ثابت ہوا کہ عباد نے بھی بعد از اختلاط ہی سماع کیا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب اول ( اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم اوپرمتعدد ائمہ کی تصریحات نقل کرکے آئیں جس میں کہیں بھی یہ درج نہیں ہے کہ یحیی بن مھلب کا سماع اختلاط کے بعد ہے یہ کہنا بالکل صحیح نہیں

اور امام ابن حجر عسقلانی ھدی الساری  میں لکھتے ہیں:

حصين بن عبد الرحمن السلمي أبو الهذيل الكوفي متفق على الاحتجاج به إلا أنه تغير في آخر عمره وأخرج له البخاري من حديث شعبة والثوري وزائدة وأبي عوانة وأبي بكر بن عياش وأبي كدينة وحصين بن نمير وهشيم وخالد الواسطي وسليمان بن كثير العبدي وأبي زبيد عبثر بن القاسم وعبد العزيز العمي وعبد العزيز بن مسلم ومحمد بن فضيل عنه فأما شعبة والثوري وزائدة وهشيم وخالد فسمعوا منه قبل تغيره وأما حصين بن نمير فلم يخرج له البخاري من حديثه عنه سوى حديث واحد كما سنبينه بعد وأما محمد بن فضيل ومن ذكر معه فأخرج من حديثهم ما توبعوا عليه

حصین بن عبد الرحمن ابو ھذیل کوفی ان سے متفقہ طور پر احتجاج کیا گیا ہے ۔ سوائے انکے آخر میں متغیر ہونے کے۔ اور امام بخاری نے انکی درج ذیل تلامذہ سے حدیث کی تخریج کی ہے جن میں  شعبہ ، ثوری   زائدہ، ابو عوانہ ، ابن عیاش، ابو کدینہ  (یحیی بن مھلب) ، ابن نمیر، ھشیم، خالدواسطی ، سلیمان ، ابی زید ، ابن عمی و ابن مسلم ، بن فضیل ہیں

اور ان سے قبل متغیر  امام شعبہ ، ثوری، زائدہ، ھشیم ، خالد نے سماع کیا ہے ۔ اور بن نمیر جیسے راوی سے امام بخاری نے تخریج نہیں کی ہے ۔ سوائے ایک حدیث کے جسکے بارے ہم بعد میں ذکر کرینگے۔

چونکہ اگللا راوی یہی ابن نمیر ہے تو پھر کہتے ہیں:

قلت أخرج له البخاري في أحاديث الأنبياء وفي الطب حديثا واحدا تابعه عليه عنده هشيم ومحمد بن فضيل

میں کہتا ہوں ان سے بخاری نے انبیاء کے باب میں صرف ایک حدیث کی تخریج کی ہے اور اسکے تابع ھشیم  اور محمد بن فضیل کو لائے ہیں ( اور انکو امام ابن حجر نے پہلے ہی قبل اختلاط رواتہ میں شامل کیا ہے)

[ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ، ص 398]

اور

اسی اصول پر جو امام ابن حجر عسقلانی نے بیان کیا ہے امام بخاری نے عباد بن عوام سے ایک بھی حدیث روایت نہیں کی ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عباد کوئی معروف شاگرد نہیں تھا اور نہ ہی اسکے پاس حصین کی مرویات زیادہ تھیں ۔ اس لیے امام بخاری نے اسکی کوئی روایت تخریج نہ کی جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ  عباد کا سماع یقینن اخری ادوار کاتھا جیسا کہ امام عجلی نے بیان کیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسکے بعد  چشتی صاحب فرماتے ہیں:

رافع اشکال:

عجلی کے کلام سے اگر متعرض یہ خیا کرتا ہے کہ جتنے ھی واسطی ہیں سب بعد از اختلاط سماع کرنے والے ہیں تو یہ بھی بہت بڑی جہالت ہے کیونکہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے امام عراقی نے ابل از اختلاط سماع کرنے والے چار افراد کا ذکرکیا جن میں ہیشم، خالد ، سلیمان بن کثیر تینوں واسطی ہیں اور حافظ نے جن چار کا اپنی طرف سے اضافہ نقل کیا ان میں شعبہ بھی واسطی ہیں انکی  روایات صحیحین میں متعدد وارد ہیں لہذا یہ زعم کہ تمام واسطیون کی روایات حصین سے بعد از اختلاط ہیں باطل ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب اول ( اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 یہ اعتراض بلکل اصول کےمخالف ہے جیسا کہ ہم شروع میں بیان کر آئے ہیں امام عجلی کی تصریح کے مطابق انہوں نے عباد کا نام تصریحا لیا ہے تو یہ بددرجہ اولیٰ اسکی مروایات  احتجاج کے قابل نہیں ہیں ۔  کیونکہ ہمارا استدلال عباد کے واسطی ہونے کے سبب نہیں بلکہ امام عجلی کے صریح نام لینے کے سبب ہے لہذا چشتی صاحب کا یہ دعویٰ تحقیقا صحیح نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چشتی صاحب مزید فرماتے ہیں:

خام گذارش:

ہماری معلومات کے مطابق ائمہ علل میں سے کسی ایک امام نے بھی عبات کی روایت کو حصین کے اختلاط کی وجہ سے ضعیف قرار نہیں دیا بلکہ متعدد ائمہ نے عباد کی مروایات کو بطریق حصین نقل کرکے صحیح دیا ہے جیس کہ امام مسلم (جو کہ ملتزم صحت ہیں)صحیح میں لائے ہیں

(1623) حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا عباد بن العوام، عن حصين، عن الشعبي، ۔۔۔

(صحیح مسلم)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب اول ( اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہاں پھر چشتی صاحب ادھوری بات کر گئے جبکہ یہ دلیل ہماری بنتی ہے نہ کہ علامہ چشتی صاحب کی ۔

کیونکہ اگر تو امام مسلم نے مذکورہ روایت عباد کی حصین سے احتجاج میں یعنی عباد کے تفرد میں لی ہوتی حصین سے تو انکی دلیل بن سکتی تھی بلکہ مضبوط دلیل بن سکتی تھی لیکن ایسا نہیں

کیونکہ اسی سند کے بعد امام مسلم نے مذکورہ روایت میں عباد کا متابع بیان کیا ہے

جیسا کہ امام مسلم اگلی سند یوں بیان کرتے ہیں:

وحدثنا يحيى بن يحيى، واللفظ له أخبرنا أبو الأحوص، عن حصين، عن الشعبي،

[صحیح مسلم برقم: 1623]

 

پس امام مسلم عباد کا متابع ابو الاحوص لائے ہیں اب یہ بات ہماری دلیل ہے کہ امام مسلم کا اس سے مقرونا روایت لینا یعنی متابعت میں روایت لینا اسکے تفرد کے ضعیف ہونے کی نشانی ہے ۔
اور امام بخاری کا عباد کے طریق سے حصین کی مرویات سے مکمل اجتناب کرنا بھی ہماری طحقیق کوفائدہ دیتا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے بعد چشتی صاحب نے اپنی دلیل کو مذید پختہ کرنے کے لیے  متاخرین سے اپنی موافقت میں احادیث پر تحکیم کو پیش کیا ۔

امام مقدسی نے اپنی کتاب مختارہ میں عباد بطریق حصین کی سند کو صحیح کہا

الجواب:

امام مقدسی جبکہ انکی کتب میں کثیر ایسی مروایات ہیں جو معلل ہیں تو جب روایت معلل ہو اور علت قادحہ پر محمول ہوتو تصحیح و تحسین خود بخود باطل ہو جاتی ہے جب تک علت قادحہ دور نہ کی جائے۔

ایسے ہی امام عینی ، امام ابن حجر نے اپنی کتاب اتحاف المھرہ میں ،  امام حاکم نے مستدرک میں اور امام ذھبی تصحیح کی

الجواب:

امام ابن حجر عسقلانی اپنی شروعاتی کتب میں تمام تحقیق کو اپنے جدید کتب کے مقابل منسوخ کرنے کا فتویٰ پہلے ہی امام سخاوی کو بیان کرکے گئے تھے

تو ہم نے انکی ھدی الساری سے تصریح نقل کر چکے ہیں

اور باقی امام حاکم کے تساہل سے کون نا واقف ہے اور اسکے تلخیص میں خود امام ذھبی کو بھی تسامحات ہوئے ہیں کیونکہ یہ انکی شروعاتی دور کی لکھی ہوئی ہے ۔

نیز امام ذھبی خود مذکورہ رویات کو قبول نہیں کیا ۔بلکہ وہ تو یزید کو قاتل حضرت حسینؓ سمجھتے تھے

جیسا کہ اپنی آخری تصنیف سیر اعلام میں فرمات ہیں:

افتتح دولته بمقتل الشهيد الحسين، واختتمها بواقعة الحرة، فمقته الناس، ولم يبارك في عمره.

(یزید) کی حکومت کی ابتداء امام حسینؓ کے قتل سے اور اختتام واقعہ حرہ اور لوگوں کے قتل تک ہوتی ہے ۔ اور اسکی عمر میں برکت نہ تھی (یعنی جلدی مر گیا)

[سیر اعلام النبلاء ،برقم: 8]

اسکے علاوہ علامہ البانی نے اور معاصر عرب محققین  کے حوالاجات دینا انکو کوئی فائدہ نہ دیگا۔کیونکہ فقط البانی سے ہم متعدد جروحات پیش کر سکتے ہیں جو انکے بہت نکات کے برعکس ہوگی۔

خلاصہ تحقیق:

  • عباد بن عوام کا سماع آخر میں ہوا حصین سے اس پر امام عجلی کی تصریح ہے
  • بقیہ رجال میں ائمہ نے قدیم و متاخر کی تمیز کی ہے جو اس بات کے متقاضی ہے کہ بعد از اختلاط بھی انہوں نے کافی روایت کیا ہے اور وہ نا قابل احتجاج ہیں البتہ ائمہ نے ایسی مروایات قبول کی ہیں جن میں حصین کے متاخر تلامذہ ایک دوسرے کے متابع ہیں دو یا دو سے زیادہ
  • لیکن عباد کا تو کسی نے تبصرہ ہی نہیں کیا نہ ہی قبل اختلاط روات اور نہ ہی بعد از اختلاط روات جس سے ثابت ہوا کہ یہ معروف شاگرد ہے ہی نہیں اور ایسی منکر روایت مشہور تلامذہ کو نہ ملی جو عباد کو ملی۔

پس یہ روایت متن و سند دونوں کے اعتبار سے منکر اور ناقبل احتجاج ہے ۔

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

 

3 thoughts on “امام حسین کا یزید کی بیعت کے حوالے فضل چشتی صاحب کی پیش کردہ روایت کا تحقیقی جائزہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے