ترک رفع یدین کی احادیث
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

ترک رفع یدین کی احادیث پر ائمہ سلف اور تابعین کا عمل 

ترک رفع یدین کی احادیث پر بڑے بڑے کبیر تابعین اور مجتہد تابعین کا عمل تھا جو صحابہ کے پیچھے نمازیں پڑھنے والے تھے اور سیکڑوں صحابہ کے شاگرد تھے۔ امام شعبی (پانچ سو صحابہ کے شاگرد) نماز میں ترک رفع یدین کے قائل تھے۔

امام ابن ابی شیبہ روایت کرتےہیں:

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: وَرَأَيْتُ الشَّعْبِيَّ، وَإِبْرَاهِيمَ، وَأَبَا إِسْحَاقَ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا حِينَ يَفْتَتِحُونَ الصَّلَاةَ

امام عبد الملک کہتے ہیں : کہ میں نے امام الشعبی، امام ابراہیم النخعی اور امام ابو اسحاق السبیعی کو دیکھا کہ وہ کہیں بھی رفع الیدین نہ کرتے نماز میں سوائے افتتاح کے

[مصنف ابن ابی شیبہ وسندہ صحیح]


ترک رفع یدین کی احادیث پر عمل کرنے والے امام شعبی اور ابو اسحاق کا مقام:

امام ابو اسحاق کا حضرت علی کو دیکھنے اور انکے خطبہ سننے کی تصریحات!

جیسا کہ امام ابن ابی لدنیا روایت کرتےہیں امام ابو اسحاق سے :

حدثنا أبو موسى، نا عبد الرحمن بن مهدي، نا سفيان، عن أبي إسحاق، قال: رأيت عليا رضي الله عنه، أبيض الرأس واللحية» . قال سفيان: أو ذكر أحدهما

امام ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے حضرت علی کو سفید سر اور سفید داڑھی والا دیکھا۔

[الآحاد والمثاني: 153،وسندہ صحیح]

پھر دوسری روایت لاتے ہیں :

حدثنا محمد بن المثنى، نا يحيى بن سعيد، نا إسماعيل، عن الشعبي، قال: «رأيت عليا رضي الله عنه، أبيض الرأس واللحية قد أخذت ما بين منكبيه أصلع على رأسه زغيبات

امام شعبی کہتےہیں میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کا سر اور داڑھی سفید تھی جو ان کے کندھوں کے درمیان تھی، (سر درمیان سے)گنجا اور(سر کے اطراف سے) بال تھے۔

[ایضا برقم: 154، وسندہ صحیح]


اس سے یہ معلوم ہوا کہ امام ابو اسحاق و امام شعبی حضرت علی کے خطبہ و نمازون میں موجود تھے اور اس وقت سمجھ بوجھ والے تھے جیسا کہ اس خطبے کے دوران امام ابو اسحاق نے اپنے والد کے الفاظ بھی بیان کیے۔

جیسے ایک جگہ امام ابو اسحاق سے تصریح بھی ملتی ہے :

حدثنا علي بن عبد العزيز، ثنا أبو نعيم، ثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي إسحاق، قال: رأيت عليا رضي الله عنه، قال: قال لي أبي: يا عمرو فانظر إلى أمير المؤمنين فلم أره خضب لحيته، ضخم الرأس

امام ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے حضرت علیؓ کو دیکھا اور مجھ سے میرے والد نے کہا اے عمرو! دیکھو یہ امیر المومنین ہیں اور میں نے انکی داڑھی کو خضاب میں نہ دیکھا اور انکا سر بڑا تھا

[المعجم الكبير: 152 وسندہ حسن]

حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي، ثنا يوسف بن يعقوب الصفار، ثنا حمد بن خالد الخياط، عن ابن أبي ذئب، عن سفيان الثوري، عن أبي إسحاق، قال: رأيت عليا رضي الله عنه على المنبر أبيض الرأس واللحية

امام ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے حضرت علیؓ کو منبر (پر خطاب کرتےہوئے ) دیکھا اور آگے راویت ویسے ہے

[المعجم الكبير، برقم: 154]


اب چونکہ امام ابو اسحاق نے حضرت مولا علی کا خطبہ سنا یعنی پھر انکے پیچھے نماز بھی ادا کی اور اس وقت انکی عمر 7 سال کے قریب تھی !

جیسا کہ امام ذھبی علیہ رحمہ امام ابو اسحاق کے ترجمہ میں لکھتےہیں :

قَالَ: وُلِدْتُ لِسَنَتَيْنِ بَقِيَتَا مِنْ خِلاَفَةِ عُثْمَانَ، وَرَأَيْتُ عَلِيَّ بنَ أَبِي طَالِبٍ يَخطُبُ.

ابو اسحاق نے کہا میں حضرت عثمان کی خلافت کے ختم ہونے سے دو سال پہلے پیدا ہوا اور میں نے حضرت علی کو خطبہ دیتے دیکھا

[سیر اعلام النبلاء]


اور اسی طرح امام شعبی بھی حضرت علی کے تلامذہ میں سے ہیں انکا خطبہ سننے اور انکے پیچھے نماز پڑھنے والوں میں سے ہیں

حدثنا محمد بن المثنى، نا يحيى بن سعيد، نا إسماعيل، عن الشعبي، قال: رأيت عليا رضي الله عنه، أبيض الرأس واللحية قد أخذت ما بين منكبيه أصلع على رأسه زغيبات

امام شعبی کہتےہیں میں نے حضرت علیؓ کو دیکھا انکی داڑھی گھنی تھی جو دو کندھوں کے درمیان تھی اور انکے سر پر بال تھے

[الآحاد والمثاني: 154، وسندہ صحیح]


اور انکے بارے امام ذھبی لکھتےہیں:

قال لي أبو إسحاق: الشعبي أكبر مني بسنة أو سنتين

قلت: وإنما ولد أبو إسحاق بعد سنة اثنتين وثلاثين.

وقال محمد بن سعد : هو من حمير، وعداده في همدان.

قلت: رأى عليا -رضي الله عنه- وصلى خلفه.

ابو اسحاق سے منسوب ہے کہ وہ کہتے ہیں شعبی مجھ سے ایک یا دو سال بڑا ہے

امام ذھبی کہتے ہیں بلکہ میں کہتا ہوں امام ابو اسحاق ان سے 32 سال چھوٹے ہیں

اور میں کہتا ہوں کہ انہوں نے حضرت علیؓ کو دیکھا اور انکے پیچھے نمازیں بھی پڑھی

[سیر اعلام النبلاء]


اب چونکہ امام ابو اسحاق حضرت علی سے خطبہ سننے اور نماز پڑھنے والوں میں سے تھے تو انکا ہی فرمان ہے کہ :

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: «كَانَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَصْحَابُ عَلِيٍّ، لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ إِلَّا فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، قَالَ وَكِيعٌ،، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ

امام وکیع اور امام ابو سامہ امام شعبہ وہ ابی اسحاق السبیعی وہ فرماتے ہیں :

کہ حضرت عبداللہ بن مسعوؓ اور حضرت مولا علی علیہ السلام کے اصحاب نماز کے شروع کے علاوہ رفع الیدین نہ کرتے تھے ، اور وکیع نے ان الفاظ سے کہا کہ پھر رفع الیدین نہ کرتے تھے۔

[مصنف ابن ابی شیبہ2446، وسندہ جید ]


چونکہ یہ حضرت علیؓ کے پیچھے بھی نمازیں ادا کرنے والے تھے اور اصحاب حضرت علیؓ کے پیچھے بھی تو اسی لیے ابو اسحاق نے عمومی طور پر اصحاب علیؓ کو ترک رفع الیدین کا قائل بتایا ہے جن میں کلیب بن شھاب بھی آتے ہیں۔اور جس سے ابو بکر نھشلی کی روایت کو بطور متن بھی تقویت ملتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ حضرت ابو اسحاق و شعبی ترک کے قائل تھے۔

اور اہل علم جانتے ہیں کہ کوفہ کے جید محدثین مجتہدین و حفاظ الحدیث ائمہ سلف ترک رفع یدین کے قائل تھے۔
تحریر: اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے