امام ابو حنیفہ مناظرہ امام ابو جعفر
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 2 Average: 5]

امام ابو حنیفہ کا امام ابو جعفر  سے مقالمہ اور افضیلیت شیخین 

امام ابو حنیفہ امام ابو جعفر صادق کے شاگرد رہے  ہیں فقہ میں بلکہ آپ امام باقر کے بیٹے امام جعفر صادق کے بھی شاگرد رہے ہیں اور ان سے علم فقہ کے جام پیے ہیں۔   امام ابو حنیفہ نے فقہ میں جو دقیق نظر اور قوت استدلال پائی ہے ۔ اس میں امام ابو جعفر کا بھی فضل شامل ہے۔ 

امام ابن جوزی امام ابو حنیفہ کا امام ابو جعفر کے حوالے سے ایک مقالمہ نقل کرتے ہیں:

قال أبو حنيفة: لقيت أبا جعفر محمد بن علي، فقلت: ما تقول في أبي بكر وعمر؟ فقال: رحم الله أبا بكر وعمر، فقلت: إنه يقال عندنا بالعراق إنك لتبرأ منهما، فقال: معاذ الله كذب من قال هذا عني، أو ما علمت أن علي بن أبي طالب زوج ابنته أم كلثوم التي من فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وآله سلم عمر بن الخطاب وجدتها خديجة وجدها رسول الله صلى الله عليه وآله سلم.
امام ابو حنیفہ کہتے ہیں: میں ابو جعفر محمد بن علی (امام باقر) سے ملا، میں نے کہا: آپ ابوبکر اور عمر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ فرمایا: خدا ابوبکر و عمر پر رحمت نازل فرمائے۔
میں نے کہا: ہمارے شہر عراق میں آپکے متعلق (کچھ لوگوں کی طرف سے) کہا جاتا ہے کہ آپ ان پر تبرا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: خدا نہ کرے جس نے میرے بارے میں یہ کہا اس نے جھوٹ بولا۔
یا کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ علی بن ابی طالب نے اپنی بیٹی ام کلثوم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں انکا نکاح حضرت عمر ؓ سے فرمایا ، ان (حضرت عمر کی بیوی) جنکے نانا حضور اکرمﷺ ہیں اور انکی نانی اماں خدیجہ ہیں۔
[ المنتظم في تاريخ الأمم والملوك، ج۷، ص ۱۶۱]

امام ابو حنیفہ اور امام ابو جعفر کی اس حکایت کو نقل کرنے والے امام ابن جوزی کے حوالے سے ایک نوٹ:

امام ابن جوزی اپنی اس تاریخی تصنیف میں اثار کو عمومی طور پر سند کے ساتھ بیان کرنے کا التزام کرتے ہیں اور مذکورہ روایت انہوں نے براہ راست امام ابو حنیفہ سے بلجزم بیان کی ہے ۔
جس سے یہ احتمال غالب ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ بات امام ابو حنیفہ کی اپنی تصنیف سے پڑھ نقل کی ہے ۔ جیسا کہ امام ابن جوزی نے دعوی کیا کہ انکے پاس امام ابو حنیفہ کی متعدد کتب جامع نظامیہ کے کتب خانے سے دستیاب تھیں۔

امام ابو حنیفہ کی کتب کے حوالے امام ابن جوزی لکھتے ہیں:

وإني أخبر عن حالي: ما أشبع من مطالعة الكتب، وإذا رأيت كتابًا لم أره، فكأني وقعت على كنز، ولقد نظرت في ثبت الكتب الموقوفه في المدرسة النظمية2؛ فإذا به يحتوي على نحو ستة آلاف مجلد، وفي ثبت كتب أبي حنيفة، وكتب الحميدي، وكتب شيخنا عبد الوهاب، وابن ناصر، وكتب أبي محمد بن الخشاب -وكانت أحمالًا- وغير ذلك من كل كتاب أقدر عليه، ولو قلت: إني طالعت عشرين ألف مجلد، كان أكثر، وأنا بعد في الطلب! فاستفدت بالنظر فيها من ملاحظة سير القوم، وقدر هممهم، وحفظهم وعباداتهم، وغرائب علومهم: ما لا يعرفه من لم يطالع، فصرت أستزري3 ما الناس فيه، وأحتقر همم الطلاب. ولله الحمد.
امام ابن جوزی کہتے ہیں:
میں اپنی حالت کا بیان کرتا ہوں: میں کتابوں کی مطالعہ سے کبھی نہیں تھکا۔ (یعنی اور زیادہ مطالعہ کی حرس تھی)، اور جب بھی میں ایک کتاب دیکھتا جسے میں نے پہلے نہیں دیکھا، تو میرے لیے ایسا ہوتا جیسے میں کسی خزانے کو پا لیا، اور میں نے مدرسہ نظامیہ کے کتب خانے میں پڑی کئی کتب کی تحقیق کی؛ تو وہ بھاری تعداد میں تھیں، تقریباً چھے ہزار مجلد،
(جن میں ) امام ابو حنیفہ کی کتب،
اور امام حمیدی کی کتب تھیں ،
اور ہمارے شیخ عبدالوہاب کی کتب،
اور ابن ناصر کی کتب، ابو محمد بن الخشاب کی کتب   اور یہ کتابیں بھاری تھیں۔
اور اس کے علاوہ ہر ایک کتاب جو میں دیکھتا اور اگر میں کہوں کہ میں بیس ہزار مجلد پڑھ چکا ؂ تو وہ بھی کم ہوگا، اور میں اب بھی (مزید) تلاش میں ہوں!
ان (کتب کو) دیکھ کر، مجھے لوگوں کی زندگیوں، ان کے افکار، ان کے حفظ اور عبادات، اور ان کے علوم کی عجائب کا مشاہدہ کرنے سے فائدہ ہوا،جن لوگوں نے نہیں پڑھا وہ نہیں جانتے۔ چنانچہ میں حیران ہونے لگا کہ لوگ کیا ہیں، اور طلباء کے خدشات کو حقیر جانا۔
اللہ کا شکرہے!
[صيد الخاطر، ص ۴۵۴]

خلاصہ تحقیق:

امام ابو حنیفہ اور  امام ابوجعفر کے اس مکالمہ سے معلوم ہوا کہ  روافض نے اپنی طرف جھوٹ جو عراق میں انکے نام سے پھیلا رکھا تھا اسکی صریح نفی کی امام ابو جعفر نے ۔ اور دوسری عقلی دلیل بھی پیش کی کہ حضرت عمرؓ جو حضرت علی و حضرت فاطمہ کے داماد ہیں ۔ جنکی بیوی کے نانا رسولﷺ اور نانی حضرت خدیجہ ہیں ان حضرت عمرؓ پر معاذ اللہ میں کیسے تبرا کر سکتا ہوں اگر بقول رافضیوں کے کرنا بھی چاہتا؟؟؟
اس سے یہ بھی نکتہ ملا کہ امام ابو جعفر تو ام کلثومؓ سے حضرت عمرؓ کی بیوی ہونے کے سبب حضرت عمرؓ پر تبرا محال سمجھتے تھے۔
تو رافضی کیسی زلیل قوم ہے کہ جو اماں عائشہ پر طعن کرتی ہیں جبکہ انکو یہ حیاء تک بھی نہیں کہ وہ رسول پاکﷺ کی سب سے پیاری بیوی تھیں۔
پتہ چلا کھٹمل اہل بیت کی خوشبو کو ہی نہیں پا سکے!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے