ابو حنیفہ و سفیان ثوری
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

امام ابو حنیفہ و امام سفیان ثوری کی فقاہت میں مماثلت!

امام ابو حنیفہ اور امام سفیان ثوری دو اہل کوفہ کے ایسے ستارے تھے جس میں ایک نے اپنا نام علم حدیث میں منور کر رکھا تھا تو ایک نے اپنا نام علم فقہ میں منور کر رکھا تھا!!امام ابو حنیفہ نے فقاہت میں دقیق نظری اور بے مثال قوت استدلال کے سبب امام اعظم کا لقب پایا  تو امام سفیان ثوری نے اپنے با کمال حافظے کے سبب امیر المومنین فی حدیث کا لقب پایا ۔

امام احمد بن حنبل علیہ رحمہ نے امام سفیان کی کتاب جامع سے اس قدر اختلاف شدت سے کیوں کیا؟اور امام یحییٰ بن معین کے نزدیک جامع سفیان ثوری کیوں ایسی کتاب تھی کہ جس کی تقلید کی جائے!!!
اسکی اصل وجہ یہ بھی تھی کہ امام سفیان نے اس کتاب کے اکثر و بیشتر مسائل میں امام ابو حنیفہؓ کے اقوال سے موافقت کی تھی!!!!


جیسا کہ امام ابو شیخ صفہانی روایت کرتےہیں :
حدثنا محمد بن أحمد بن عمرو قال: ثنا رسته , قال: سمعت أبا سفيان , يقول: «جامع سفيان الذي تقاتل الناس عليه , ما خالف أبا حنيفة إلا في خمس عشرة مسألة»
▪︎ امام ابو سفیان بن مہران ثقہ امام کہتے ہیں : لوگ جامع سفیان ثوری (کتاب) پر (فضول میں ) لڑتے ہیں یا اختلاف کرتے ہیں جبکہ امام ابو حنیفہ ؓ نے (اس کتاب میں مذکورہ مسائل کے تعلق سے ) صرف پندرہ مسائل میں اختلاف کیا ہے امام سفیان سے !
[طبقات المحدثين بأصبهان والواردين عليها، ج ۲، ص ۲۲۸، وسندہ صحیح ]


امام ابن معین کا امام سفیان ثوری کی کتاب کو پسند کرنا!

امام یحییی بن معین سے انکے شاگرد روایت کرتےہیں:
سألت يحيى قلت له ما ترى في رجل فرط في العلم حتى كبر فلم يقو على الحديث يكتب جامع سفيان بيديه ويعمل بما فيه قال كان سفيان إماما يقتدى به قلت فمن كرهه قال ليس يكره جامع سفيان إلا أحمق
▪︎ امام دوری فرماتے ہیں میں نے امام یحییٰ بن معین سے پوچھا کہ آپ اس شخص کے بارے کیا کہتے ہیں؟ جو علم سے غافل رہا ، حتی کہ بوڑھا ہو گیا اور حدیث بھی بیان نہ کر سکا، لیکن اس نے اپنے ہاتھوں سے جامع سفیان (کتاب) کو لکھا ہے اور جو کچھ(مسائل فقہ) اس (کتاب جامع سفیان) میں ہے اس کے مطابق عمل کرتا ہے تو ان (امام یحییٰ) نے کہا کہ امام سفیان ثوری ایسے امام تھے کہ جنکی تقلید کی جائے
پھر میں (الدوری) نے کہا اور جو کوئی اس (کتاب) جامع سفیان سے کراہت یا ناپسند کرتا ہو(امام احمد بن حنبل کی طرف اشارہ تھا) تو امام یحییٰ بن معین نے کہا کہ جامع سفیان سے سوائے احمق کے کوئی کراہت نہیں کر سکتا
[تاریخ یحییٰ بن معین بروایت الدوری ، برقم:3109]


جبکہ امام احمد امام شافعی کی فقہی آراء کو قرآن و سنت کے زیادہ قریب سمجھتےتھے اور امام یحیی بن معین امام ابو حنیفہ کی آراء کو قرآن و سنت کے زیادہ قریب سمجھتے تھے!!

جیسا کہ امام احمد کا قول جامع سفیان کے بارے یوں ہے جیسا کہ مام عبداللہ بن احمد اپنے والد کے بارے فرماتے ہیں:
كان ابي يكره جامع سفيان وينكره ويكرهه كراهية شديدة
▪︎ میرے والد (احمد ) جامع سفیان (الثوری) کی (فقہی) کتاب کو سخت نا پسند کرتے اور اسکا انکار کرتے تھے اور اس (کتاب) پر بہت زیادہ نا پسندیدگی کا اظہار کرتے تھے
[مسائل أحمد بن حنبل رواية ابنه عبد الله برقم: 1582]


چونکہ امام سفیان ثوری کی نوے فیصد آراء امام ابو حنیفہؓ کے موافق یا انکی اتباع میں ہوتی تھیں اس لیے امام احمد کو اپنی اوائل زندگی میں یہ کتاب کوفہ کے مذہب احناف کے موافق ہونے کی وجہ سے نا پسند تھی!!

جیسا کہ امام احمد ایک مسلہ پر کہتے ہیں:
قلت لأحمد ” الغرقى يورث بعضهم من بعض؟ قال: أكثر الأحاديث عليه , ولا نعلم بين أهل الكوفة فيه اختلافا حتى جاء أبو حنيفة، فقاله، وتباعه على ذلك سفيان .
▪︎ میں نے احمد سے پوچھا کیا غرقی شخص اپنے بعض لوگوں سے بعض کو وصیت کر سکتا ہے؟؟تو کہا اس پر اکثر روایات موجود ہیں میں نہیں جانتا اہل کوفہ میں کس نے اس مسلے پر اختلاف کیا ہو حتی کہ ابو حنیفہ آئے انہوں نے اس پرکلام کیا اور انکی اتباع کر لی سفیان الثوری نے
[مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني، باب: في الرأي]


جبکہ امام ابن معین کا موقف اسکے برعکس آپ پڑھ چکے ہیں۔ نیز یہی وجہ ہے کہ امام ابن معین امام شافعی کی آراء کو مکمل طور پر ناپسند کرتے تھے کیونکہ وہ امام ابو حنیفہ سے یکسر برعکس ہوتی تھیں۔

جیسا کہ امام ابن جنید امام یحیی بن معین کلام روایت کرتا ہے:
قال ابن معین: ما أرى لمسلم أن ينظر في رأي الشافعي، ينظر في رأي أبي حنيفة أحب إلي من أن ينظر في رأي الشافعي»
امام ابن معین کہتے ہیں:
میں کسی مسلمان کے لیے یہ موقف نہیں رکھتا کہ وہ شافعی کی رائے یعنی قیاس و اجتہاد میں نظر کرے۔
امام ابو حنیفہ کی رائے یعنی قیاس و اجتہاد میں نظر کرنا مجھے پسند ہے برعکس شافعی کی رائے میں نظر کرنے سے
[سوالات الجنید برقم:92]


یہی وجہ کہ امام ابن مبارک کہتے تھے جس مسلے پر امام ابو حنیفہ و امام سفیان اکٹھے ہو جائیں کون ہے جو انکی مخالفت کر سکتے۔۔۔۔۔!!
تحقیق: اسد الطحاوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے