ابو ایوب انصاری
Spread the love
Click to rate this post!
[Total: 1 Average: 5]

حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا قبر رسولﷺ پر آنا اور وسیلہ اختیار کرنا

حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ایک اثر پر اعتراضات کیے گیے تھے ہم اس مضمون میں انکے اعتراضات کا مدلل جواب مع دلائل پیش کرینگے
ہم پہلے وہ تحریر نقل کرتے ہیں من و عن پھر اس کے بعد اسکا رد پیش کرینگے

حضرت ابو ایوب انصاری کا قبر رسولﷺ پر آنے والی روایت پر اعتراض


اعتراض:
کثیر بن زید نے داود بن صالح سے بیان کیا ہے کہ:
أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْمًا فَوَجَدَ رَجُلًا وَاضِعًا وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُـو أَيُّـوبَ، فَقَالَ: نَعَمْ، جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَـمْ آتِ الْـحَجَرَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ، وَلَكِنْ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْـرُ أَهْلِهِ.
مروان نے ایک دن (نبی کریم ﷺ کی قبر پر) آ کر دیکھا کہ ایک آدمی نے اپنا چہرہ قبر ِ مبارک پر رکھا ہوا تھا، مروان نے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کیا کر ر ہےہیں؟آگے ہو کر دیکھا تووہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے جواب دیا: ہاں میں جانتا ہوں ، میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیابلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا ہوں اورمیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا تھا:
”جب دین کے وارث اہل اور مستحق لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا ، جب نااہل لوگ اس کے وارث بن جائیں گے۔“
(مسند احمد:5/422، ح:23633، المستدرک للحاکم :4/560،تاریخ دمشق لابن عساکر : 57/243)
یہ روایت ضعیف وغیر ثابت ہے۔
اس کی سند میں داود بن ابی صالح حجازی ”مجہول“ہے۔(تہذیب التہذیب لابن حجر :3/ 188)
تنبیہ اول: یہ داود بن ابی صالح اللیثی المدنی نہیں ہے، جیسا کہ بعض اہلِ علم نے سمجھا۔(فیض القدیر للمناوی :6/386)وہ تو منکر الحدیث ہے۔
اس کے متن میں بھی گڑبڑہے، کیونکہ اس سے بہتر سند سے یہی روایت کثیر بن زید نے مطلب بن عبد اللہ ابن حنطب سے بیان کی ہے کہ :
جَاءَ أَبُو أَيُّوْبَ الْـأَنْصَارِيِّ يُرِيدُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ مَرْوَان وَهُوَ كَذَلِكَ فَأَخَذَ بِرَقَبَتِهِ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: قَدْ دَرَيْتُ أَنِّي لَـمْ آتِ الْـخَدَرَ وَلا الْـحَجرَ وَلَكِنِّي جِـئْتُ رَسُولَ اللهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ عَلَيْهِ السَّلامُ يَقُولُ: لَا تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ مَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ، وَلَكِنِ ابْكُوا عَلَى الدي إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ.
”ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کی قبر پر) سلام پیش کرنے کے لیے تشریف لائےکہ اسی اثناء میں مروان نے آکر ان کوگردن سے پکڑ کر کہا: آپ کو پتا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟فرمایا: ہاں مجھے پورا ادراک ہے ،میں کسی ویرانے میں یا پتھر کے پاس نہیں آیا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا:
”جب دین کے وارث اہل لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا ، جب نااہل لوگ اس کے وارث بن جائیں گے۔“
(التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ :2/76، ح :1801، تاریخ دمشق لابن عساکر :57/250)
اس روایت میں وضاحت ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ صرف سلام کرنے کے لیے نبی کریم ﷺکی قبرپر تشریف لائے تھے ، ایسا بالکل نہیں تھا کہ انہوں نے اپنی جبین کو قبرِ مبارک پر رکھا تھا۔ اگرچہ اس کی سندمطلب بن عبداللہ ابن حنطب تک اس کی سند حسن ہے،لیکن مطلب بن عبداللہ”مدلس “تھےاور ارسال بھی کرتے تھے،انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی لہذا یہ بھی ضعیف ہے۔
(تقریب التہذیب :6710)
فائدہ:امام طبرانی رحمہ اللہ نے اس کے مرفوع حصے کو کثیر بن زید سے ایک دوسری سند سے روایت کیا ہے
۔(المعجم الکبیر :4/158، المعجم الاوسط :1/94)
اس کی سند”کثیر“ تک صحیح نہیں،کیونکہ امام طبرانی کے شیخ،احمد بن محمد بن حجاج بن رشدین”ضعیف“ ہیں۔
(القاصی والدانی الی تراجم شیوخ الطبرانی:172)
اور سفیان بن بشیر یا بشر بھی ”غیر معروف“ ہے۔
(السلسلہ الضعیفہ للالبانی:1/556)
خلاصہ کلام:
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ہرگز ثابت نہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک پر اپنا چہرہ رکھا ہو یا چوما ہو۔اگر بفرضِ محال ثابت ہو بھی جاتا تو اس سے بطورِ تبرک قبور کو چومنا ثابت نہیں ہوسکتا تھا۔
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔

.:::::::::::::::::: الجواب::::::::::::::::.

حضرت ابو ایوب انصاری کے قبر رسولﷺ آنے والی روایت پر اعتراض کا جوب

سب سے پہلے ہم موصوف کی یہ فحش خطاء ثابت کرتے ہیں کہ انہوں نے مسند احمد کی روایت جو داود بن صالح سے مروی ہے اور جو روایت انہوں نے تاریخ الکبیر ابن خثیمہ سے بیان کی اسکو مقدم کرتے ہوئے سند کو بہتر کس اعتبار سے قرار دیا داود بن صالح کے مقابل ؟؟؟
اہم نکتہ!
جو روایت امام احمد و حاکم نے بیان کی ہے جسکی سند متصل ہے اس میں فقط ضعف یہی ہے کہ یہ راوی مجہول الحال ہے لیکن اس پر کسی قسم کی کوئی جرح نہیں ہے
جیسا کہ امام ہیثمی امام ذھبی کا کلام نقل کرتے ہیں :
رواه أحمد وداود بن أبي صالح، قال الذهبي: لم يرو عنه غير الوليد بن كثير. وروى عنه كثير بن زيد كما في المسند ولم يضعفه أحد
اسکو روایت کیا ہے امام احمد نے اور داود بن صالح نے اور امام ذھبی کہتے ہیں کہ ان (داود بن صالح ) سے کوئی روایت نہیں کرتا سوائے ولید بن کثیر کے اور ان سے کثیر بن زید نے روایت کیا ہے جیسا کہ مسند (احمد ) میں ہے اور کسی بھی (ناقد) نے انکی تضعیف نہیں کی ہے
[مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، امام ہیثمی ، برقم:۵۸۴۵]
اور جو روایت موصوف نے بیان کی ہے تاریخ الکبیر ابن خثیمہ سے جب کہ انکا خود کا ماننا ہے کہ یہ روایت کا مرکزی راوی :
المطلب بن عبد الله بن حنطب جو کہ تدلیس اور ارسال کا مرتکب تھا
اور یہ بات اہم ہے کہ اس روایت پر تدلیس کی جرح امام ابن حجر عسقلانی کے شیخ ہیثمی اور امام ابن حجر نے خود اپنی تحقیق سے مطلع ہوئے وگرنہ متقدمین میں کسی نے بھی اس روایت پر تدلیس کا اطلاق نہیں کیا التبہ ارسال کے ۔۔
جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی تقریب میں لکھتے ہیں:
المطلب ابن عبد الله ابن المطلب ابن حنطب ابن الحارث المخزومي صدوق كثير التدليس والإرسال من الرابعة
کہ مطلب بن عبداللہ جو کہ کثیر التدلیس ہے اور ارسال بھی کرتے تھے ۔
[تقریب التہذیب ، برقم:۶۷۱۰]
اب معلوم نہیں مطلب نے یہ روایت کس سے سنی ہے وہ راوی کس درجے کا ہے یہ علت ہے جسکی وجہ سے راوی مبھم ہے
جبکہ داود بن صالح جس پر کسی کی کوئی جرح نہیں کسی بھی قسم کی اور ابن حجر نے اسکو مقبول یعنی لین قرار دیا ہے ۔
اب دیکھتے ہیں کہ تقریب میں امام ابن حجر عسقلانی کا منہج مقبول کے بارے کیا ہے :
من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الاشارة بلفظ ” مقبول ” حيث يتابع، وإلا فلين الحديث.
جرح و تعدیل میں رواة کا چھٹا طبقہ وہ ہے جس میں راوی کی کم احادیث مروی ہوں، اور اس پر ایسی جرح نہ ہو جس سے اس کی حدیث متروک ہوجائے، ایسے راوی کی طرف مقبول کے لفظ سے اشارہ ہے جب کہ اس کا کوئی متابع ہو ورنہ وہ لین الحدیث ہے۔
[مقدمہ تقریب التہذیب ، ص ۸۱]
یعنی ایسا راوی جس پر نہ جرح ہو نہ تعدیل اور اسکی روایات بھی بہت کم ہوں اگر تو اسکا کوئی متابع مل جائے تو اسکی روایت قبولیت کے درجے تک ہوگی وگرنہ وہ کمزور روایت والا ہوگا ۔
تو داود بن صالح جو کہ مستور ہے وہ مقبول درجے کا ہے اور اسکی متابعت ثابت ہو چکی ہے اور وہ ہے مطلب بن عبداللہ کا وہ مبھم شیخ جس سے المطلب نے ارسال یا تدلیس کی ہے


اب ایسے راویان کی روایات حسن لغیرہ بنتی ہے
چونکہ انہوں نے امام ابن حجر عسقلانی کے قول تدلیس کو قبول کیا ہے مطلب بن عبداللہ پر ۔۔
تو انہی سے حسن لغیرہ کا صول بیان کرتے ہیں :
[الحسن لغيره]
ومتى تُوبعَ السيءُ الحفظ بمُعْتَبَرٍ: كأَنْ يكونَ فَوْقَهُ، أَو مِثلَهُ، لا دُونَه، وكَذا المختلِط الَّذي لم يتميز، والمستور، والإِسنادُ المُرْسَلُ، وكذا المدلَّس إِذا لم يُعْرف المحذوفُ منهُ = صارَ حديثُهم حَسناً، لا لذاتِهِ
چناچہ وہ بیان کرتے ہیں کہ :
اور جب خراب حافظے والے راوی کی کسی ایسے راوی سے متابعت آجائے جو اس سے اچھی حالت والا ہو یا اس جیسا ہو ، اسی طرح وہ مختلط راوی جسکی روایات کی (قبل الاختلاط اور بعد الاختلاط ہونے کے حوالےسے) تمیز نہ ہو سکے نیز مستور راوی، مرسل سند اور ایسی تدلیس والی روایت جس میں گرے ہوئے راوی کی پہچان نہ ہو سکے ،ان سب کی حدیث حسن (لغیرہ)ہو جاتی ہے نہ لذاتہ
چناچہ امام ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں
، بل وصْفُهُ بذلك باعتبارِ المَجْموعِ، مِن المتابِع والمتابَع؛ لأن كلَّ واحدٍ منهم احتمالُ أن تكون روايته صواباً، أو غير صوابٍ، على حدٍّ سواءٍ، فإِذا جاءَتْ مِنَ المُعْتَبَرِين روايةٌ موافِقةٌ لأحدِهِم رَجَحَ أحدُ الجانِبينِ من الاحتمالين المذكورين، وَدَلَّ ذلك على أَنَّ الحديثَ محفوظٌ؛ فارْتَقى مِن درَجَةِ التوقف إلى درجة القبول. ومعَ ارْتِقائِهِ إِلى دَرَجَةِ القَبولِ فهُو مُنحَطٌّ عنْ رُتْبَةِ الحَسَنِ لذاتِه، ورُبَّما تَوقَّف بعضُهم عنْ إِطلاقِ اسمِ الحَسَنِ عليهِ.
(روایت حسن لغیرہ)خود نہیں بلکہ اس کی یہ حالت متابع اور متابع دونوں کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں برابر امکان ہے کہ اس کی روایت درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی ، جب کسی ایسے راوی جسکی روایت متابعات و شواہد میں قبول کی جاتی ہے ،ان میں سے کسی (راوی) سے موافق روایت آجائے تو مذکورہ دونوں احتمالات میں سے ایک جانب (درستی) کو ترجیح حاصل ہو جائے گی اور معلوم ہو جائے گا کہ حدیث محفوظ ہے یوں یہ توقف کےدرجے سے بلند ہو کر قبولیت کے درجے تک پہنچ جائے گی
ہاں قبولیت کے درجے تک پہنچنے کے باوجود بھی یہ حدیث حسن لذاتہ کے مرتبے سے کم رہے گی ، بسا اوقات بعض محدثین نے اسے حسن کا نام دینے سے بھی توقف کیا ہے
(یعنی یہ حسن لغیرہ ہوگی حسن لذاتہ نہ ہوگی جو کہ اکثر حسن سے مراد حسن لذاتہ ہوتا ہے )
[نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر الامام ابن حجر عسقلانی ، ص ۲۳۴]

اس تحقیق سے یہ معلوم ہو گیا کہ یہ روایت دو طریق ملنے کی وجہ سے حسن لغیرہ ہے اور مقبولیت کے درجے کو پہنچ چکی ہے جیسا کہ امام ابن حجر عسقلانی نے بیان کیا ہے
اور دیگر محدثین نے اس روایت کو بطور حسن ہی بیان کیا ہے جیسا کہ :

امام محمد بن یوسف الصالحی الشامی (المتوفى: 942هـ)  حضرت ابو  ایوب انصاری کی مذکورہ  روایت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

وروى الإمام أحمد- بسند حسن-، وأبو الحسن يحيى بن الحسن بن جعفر بن عبد الله الخشني في «أخبار المدينة» عن داود بن أبي صالح قال: أقبل مروان يوما الخ۔۔۔۔۔
کہ امام احمد باسند حسن بیان کرتے ہیں ۔۔۔
[سبل الهدى والرشاد، في سيرة خير العباد، جلد ۱۲ ، ص ۳۹۸]

اسی طرح امام سمہودی (المتوفی ۹۱۱ھ) حضرت ابو ایوب انصاری کی روایت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

قلت رواه أحمد بسند حسن ولفظه أقبل مروان يوما فوجد رجلا
میں کہتا ہوں امام احمد نے روایت کیا ہے بسند حسن اور جس کے الفاظ ہیں الخ۔۔۔
[خلاصة الوفا بأخبار دار المصطفى ، جلد ۱ ، ص ۴۵۷]

اب آتے ہیں  حضرت ابو ایوب انصاری سے مروی روایت کے متن کی طرف!!!!

ہم دونوں روایات کے متن بیان کرتے ہیں اور اس سے ثابت کرتے ہیں کہ یہ دونوں متن ایک دوسرے کو شاہد کے طور پر تقویت دے رہے ہیں ۔۔
داود بن صالح سے مروی روایت کا متن یوں ہے :
”مروان نے ایک دن (نبی کریم ﷺ کی قبر پر) آ کر دیکھا کہ ایک آدمی نے اپنا چہرہ قبر ِ مبارک پر رکھا ہوا تھا، مروان نے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کیا کر ر ہےہیں؟آگے ہو کر دیکھا تووہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے جواب دیا: ہاں میں جانتا ہوں ، میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیابلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آیا ہوں اورمیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا تھا:
”جب دین کے وارث اہل اور مستحق لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا ، جب نااہل لوگ اس کے وارث بن جائیں گے۔“
اس روایت میں تصریحا الفاظ ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری نے چہرہ نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک پر رکھا ہوا تھا جو وجہ طعن بنا مروان کی نظر میں ۔۔۔۔
اب جو متن موصوف نے مقدم کیا وہ درج ذیل ہے :
ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ (رسول اللہ ﷺ کی قبر پر) سلام پیش کرنے کے لیے تشریف لائےکہ اسی اثناء میں مروان نے آکر ان کوگردن سے پکڑ کر کہا: آپ کو پتا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟فرمایا: ہاں مجھے پورا ادراک ہے ،میں کسی ویرانے میں یا پتھر کے پاس نہیں آیا، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ہوں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا:
”جب دین کے وارث اہل لوگ ہوں تو تم دین پر مت رونا، البتہ تم دین پر اس وقت رونا ، جب نااہل لوگ اس کے وارث بن جائیں گے۔“
متن پر تبصرہ!!!
اس روایت کا متن مختصر ہے لیکن جناب نے جو متن میں علت پیش کرنے کی کوشش کی ہے بہت فصول کوشش کی ہے
کیونکہ روایت میں تصریح ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک پر سلام پیش کرنے آئے تھے ۔
کیا نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک پر سلام پیش کرنا کوئی قابل طعن امر ہے جسکی وجہ سے مروان انکو گردن سے پکڑ لیتا ؟
جیسا کہ حضرت ابن عمر کا یہی معمول تھا کہ نبی اکرم ﷺ کی قبر پر سلا م پڑھتے تھے ۔۔ اور حضرت عائشہ ؓ نبی اکرم کی قبر مبارک پر جاتی تھیں ۔ بلکہ یہ تو سنت رسولﷺ اور حکم رسولﷺ تھا
جبکہ اسی روایت کے متن میں یہ الفاظ ہیں کہ :
اسی اثناء میں مروان نے آکر ان کوگردن سے پکڑ کر کہا: آپ کو پتا ہے کہ آپ کیا کر رہے
اس میں یہ تصریح تو ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری جب نبی اکرم ﷺ کی قبر مبارک پر آکر اثناء کر رہے تھے تو اسی دوران مروان نے انکو گردن سے پکڑا
(اہم نکتہ)
مروان نے گرد ن سے کیوں پکڑا ؟ اور حضرت ابو ایوب انصاری اثناء تو پڑھ رہے تھے لیکن انہوں نے اپنا چہرا گردن سمیت کہاں رکھا تھا ؟ کہ مروان نے گردن سے پکڑ کر ان سے کہا کہ آپؓ یہ کیا کر رہے ہیں ؟
یہ متن تو پوری طرح متابعت کے طورپر تقویت دے رہا ہے داود بن صالح سے مروی روایت کے کہ انکاچہرا مبارک قبر پر تھا جس پر نکارت کی تھی مروان نے ۔۔۔۔
اور یہی اصح موقف ہے وگرنہ موصوف کو یہ ماننا پڑے گا کہ مروان قبر رسولﷺ کی زیارت اور انکو سلام کہنے کا منکر تھا ۔۔
جبکہ نبی اکرم تو رات کے پچھلے پہر اصحاب کی قبول پر جا کر دعا بھی کرتے اور ان سے ہم کلام بھی ہوتے اور حضر۔ عائشہ نے جب نبی اکرم کو فرمایا تھا کہ جب میں قبر ستان جایا کروں تو اہل قبول سے کیسے مخاطب ہوا کروں ؟ تو نبی اکرمﷺ نے انکو دعا سکھلائی اور سلام کا طریقہ بھی۔
تو معلوم ہوا یہ امر تو متفقہ علیہ ثابت ہے لیکن مروان کا اعظیم صحابی رسولﷺ کی گردن سے پکڑ لینا اس امر کی لیل ہے بطور شاہد کے انکا چہرا مبارک نبی انورﷺ کی قبر مبارک پر تھا۔

اور اگر وہابیہ حسن لغیرہ کے منکر بن جائیں تو اسکا دروازہ بھی بن کر دیتے ہیں
جیسا کہ غیر مقلدین کے عصر حاضر محدث اثری صاحب انکا مضمون اختصار کے ساتھ ہم کرتے ہیں:
محدثین نے راویان کی ثقاہت اور دیگر قرائن کے پیش نظر مقبول حدیث کے چار درجات بنائے ہیں ۔ جنہیں درج ذیل صورتوں
میں منقسم کیا جاتا ہے
  • )1صحیح لذاتہ

  • )2حسن لذاتہ

  • )3صحیح لغیرہ

  • )4حسن لغیرہ

حسن لغیرہ کی دوصورتیں ہیں :
ضیعف حدیث کی ایک سے زائد سندیں ہو ، ان میں سبب ضعف راوی کا سوءحفظ ، مستور ، اختلاط ، ارسال وغیرہ ہو اور وجہ ضعف راوی کا
فسق یا جھوٹ کا الزام نہ ہو ، بشرط کہ اس کی دوسری سندیں ضعف میں اس جیسی یا اس سے مستحکم ہوں
یا کوئی ضعیف شاہد یا شواہد اسکے مئوید ہوں
کچھ صفحات آگے جا کر اثری صاحب لکھتے ہیں :
بعض انتہائی غیر محتاط لوگ یہ رویہ اپناتے ہیں کہ ان کے نزدیک ضعیف حدیث+ضعیف حدیث کی مطلق طور پر کوئی حیثیت نہیں ،
خواہ اس حدیث کے ضعف کا احتمال بھی رفع ہو جائے ۔ بزعم خویشحدیث اور اسکے علوم کے بارے میں ان کی معلومات امام ترمذی،
امامبیھقی،حافظعراقی،حافظ ابن حجروغیرہ سےزیادہ ہے
اس مضمون کی تفصیل کے لیے دیکھیے
[مقالات اثریہ ص57حسن لغیرہ]
اور یہی منہج غیر مقلدین کے محدث البانی صاحب کا بھی تھا!!!
تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے